پاناما لیکس کیس ،باہر شور مچانے والے عدالت سے رجوع کیوں نہیں کرلیتے ؟

پاناما لیکس کیس ،باہر شور مچانے والے عدالت سے رجوع کیوں نہیں کرلیتے ؟
پاناما لیکس کیس ،باہر شور مچانے والے عدالت سے رجوع کیوں نہیں کرلیتے ؟

  


تجزیہ :سعید چودھری 

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہوچکی ہے ،چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم 5رکنی فل بنچ نے فریقین کوآئندہ تاریخ سماعت پر15نومبر کو دستاویزی شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔سپریم کورٹ اس معاملے کی انکوائری کے لئے کمشن قائم کرنے کا بھی کہہ چکی ہے جبکہ یہ بھی واضح کرچکی ہے کہ ٹرمز آف ریفرنس پر فریقین متفق نہ ہوسکے تو سپریم کورٹ خود ٹرمز آف ریفرنس کا تعین کرے گی ۔اس معاملہ پر بڑے بڑے وکلاءسابق جج صاحبان اور بعض آئینی ماہرین کی طرف سے اعتراضات کا بھی سلسلہ شروع ہوچکا ہے ،سابق چیف جسٹس پاکستان سعید الزماں صدیقی نے سپریم کورٹ کے کمشن قائم کرنے کے اختیار پر سوال اٹھایا ہے تو اعتزاز احسن نے عدالت عظمیٰ کے دائرہ اختیار کے ساتھ ساتھ ٹرمز آف ریفرنس کے تعین کے معاملہ پر بھی انگلی اٹھا دی ہے ۔سپریم کورٹ کی کارروائی پر اٹھائے جانے والے سوالات کا آئین اور قانون کی روشنی میں جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ بات واضح ہے کہ سپریم کورٹ 1956ءکے آئین کے تحت جوڈیشل کمشن تشکیل نہیں دے رہی بلکہ ایک ایسا لوکل کمشن تشکیل دینا چاہتی ہے جس کی تشکیل کا اختیار ماتحت عدالتوں کے ججوں کو بھی حاصل ہے ۔ایسے تحقیقاتی کمشن کے دائرہ کار اور ان سوالات کا تعین بھی عدالت خود کرتی ہے جن پر تحقیقات مقصود ہوتی ہیں ،ٹرمز آف ریفرنس دراصل وہ سوالات اور ایشوز ہیں جن پر جوڈیشل کمشن کو تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہا جاتا ہے،اس سلسلے میںکمشن کے دائرہ اختیار کا بھی تعین کیا جاتا ہے ،ضابطہ دیوانی کے تحت عدالتیں کسی کیس کا فیصلہ کرنے سے قبل ایشو فریم کرتی ہیں جنہیں اردو میں تنقیحات قائم کرنا کہا جاتا ہے ،ٹرمز آف ریفرنس اور تنقیحات دومختلف چیزیں نہیں ہیں ،ماسوائے اس کے کہ تنقیحات قائم کرنے والی عدالت قانون کے تحت حاصل اپنے اختیارات کا تعین خود کرتی ہے ۔اگر سپریم کورٹ کا فل بنچ پاناما لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے کوئی کمشن قائم کرتا ہے تو اس کو وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو سپریم کورٹ اسے تفویض کرے گی ،سپریم کورٹ کمشن کو وہ ایشو بھی فراہم کرے گی جن پر تحقیقات کی جانا ہوں گی ،اس کے لئے ٹرمز آف ریفرنس کی بجائے تنقیحات کا لفظ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

