چائلڈپروٹیکشن بیورو نے رواں سال میں اب تک 5ہزار سے زائد بچوں کو والدین کے حوالے کیا

چائلڈپروٹیکشن بیورو نے رواں سال میں اب تک 5ہزار سے زائد بچوں کو والدین کے ...
چائلڈپروٹیکشن بیورو نے رواں سال میں اب تک 5ہزار سے زائد بچوں کو والدین کے حوالے کیا

  


لاہور ( این این آئی) چیئر پرسن چائلڈپروٹیکشن بیورو صبا صادق کی ہدایت پر بیورو کی فیملی ٹریسنگ ٹیم کی جانب سے گمشدہ اور گھر سے بھاگے بچوں کے لواحقین کی تلاش کا کام جاری ہے۔رواں سال میں یکم جنوری سے اب تک بیورو کی فیملی ٹریسنگ ٹیم نے 5ہزار سے زائد بچوں کو والدین کے حوالے کیا۔

چائلڈپروٹیکشن بیورو لاہور میں مقیم چند بچے ایسے ہیں جن کے والدین کے بارے میں ابھی تک نہیں پتہ چل سکا۔ان بچوں میں شاہدرہ کی رہائشی 9سالہ بچی خدیجہ ہے جو 2013ء سے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں مقیم ہے۔ بچی کے مطابق وہ گھر کا راستہ بھول گئی اور اس کو گھر کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔اس کی چار بہنیں اور تین بھائی ہیں ۔ایک اور بچی جس کا نام عائشہ ہے اور وہ 2008ء سے چائلڈ پروٹیکشن بیورو لاہور میں مقیم ہے۔ بچی کے مطابق وہ کسی گھر میں ملازمہ تھی اور مالکن کی مارپیٹ سے گھر سے بھاگ گئی لیکن اس کو اپنے گھر یا اپنے والدین کے بارے میں بالکل بھی یاد نہیں۔

ٹیلی نار نے پاکستان کے بڑے سکول چین کے ساتھ مل کر عالمی ریکارڈ بنا ڈالا، کیا کارنامہ سرانجام دیا؟ جاننے کیلئے یہاں کلک کریں‎‎

عائشہ کے مطابق اس کا ایک بھائی ہے لیکن والدین کا نام یا پتہ یاد نہیں۔سات سالہ صبا چائلڈ پروٹیکشن بیورو لاہور میں 2011ء سے مقیم ہے جو بیورو کی ٹیم کو گمشدہ حالت میں بادشاہی مسجد کے پاس سے ملی تھی۔ بچی کے مطابق اس کا باپ نان چنے بیچتا تھا۔ اس کی والدہ کانام سلیمہ ہے اور بچی کی ایک بہن اور دو بھائی ہیں۔ چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو صبا صادق کے مطابق بیورو کی فیملی ٹریسنگ ٹیم کی بدولت بڑی تعداد میں گھر سے بھاگے اور گمشدہ بچوں کو والدین تک پہنچایا جا چکا ہے اور والدین گمشدہ بچوں کی تلاش میں چائلڈ ہیلپ لائن 1121پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید : لاہور


loading...