چند سال قبل برطانیہ جانے والا یہ خاندان مر تد ہوگیا، اب یہ کہاں اور کس حال میں ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

چند سال قبل برطانیہ جانے والا یہ خاندان مر تد ہوگیا، اب یہ کہاں اور کس حال میں ...
چند سال قبل برطانیہ جانے والا یہ خاندان مر تد ہوگیا، اب یہ کہاں اور کس حال میں ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)غیرمذہب لوگ مسلمانوں کے درمیان بخوبی رہ سکتے ہیں اور ان سے مسلمان حسن سلوک روا رکھتے ہیں تاہم کسی مرتد ہوجانے والے کے لئے برداشت کا رویہ کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ ایسا ہی کچھ 20سال قبل برطانیہ جا کرمرتد ہو جانے والے اس خاندان کے ساتھ ہوا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 45سالہ نثار حسین اور اس کی 49سالہ بیوی کبریٰ برطانیہ پہنچنے کے بعد بریڈفورڈ میں مقیم ہوئے۔ جس جگہ وہ رہائش پذیر تھے وہاں مسلمانوں کی کافی آبادی تھ۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنے بچوں کے ہمراہ اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لی۔ کئی سال تک ان کا یہ اقدام خفیہ رہا اور سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا۔ لیکن 5سال قبل ایک ٹی وی چینل نے ان پر ڈاکومنٹری فلم بنائی اور نشر کر دی۔ اس کے بعد ان کے برے دن شروع ہو گئے۔

وہ ملک جہاں رشتے داروں کی عمر زیادہ جائے تو انہیں خود کشی پر مجبور کیا جاتا ہے کیونکہ۔۔۔

علاقے کے مسلمان ان سے شدید نفرت کرنے لگے۔ پھر ایک روز ان پر حملہ ہو گیا اور انہیں کچھ مسلمانوں نے گھر چھوڑ کر جانے پر مجبور کر دیا۔ تاہم پولیس کی مداخلت پر وہ دوبارہ گھر واپس آ گئے۔ گزشتہ دنوں جب نثار حسین اپنے اہلخانہ کے ساتھ گاڑی میں جا رہا تھا، دو مسلمانوں نے پھر ان پر حملہ کر دیا، نثار حسین کا ایک بازو اور ٹانگ توڑ ڈالے ہیں اور ان کی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ حملہ آور تو شاید انہیں جان سے مارنے والے تھے لیکن عین موقع پر پولیس پہنچ گئی جس کے باعث ان کی جان بچ گئی۔ نثار حسین اب ہسپتال میں داخل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کا کہنا ہے کہ ”ہمیں یہ دوسری بار نشانہ بنایا گیا اور اپنے گھر سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پولیس کا عین موقع پر پہنچنا ہمارے لیے بہت بڑا سرپرائز تھا۔ ورنہ نجانے کیا ہو جاتا۔ “

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...