کیا ملک کوگو مگو کی کیفیت میں چھوڑ دینا چاہئے

کیا ملک کوگو مگو کی کیفیت میں چھوڑ دینا چاہئے
کیا ملک کوگو مگو کی کیفیت میں چھوڑ دینا چاہئے

  


آپ لوگ اِس بات سے اتفا ق کرینگے کہ دونومبرکے د ھرنے کے سلسلے میں کے پی۔ کے۔ پی ،کے وزیر اعلیٰ کی شخصیت بطور ایک لیڈر اور قائد کے مزیدنکھر کے سامنے آئی ہے۔ انہوں نے اپنے عزم اور صلاحتیوں کا لوہا ہر کس و ناکس سے منوایا ہے۔ انہوںنے جس بُردباری سے اپنے لیڈر کی حمائت میں جُر ات اور وفاداری کا مظاہرہ کیا ہے، وُہ قابِل ستائش ہے۔ حتی ٰ کہ عمران خانصاحب نے خود یوم تشکر کے موقعہ پر اُنکا والہانہ انداز میں استقبال کرکے فراخدلی کی مثالی قایم کی ہے۔ جو کہ تمام سیاسی لوگوں کے لئے ایک نمونہ ہونی چاہئے۔ ورنہ یہ بات عام دیکھنے میں آئی ہے کہ ایک لیڈر دوسرے کی تعریف کرنے کی بجائے اُسکی مقبولیت سے حسد کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اور قیادت کرنے والے لیڈر کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ مذکورہ شخص کو عوام کی نظر سے نیچے گرانے کے جتن کئے جائیں۔ پرویز خٹک صاحب کو یہ بھی کریڈت جاتا ہے کہ انہوں نے وفاق اور حکومت پنجاب سے قانونی جنگ لڑے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سی پیک کے سلسلے میں وفاقی حکومت سے اپنے صوبے کا جائیز حق لینے کے لئے بھی عدالت میں درخو است دے دی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی چھوٹے صوبے کے وزیر اعلیٰ نے اپنے صوبے کے حقوق حاصل کرنے کے لئے وفاق کو عدالت میں گھسیٹا ہو یا مُلک کے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ ، وفاقی وزیرِ داخلہ آئی جی پولیس کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہو۔ حالانکہ وُہ اِس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ حکمران جماعت، جمعیت (ف) گروپ کے ساتھ مِل کر صوبائی اسمبلی میں پرویز خٹک کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لا سکتی ہے یا پھر کسی بہانے بھی گورنر راج لانے کا عُذر تراش سکتی ہے۔ لیکن پرویز خٹک نے اپنے لیڈر سے وفاداری نبھانے کے لئے اپنی عہدے اور ذاتی وقار کو بھی داﺅ پر لگا دیا ہے۔ وفا قی حکومت گو کہ اپنی کمزوری کا اظہار نہیں کرنا چاہتی پھر بھی پس، پردہ حکومت کے جانب سے مُسلم لگی کے لائرز کو اُکسایا گیا ہے کہ وُہ پرویز خٹک کو روکنے کے لئے جوابی دعویٰ عدالت میں جمع کر وائیں۔ تاکہ پرویز خٹک کے دعویٰ کے اثرات کو زائل کیا جا سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پرویز خٹک کی یہ سعی رندانہ ضرور رنگ لائے گی اور عدالت انصاف کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صوبہ پختونخواہ کے عوام کو سی پیک میں اُنکا جا ئیز حق دے گی۔ اِس کے علاوہ دوسرے صوبے کے عوام کو روکنے کی پاداش میں ایسے احکامات صادر فر ما ئے گی جس کی بنا پر کسی بھی مُلک کے شہری کو پُر امن مظاہرہ کرنے سے روکا نہیں جا سکے گے۔

وفاقی حکومت نے طاقت کا بے جا استعمال کرکے دوسرے صوبے کے عوام کی تحقیر کی ہے۔ اُنکے جمہوری حق کو سلب کیا۔ پرویز خٹک اور اُنکے ساتھی پہلی نومبر کو دھرنے میں حصے لینے کے لئے آ رہے تھے۔ اُس وقت تک انہوں نے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ حکومت نے اپنے طور پر ہی فرض کر لیا تھا کہ وُہ اسلام آباد بند کرنے کے لئے آ رہے ہیں جبکہ پروزیر خٹک اور اُ نکے دوستوں کا موقف تھا کہ وُہ اپنے لیڈر سے ملنے اسلام آباد جا رہے ہیں۔ اُن پر گیس سے شیلنگ کرنا، لا ٹھی چارج کرنا ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی فعل ہے۔ وفاق کسی بھی صوبے کے عوام پر راستے بند کرنے کا آ ئینی حق نہیں رکھتا۔ وفاقی حکومت کے اِس عمل سے چھوٹے صوبوںمیں احساسِ محرومی اور بڑھا ہے۔ جو کہ قومی اتحاد کے لئے سُمِ قاتل سے کم نہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ سی پیک پر کامیابی سے عمل درآمد ہو تو اِسکی پہلی شرط یہ ہے کہ مُلک میں امن و امان قایم ہو۔ کے پی کے عوام کے مُفادات کو پُشت ڈال کر ہم مُلک میں استحکام نہیں لا سکتے۔ یہ بات وزیر اعظم کے قریبی ساتھی اور اتحادی اسفند ولی یار بھی تسلیم کرتے ہیں کہ کے پی کے کو سی پیک کے حوالے سے قربانی کا بکرا بنا یا گیا۔ انہوں نے چند روز پہلے اخباری بیان دیا تھا کہ اگر پی ٹی آئی سی پیک کے سلسلہ میں دھرنا دے تو وہ اُنکی پارٹی پی ٹی آئی کا ساتھ دے گی۔ جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وفاق چھوٹے صوبوں کو ا ن کے جائز حقوق دینے میں ناکام رہی ہے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...