کمانڈو شہید،کیپٹن سلمان فاروق لودھی

کمانڈو شہید،کیپٹن سلمان فاروق لودھی
کمانڈو شہید،کیپٹن سلمان فاروق لودھی

  


بلاگ۔بشریٰ ملک

پاک فوج تاریخ کی مشکل ترین جنگ لڑرہی اور دنیا بھر کی افواج کوا پنی بے مثال جرا¿ت اور مہارت سے حیران کررہی ہے کہ اس غیر روائتی جنگ میں دشمن پر کیسے غلبہ پاکر اپنے ملک اور قوم کا تحفظ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔دہشت گردی کی اس جنگ میں پاک فوج انتہائی پیشہ وارانہ خوبیاں رکھنے والے فوجی افسروں کی قربانیاں دے چکی ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاک فوج کا مقابلہ درحقیقت پاکستان مخالف ایجنسیوں کے” سپانسرڈجہاد “کے تربیت یافتہ دہشت گردوں سے ہورہا ہے جو اپنے اپنے نظریات کو اسلام کا نام دیکرقوم کو قبیلوں اور فرقوں میں بانٹ کر قتل کررہے ہیں اورپاک فوج اور دیگر ادارے انکی ہٹ لسٹ پر ہیں۔

لال مسجد پر سرخ دائرہ کھینچا جانے سے پہلے سیاسی اور عسکری قوتوں نے مذاکرات کے ذریعے اسکی انتظامیہ کو معاملات درست کرنے کا موقع دیا تھا لیکن لال مسجد نے سٹیٹ کی رٹ کو چیلنج کردیا تو یہاں فوج کے کمانڈوز کو آپریشن کرنا پڑااور مسجد میں محبوس کئے ہوئے طالبعلموں کے ساتھ ساتھ فوج کے انتہائی قیمتی افسر بھی دھوکے سے شہید کردئے گئے۔یہ وہ افسران تھے جن کی دشمن پر دھاک قائم تھی اور انہوں نے سرحدوں اور قومی سلامتی و امن کی حفاظت کرتے ہوئے دشمنان پاکستان کو ابدی نیند سلایا تھا ۔ لیکن دشمنان پاکستان نے ملک کے اندر ایسے محاذ کھلوادئےے جو اپنے مخصوص نظریات کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرکے نفرت کا بیج بورہے اورفوج کی کسی تنبیہ کو خاطر میں نہیں لارہے تھے۔ان حالات میں جب فوج کے ساتھ چومکھی اور دوبدو لڑائی ہوئی تو امن اور رٹ کی خاطر پاک فوج کے کئی نامور اور بہادر کمانڈوز کو جان کی بازی ہار نا پڑی۔ ایسا ہی ایک واقعہ لال مسجد میں ہوا تھا۔

اسلام آباد کے قلب میں آبپارہ کے علاقہ میں واقع لال مسجد 1965 میں تعمیر کی گئی تھی ۔اس کے قریب وزات ماحولیات اور وزارت مذہبی امور کی عمارتوں کے علاوہ ایک عالی شان ہوٹل بھی واقع ہے۔لیکن اسکی ایک اہمیت کا ایک اندازہ یہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا صدر دفتر مسجد سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔2001ءمیں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد یہاں سے طالبان کی حمائت میں جلوس نکالا گیا توحکومت نے لال مسجد کی سرگرمیوں پر منتظمین کو خبردار کیا لیکن 2007 میں لا ل مسجد کی کارروائیاں تیز ہوگئیںاورمسجد سے متصل مدرسے کی طالبات نے مبینہ غیر قانونی مساجد کے انہدام کے جواب میں بچوں کی لائبریری پر قبضہ کرلیا۔اس دوران لال مسجد اور کچھ جامعہ فریدیہ کے طلباءنے وڈیو دوکانوں کے چکر لگانے شروع کردئیے۔لٹھ بازی کی تربیت شروع ہوگئی اور طالبات نے کمانڈو ایکشن کرکے تین عورتوں اور دو پولیس والوں کو پکڑ لیا۔ حکومت نے اس مرتبہ بھی مسجد اور مدرسے کی جانب سے پیش کردہ شرائط پر سمجھوتہ کرلیا۔اس سے مزید حوصلے بڑھے اور پھر نہ صرف شرعی عدالت قائم ہوگئی بلکہ حکومت اور لوگوں کو تائب ہونے اور نفاذ شریعت کا بھی الٹی میٹم مل گیا۔ لال مسجد کے طلبانے کئی بار لوگوں کو یرغمال بنایا ۔

