ہائیکورٹ نے ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کی تحقیقات کے لئے ٹھوس وجہ کے بغیر کاروباری مراکز پر چھاپے مارنے سے روک دیا

ہائیکورٹ نے ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کی تحقیقات کے لئے ٹھوس وجہ کے بغیر ...
ہائیکورٹ نے ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کی تحقیقات کے لئے ٹھوس وجہ کے بغیر کاروباری مراکز پر چھاپے مارنے سے روک دیا

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کی تحقیقات کے لئے ٹھوس وجہ کے بغیر کاروباری مراکز پر چھاپے مارنے سے روکتے ہوئے ایف بی آر کے چھاپوں کے خلاف تمام درخواستیں یکجا کرنے کا حکم دے دیا ہے.

جسٹس شاہد جمیل کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے یہ حکم اقبال اینڈ سنز کی درخواست پرجاری کیا، درخواست گزار کی طرف سے محمد محسن ورک ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ایف بی آر سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 38کا غلط استعمال کر رہا ہے، اس دفعہ کی آڑ میں ایف بی آر تحقیقات کے نام پر کاروباری مراکز پر بلاوجہ چھاپے مارتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق ریکارڈ وغیرہ قبضے میں لے لیتا ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کے کاروباری مراکز پر چھاپے ٹیکس گزاروں کو ہراساں کرنے کے مترادف ہیں، انہوں نے استدعا کی کہ ایف بی آر کو کاروباری مراکز پر بلاوجہ چھاپے مارنے سے روکا جائے، عدالت نے ایف بی آر کے چھاپوں کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے محکمے سے 3ہفتوں میں جواب طلب کر لیاہے.

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایف بی آر کو ایسے ٹیکس دہندگان کے کاروباری مراکز پر چھاپے مارنے کا اختیار نہیں جن کے خلاف کوئی انکوائری ایف بی آر میں زیر التواءنہ ہوا، عدالت نے ایف بی آر کے چھاپوں کے خلاف دیگر درخواستوں کو بھی آئندہ سماعت پر یکجا کر کے پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

مزید : لاہور


loading...