مدارس کیخلاف دہشتگردی کے پروپیگنڈے دم توڑچکے ہیں ، مفتی نعیم

مدارس کیخلاف دہشتگردی کے پروپیگنڈے دم توڑچکے ہیں ، مفتی نعیم

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) وفاق المدارس العرابیہ پاکستان کے صوبائی مسؤلین کا اجلاس اتوار کو جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم کی زیر صدارت جامعہ بنوریہ عالمیہ میں منعقد کیاگیا اجلاس میں مولاناابرہیم سکرگاہی،مولانا غلام رسول، مولانا منظور احمد،مولاناعبیداللہ چترالی،مولاناسیف اللہ ربانی مولانا اکرام الرحمن،مولانااعجازوسمیت دیگر علماء کرام نے شرکت کی اجلاس میں گزشتہ روز مجلس عاملہ کے اجلاس میں ال پارٹیز کانفرنس ،مسائل کے حل کے لیے صوبائی سطح پر کمیٹیوں کی تشکیل ۔29جنوری کو کنونشن سنیٹر اسلام آباد میں تقسیم انعامات کی تقریب سمیت ہونے والے دیگر فیصلوں پر عمل درآمد کیلئے مشاورت کی گئی ، اجلاس میں شریک صوبائی مسؤلین نے اپنے اپنے علاقوں کے مدارس کی مشکلات کے حوالے سے تفصیلات بھی اجلاس کے سامنے رکھنے کے ساتھ 16نومبر2016 کومدارس کے طلبا عوم الناس کو تکلیف دئے بغیرایک دن سڑکوں پر درس وتدریس کے انتظامات کوحتمی شکل دیدی گئی اور مجلس عاملہ کے اجلاس کی روشنی میں ہونے والے فیصلوں کے مطابق وفاق المدارس کے تحت اسکول سسٹم متعارف کرانے اور دینی مدارس میں میٹرک تک عصری مضامین کو بتدریج لازمی قرار دینے کے فیصلوں کی توثیق کی گئی ، معلمین اور امتحانی عملے کی تربیت کے حوالے سے ترتیب وضع کی گئی ہے ، صوبائی سطح پر میڈیا سینٹر قائم کرنے کیلئے مشاورت کی کی گئی ۔اس موقع پر اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے رئیس شیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے کہاکہ وفاق المدارس العرابیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے گا،انہوں نے کہاکہ مدارس میں اصلاحات کا سلسلہ آج کا نہیں بلکہ شروع سے ہی وقت کے ساتھ نصاب اور طریقہ تعلیم میں تبدیلیاں لاتے رہے ہیں وقت اور حالات سے نصاب کو ہم آہنگ کرنے کیلئے وفاق المدارس نے ہمیشہ کوششیں کی ہیں ، انہوں نے کہاکہ اسلام آبادمیں 29جنوری 2017کو اسلام آباد کنونشن سنیٹر میں تقسیم انعامات کی تقریب کا انعقاد کیاجائے گا، اور16نومبر2016 کومدارس کے طلبا عوم الناس کو تکلیف دئے بغیرایک دن سڑکوں پر درس وتدریس کا اہتمام کریں گے اور ملکی استحکام وترقی کے لیے یوم دعا کے طور پر منایا جائے گا۔اجلاس میں موجود علماء کرام نے کراچی میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہشتگردوں کیخلاف بلاتفریق کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشتگرد شہر میں مذہبی منافرت پھیلانے میں سرگرم ہیں حکومت بلاامتیاز کاروائیاں کرے اور دہشتگردی میں ملوث عناصر کو نشان عبرت بنایاجائے ۔علماء کرام نے کہاکہ اہل مدارس نے دہشتگردی کیخلاف قانون نافذکرنیو الے اداروں کے ساتھ ہمیشہ سے مکمل تعاون کیاہے اور اپنا قومی فریضہ سمجتھے ہیں تاہم حکومتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ہمیں دیوار سے لگانے کے بجائے کسی بھی قانون یا کوئی بھی اقدام سے قبل مدارس کے متعلقہ بورڈ کو اعتماد میں لیکر فیصلے کریں، دہشتگردی کا پروپیگنڈہ اب دم توڑ چکاہے اور یہ ثابت ہوچکاہے کہ مدارس ملک میں امن وآشنی کے فروغ کی درسگائیں ہیں۔