بی بی سی کے مطابق 18 مئی 2007 کو انھوں نے چار پولیس والوں کو قابو کر کے لال مسجد میں بند کر دیا 23 جون 2007ءکو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے طلبا اور طالبات نے کچھ چینیوں کو مارا پیٹا اور اغوا کر کے لال مسجد کے اندر لے گئے۔ جس کے بعد لال مسجد نے حکومتی رٹ کو چینج کردیا اور پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہونے لگی کہ پاکستان کا حساس ترین شہر اور دارالحکومت طالبان کے قبضہ میں آگیا ہے۔اس موقع پر حکومت نے مذاکرات کی مدد سے مسجد کو خالی کرانے اور اسکی سرگرمیوں کو ختم کرنے کی کوششیں کرڈالیں تو ناکامی کے بعد فوج نے کمانڈو آپریشن کا اعلان کردیا جس پر مسجد کے اندر سےبھاری اسلحہ سے لیس افراد نے کمانڈوز پر فائرنگ کرکے باقاعدہ محاذکھول دیا جس سے پاک فوج کے کمانڈو کرنل ہارون شہید ہوگئے ۔ان کے بعد کیپٹن سلمان فاروق شہید کو لال مسجد کو کلئیر کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔کرنل ہارون کی شہادت کے بعد فوج نے انتقامی کارروائی کی بجائے صلح جوئی کا راستہ اختیار کیا کیونکہ مسجد میں بہت سے معصوم لوگ موجود تھے لہذاغازی کیپٹن سلمان فاروق نے انکو حفاظت سے باہر لانے کا پلان بنایاتھا۔

غازی کیپٹن سلمان فاروق لودھی نے شہید کا درجہ حاصل کرنے سے پہلے کئی معرکے سرکرکے پاک فوج کا سر فخر سے بلند کردیا تھا۔وہ انتہائی نفیس اور ہمدرد انسان تھے۔قرآن شریف کا مطالعہ کرنا انکی روزمرہ مصروفیات میں شامل تھا۔ تفہیم القران کا بھی باقاعدگی سے مطالعہ کرتے تھے۔ کیپٹن سلمان فاروق لودھی کابہاولپورسے تعلق تھا۔ گریجویشن کے بعد انہیں آرمی ائیر ڈیفنس میں تعینات کیا گیا لیکن اپنی مہم جو طبیعت کی وجہ سے انہوں نے 2003ء میں ایس ایس جی جوائن کر لی۔ انہیں اپنی بہادری کی بدولت پہلا ایوارڈ جنوبی وزیرستان میں کامیابی سے ڈیوٹی دیتے ہوئے ملا۔ انہیں ’قرار حیدری‘ میں تعینات کیا گیا اور ’المیزان آپریشن‘ میں کامیابی کی بدولت انہیں 2004ءمیں ’تمغہ بسالت‘ دیا گیا۔کیپٹن سلمان نے لال مسجد آپریشن میں ڈیوٹی کے دوران 10 جولائی 2007ءکو شہادت پائی۔ شہادت کے وقت ان کی عمر30 سال تھی جبکہ ان کا پہلا بیٹا ان کی شہادت کے چار ماہ بعد پیدا ہوا۔

کرنل ہارون شہادت کے بعد جب کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید کو یہ فرض سونپا گیا تو انہوں نے مسجد کے اندر محبوس کی گئی طالبات اور بچوں کو حفاظت سے نکالنے کی تدابیر اختیار کی اور اسکے لئے ایک ٹیم بنائی گئی ۔یہ ٹیم کیپٹن سلمان فاروق شہید کی قیادت میں ریسکیو کررہی تھی۔وہ مذاکرات کے بعد نہایت امن سے اپنی نگرانی میں طالبات اور بچوں کو لیکر باہر آرہے تھے کہ اچانک برقعہ پوش دہشت گردوں نے انہیں قریب سے گولیاں ماردیں اور ساتھ ہی چاروں جانب سے ان پر گولیوں کی برسات کردی گئی۔بہت سی گولیاں انکے سر پر لگیں اور وہ شہید ہوگئے۔برقعہ پوش دہشت گرد، عورتوں کے روپ دھار کر پاک فوج کے کمانڈوز پر فائرنگ کرتے رہے۔لال مسجد کے واقعہ پر یہ بات بعدازاں کھل کر سامنے آگئی تھی کہ بہت سے دہشت گردوں نے برقعے اوڑھ کر معصوم طالبات اور بچوں کو اپنی ڈھال بنالیا تھا اور پاک فوج کے کمانڈوزپر حملے کئے تھے۔حالانکہ یہ کمانڈوز معصوم بچوں اور طالبات کو بحفاظت وہاں سے نکالنا چاہتے تھے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...