عدل وا نصاف کی بالادستی اسلامی ثقافت کا حصہ ہے‘ محمد اسلم

عدل وا نصاف کی بالادستی اسلامی ثقافت کا حصہ ہے‘ محمد اسلم

راجن پور( ڈسٹرکٹ رپورٹر) قانون کی حکمرانی کا تصور ہمارے نبی کریم ؐ کے آخری خطبہ میں ملتا ہے ۔عدل کرنے والا تقو یٰ کے قریب ہوتا ہے اور تقویٰ کرنے والا اللہ کے نزدیک ہو جاتا ہے۔عدل و انصاف کی بالا دستی اسلامی ثقافت کا حصہ ہے ۔معاشرے میں امن و امان کو قائم رکھنا (بقیہ نمبر9صفحہ12پر )

معاشرے میں رہنے والے ہر فرد کی ذمہ داری ہے ۔ہم سب ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔انصاف ایسا ہو کہ ہر شخص کو نظر آئے۔ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اسلم نے لاہور ہائی کورٹ کی 150ویں سالگرہ ، عدلیہ کی خدمات اور قانون کی حکمرانی کے سلسلے میں منعقدہ کانفرنس سے دربار عظیم صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید ؒ پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو عد ل کے ساتھ فیصلہ کرو۔عدل کی معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مقام پر رکھ دیناعدل ہے اور اس مقام پر نہ رکھنا ظلم ہے۔عدل و انصاف کی سب سے زیادہ رہنمائی ہمارے نبی کریم ﷺ سے ملتی ہے۔ہر شخص اس چیز کا پابند ہے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرے سوسائٹی اس طرح بنتی ہے کہ ہر شخص اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے۔اس موقع پر سینئر سول جج چوہدری ماجد گادی،سول جج مرید عباس،ڈاکٹر شکیل پتافی،صباء زہرا اورمحمد حسین فریدی نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام سے آگاہی اور انصاف کی فراہمی کے لئے ایسے سیمینار ہونے چاہیں۔انصاف اس وقت کی ضرورت ہے ۔اگر کوئی جرم کرتا ہے تو اسے سزا ہونی چاہئے۔قانون بنانے کابنیادی مقصد انصاف قائم کرنا ہے۔سول سوسائٹی کی یہ ذمہ داری ہے کہ ظالم کو ظلم سے منع کرے۔بعد ازاں اس موقع پر شیلڈ اور تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔اس تقریب میں ایڈیشنل سیشن جج محمد کاشف،سول جج ریحان سبطین ،سول جج برکت علی، سول جج مرزا نعیم بیگ،سول جج نعمان ارشد،سول جج غلام جابر کے علاوہ اے ڈی سی محمد طارق نیازی، اے سی راجن پور محمد شاہد،کمانڈنٹ بی ایم پی عمران منیر،خواجہ کلیم الدین کوریجہ،خواجہ عامر کوریجہ ،زاہدہ عقیل،وکلاء ،نذیر سکھانی،ڈی ایس پی آصف رشید،نوید انجم ،چوہدری نور اور دیگر معززین شہر نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...