’پہلے یہ 80 ہزار درہم کا اُدھار واپس کرو‘ ائیرہوسٹس کو دبئی ائیرپورٹ پر روک لیا گیا، لیکن دراصل یہ پیسے اس کا نام استعمال کرکے کس نے اور کیسے لئے؟ جو جانے پریشان ہوکر رہ جائے

’پہلے یہ 80 ہزار درہم کا اُدھار واپس کرو‘ ائیرہوسٹس کو دبئی ائیرپورٹ پر روک ...
’پہلے یہ 80 ہزار درہم کا اُدھار واپس کرو‘ ائیرہوسٹس کو دبئی ائیرپورٹ پر روک لیا گیا، لیکن دراصل یہ پیسے اس کا نام استعمال کرکے کس نے اور کیسے لئے؟ جو جانے پریشان ہوکر رہ جائے

  


دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک) جدید ٹیکنالوجی جہاں ڈیٹا کے تحفظ کے لئے بے پناہ مددگار ثابت ہوئی ہے وہیں معلومات چرانے والے مجرم بھی اس کا خوب استعمال کررہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا جانے والا پیچیدہ فراڈ اس نہج کو پہنچ چکا ہے کہ اکثر اوقات مجرم معصوم شہریوں کی زندگیاں برباد کرکے رکھ دیتے ہیں لیکن ان تک پہنچاممکن نہیں ہوپاتا۔ دبئی میں مقیم بھارتی نژاد ائیرہوسٹس کینڈی کراسٹو کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ بھی ایک ایسی ہی افسوسناک مثال ہے۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق 33 سالہ کینڈی کراسٹو جب 2012ءمیں میٹرنٹی تعطیل کے بعد اپنی پہلی پرواز کے لئے روانہ ہونے والی تھیں تو ائیرپورٹ پر ہی انہیں روک لیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ ان کے نام سے جاری ہونے والا 80 ہزر درہم کا چیک باﺅنس ہوگیا ہے جس کی وہ ادائیگی کریں ورنہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جب کینڈی نے بینک پہنچ کر معلومات لیں تو پتہ چلا کہ ان کی شناختی دستاویزات چوری ہوچکی تھیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے کوئی جعلساز ان کے نام پر قرض لے چکا تھا۔اب الٹا انہیں یہ ثابت کرنا تھا کہ ان کا اس فراڈ میں کوئی ہاتھ نہیں ہے، اور اس کام میں انہیں ایک سال لگ گیا۔

ایک سال بعد، جب وہ سمجھ رہی تھیں کہ سارا معاملہ درست ہوگیا ہے تو انہیں ایک بار پھر ائیرپورٹ پر روک لیا گیا۔ اس بار پولیس سٹیشن اور بینک سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ ان کی چوری کی گئی شناختی دستاویزات کا استعمال اب بھی جاری ہے ۔ مکار جعلساز نے ان کے نام پر 5 بینکوں سے تقریباً 10 لاکھ درہم کا قرضہ لے لیا تھا۔ بینکوں سے ملنے والی معلومات سے پتہ چلا کہ ناصرف کینڈی کی شناختی معلومات چوری ہوئی تھیں بلکہ جعلساز مجرم نے ان کا جعلی پاسپورٹ بھی بنا رکھا تھا جبکہ متحدہ عرب امارات کا اقامتی ویزہ بھی جعلی تیار کیا ہوا تھا۔ کینڈی کو ایک بار پھر اپنی صفائی پیش کرنا پڑی اور بینکوں، پولیس سٹیشن، پبلک پراسیکیوشن سمیت متعدد اداروں کے سامنے ثابت کرنا پڑا کہ وہ فراڈ میں ملوث نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ فراڈ ہوا ہے۔

ایک فحش اداکارہ نے کچھ بھی کئے بغیر بڑے عرب ملک کا پورا نظام تہس نہس کرکے رکھ دیا

بھیانک جرم کا نشانہ بننے والی کینڈی کراسٹو کا کہنا ہے کہ چار سال گزرگئے لیکن ابھی تک ان کی مصیبت ختم نہیں ہوئی۔ وہ اور ان کے خاوند اپنی تمام بچت بھی عدالتی کارروائی اور وکلاءکی فیسوں پر خرچ کرچکے ہیں ۔ انہیں بار بار عدالتوں اور بینکوں کے چکر لگانے کی وجہ سے اپنے کام سے غیر حاضر رہنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ چار سال کے دوران ان کی ترقی بھی نہیں ہوئی اور حالات ہیں کہ سدھرنے کی بجائے مخدوش سے مخدوش تر ہو تے جا رہے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...