آئین کے آرٹیکل 187کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ زیر نظر کیس میں ایسا کوئی بھی حکم جاری کرسکتی ہے جو مکمل انصاف کی فراہمی کے لئے ضروری ہو۔عدالت عظمیٰ مکمل انصاف کی فراہمی کے لئے دستاویزات طلب کرسکتی ہے ،سپریم کورٹ کسی ادارے کو بھی تحقیقات کا حکم جاری کرسکتی ہے ۔اس آرٹیکل کے تحت سپریم کورٹ کوئی بھی ایسا حکم جاری کرنے کی مجاز ہے جسے وہ انصاف کی مکمل فراہمی کے لئے مناسب خیال کرے ،علاوہ ازیں اعلیٰ عدالتوں کو عوامی اہمیت کے حامل مقدمات میں معاملہ کی انکوائری اورسفارشات کی تیاری کے لئے کمشن یا لوکل کمشن مقرر کرنے کااختیار بھی حاصل ہے ۔میمو گیٹ سکینڈل کے کیس میں سپریم کورٹ نے تحقیقات کے لئے کمشن قائم کیا تھا ،ماضی میں کمشن قائم کرنے کی درجنوں مثالیں موجود ہیں ، ماضی میں صحافیوں کو نوازنے کے لئے خفیہ سرکاری فنڈ زکے استعمال کے کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے کمشن مقرر کئے جانے کی مثال موجود ہے جبکہ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی نیشنل پارک کو محفوظ رکھنے کے کیس میں کمشن تشکیل دیا ہے ،لاہور ہائی کورٹ نے بھی سی این جی آلودگی کیس میں کمشن قائم کیا تھا ،لاہور نہر کے کنارے سڑک کی توسیع کے دوران درخت کاٹنے کے مقدمہ میں بھی سپریم کورٹ نے کمشن قائم کرنے کے اپنے اختیار کو استعمال کیا تھا ،عدالت انکوائری اور سفارشات تیار کرنے کے لئے کمشن مقرر کرنے کی مکمل مجاز ہے جس کی ایک مثال اورنج لائن ٹرین کیس کی شکل میں بھی موجود ہے ،اس کیس میں بھی لاہور ہائی کورٹ نے ایک کمشن مقرر کیا تھا ،ایسے کمشن یا لوکل کمشن کے اختیارات کا تعین عدالت خود کرتی ہے پھر اس کی سفارشات پر فریقین کی طرف سے اعتراضات طلب کئے جاتے ہیں ،کمشن کی رپورٹ کے جن نکات پر فریقین متفق ہوں ان پر عمل درآمد کا حکم جاری کردیا جاتا ہے جبکہ دیگر نکات پر شنوائی کے بعد فیصلہ جاری کیا جاتا ہے ،

جہاں تک اعتزاز احسن کے بیان کا تعلق ہے کہ سپریم کورٹ کو اپوزیشن کے "پاناما بل"کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہیے ،ان کا خیال ہے کہ پاناما پیپرز کی تحقیقات کا دائرہ دوسرے ممالک تک وسیع ہے جبکہ سپریم کورٹ یا اس کے قائم کردہ کمشن کو دوسرے ممالک میں کارروائی یا تحقیقات کا اختیار حاصل نہیں ہوگا ،ان کی طرف سے پیش کئے جانے والے مسودہ قانون میں یہ شق رکھی گئی ہے کہ متعلقہ افراد کمشن کو ایک اتھارٹی لیٹر جاری کریں گے کہ کمشن ان کے اندرونی اور بیرونی کھاتوں اور بینک اکاﺅنٹس کی تحقیقات کا مجاز ہے ۔اس سلسلے میں سپریم کورٹ بھی زیر نظر کیس کے فریقین کو ایسا اتھارٹی لیٹر فراہم کرنے کے لئے کہہ سکتی ہے ،اگرایسا ہو جاتا ہے تو پھر مسئلہ کیا باقی رہ جاتا ہے ۔اس سلسلے میں اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ سپریم کورٹ کسی کو اپنے خلا ف گواہی دینے پر مجبور نہیں کرسکتی تو یہ سوال پاناما بل کی مذکورہ شق کے حوالے سے بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 13(بی) کے تحت کسی ملزم کو اپنے خلاف گواہ بننے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا جبکہ آئین کے آرٹیکل 8(2)میں واضح کیا گیا ہے کہ مملکت بنیادی حقوق کے منافی کوئی قانون وضع نہیں کرسکتی ،ابھی تک تو پاناما بل منظور ہی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے منظور ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نظر آرہا ہے ،اگر سپریم کورٹ فریقین سے کھاتوں تک رسائی کے لئے اتھارٹی لیٹر کا تقاضہ کرتی ہے تو یہی آئینی ماہرین اسے آئین کے منافی قرار دینے میں شاید ایک منٹ بھی نہ لگائیں ،اگر سپریم کورٹ کی طرف سے اتھارٹی لیٹر کا تقاضہ آئین کے منافی ہے تو پھر "پاناما بل "کی مذکورہ شق کوخلاف آئین کیوں قرار نہیں دیا جاسکتا جبکہ سپریم کورٹ ایسا کرنے کی مجاز بھی ہے ،پہلے پارلیمنٹ سے قانون پاس کروائیں پھر سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار اور طریقہ سماعت پر اعتراض کیا جائے تو شاید بات میں کوئی وزن پیدا ہوجائے ،قطع نظر اس کے کہ اس قانون کو بھی آئین کی کسوٹی پر سپریم کورٹ نے ہی پرکھنا ہے ،اب جبکہ سپریم کورٹ معاملے پر کارروائی شروع کرچکی ہے ،مناسب ہوگا کہ زور بیاں عدالت سے باہر صرف کرنے کی بجائے کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈ لیا جائے کہ اسے عدالت میں حاضر ہوکر پیش کردیا جائے ،اس بابت کیس میں فریق بننے کی درخواست بھی دی جاسکتی ہے ،اعتزاز احسن سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اس کیس میں فریق کیوں نہیں بن جاتے یا پھر وہ اپنے ٹرمز آف ریفرنس پر انکوائری کے لئے عدالت سے رجوع کیوں نہیں کرلیتے ؟

مزید : تجزیہ


loading...