مر و نے حیدرآباد میں مختلف طبقہ بہا ئے فکر ے سے تعلق رکھنے والے وفود سے با تیں کر تے ہو ئے کہا کہ وفا قی حکومت کی غلط پا ننگ اور غلط پا لیسیو ں کے با عث یہ ملک صنعتی اور معا شی طو ر پر تبا ہ ہو رہا ہے طا قت کا سر چشمہ عوام ہیں جو بلا ول بھٹو زرداری کے ایک اشارے کے منتظر ہیں اگر چہ بلا ول بھٹو زرداری نے عوام کو جمہو ریت د شمن عنا صر وں کے خلاف روڈ وں پر آنے کیلئے آوازدی تو پھر اس ملک کے غیور عوام وفاقی حکومت کا گھیر اتنگ کر کے انہیں اقتدار سے با ہر نکا ل پھینکیں گے انہو ں نے کہا کہ پنجا ب میں روزانہ کئی لو گ دہشت گر دی کا شکا ر بنتے ہیں وہا ں اغو اء ڈ کیتیا ں اور لو گو ں کے ساتھ زیادتیا ں روز کا معمو ل بن چکی ہیں سعد رفیق پہلے اپنے گر یبا ن میں دیکھیں اور پنجا ب کو سنبھا لیں وہ سندھ کی فکر چھو ڑ دیں انہو ں نے کہا کہ سندھ سمیت کر اچی میں بحا ل شد ہ امن و اما ن خر اب کر نے والے عوام دشمن عنا صر وں کو کسی بھی صورت میں بخشش نہیں کر یں گے حکومت سندھ اپنی اعلیٰ کا ر کر دگی کے با عث دہشت گر دوں کو کیفر کر دار تک پہنچا کر سندھ سمیت کر اچی کا امن بحا ل کر کے کر اچی کو دوبا رہ رشنیو ں کا شہر بنا دیا ہے اور انشا ء اللہ آئند ہ بھی ثا بت قد م ر ہیں گے ۔ الحمزہ پر اندرونِ سندھ سے آئے اساتذہ کے وفد سے ملاقات کی اور کہ کراچی میں حالیہ دہشت گردی نے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان اٹھادئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا کراچی میں قائم ہونے والا امن وقتی ہے یاقوم کو گمرہ کرنے کے لئے دہشت گردوں نے خود ہی اپنی کارروئیاں محدود کردی ہے ،یا دہشت گردوں کی سفاکانہ اور وحشیانہ کارروائی کراچی کی عوام کے لئے کوئی پیغام تو نہیںیہ سب وہ سوالات ہے جنکا جواب تلاش کرنا حکومتی اداروں سمیت سیکورٹی اداروں کی زمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کی لہر فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور کراچی میں قائم امن وامان کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے جس کے سدِباب کے لئے موثر اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں کرپشن اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں نے ملک دشمن قوتوں کے عزائم خاک میں ملادئیے ہیں جبکہ دہشت گردوں کی حمایت یا حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف فوری اور موثر کاروائی کرنا وقت کی اشدضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ملک کے لئے بڑاچیلنج اور ملک کے امن کے لیے خطرہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے تمام سیاسی،مذہبی جماعتوں کی مشاورت سے قوانین بنانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومتی اداروں سے اپیل کرتے ہیں،کسی بڑے سانحہ کا انتظار کئے بغیر دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کا دائرہ اندرونِ سندھ اور پنجاب تک پھیلانے کی ضرورت ہے جس سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بزدلانہ کارروائیوں کا مقصد کراچی کی عوام میں عدم تحفظ اور خوف کااحساس پیدا کرنا ہے جس سے قوم اچھی طرح واقف ہے جبکہ اس طرح کے اقدامات سے قوم میں یکجہتی اور اتحاد میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...