اندھیروں میں تیارکردہ سازشی فارمولے

اندھیروں میں تیارکردہ سازشی فارمولے
 اندھیروں میں تیارکردہ سازشی فارمولے

  

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے چند ماہ بعد سازشی فارمولے جنم لینے لگے تھے۔ وہ دن گیا اور آج کا دن آیا۔ حکومتیں گرانے اور کسی نئے کو لانے کے فارمولوں سے نجات نہیں مل سکی، ایسے فارمولوں کے تخلیق کاروں میں بیورو کریسی کے اعلیٰ دماغ اور صحافت کے اونچے نام بھی حصہ بنتے چلے آئے ہیں۔قائداعظم محمد علی جناحؒ نے انگریز اور ہندو کی شاطرانہ چالوں کو دلائل و براہین کی سطح پر شکست فاش دی.

پاکستان بن گیا.کاروباری طبقے اور عوام نے خاک و خون کا سمندر پار کرکے پاک سرزمین پر قدم رکھا. پاک وطن کی تعمیر میں دن رات ایک کیا. پاکستان کو بنے ہوئے ستر برس ہو چکے ہیں، لیکن سازشوں نے آج تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ ایک دن چھوٹی سی خبر کسی اخبار میں چھپتی ہے.

اسی دن یا اس سے اگلے دن شام کے وقت چند دانشور صحافی کسی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر نت نئے شگوفے چھوڑ رہے ہوتے ہیں، اس طرح دانشوروں کے مفادات کی آبیاری کا بندوبست ہو جاتا ہے، لیکن ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو بریک لگنا شروع ہو جاتی ہے.

سامنے کی بات ہے کہ 2013 ء کا الیکشن بخیرو خوبی اختتام پذیر ہوا. مبارک سلامت کا مرحلہ مکمل ہوا۔ ملک کو خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے لئے مشترکہ جد و جہد کرنے کے عزائم کا اظہار ہو چکا کہ اچانک ایک سیاست دان کے کان میں کسی طرف سے سرگوشی ہوئی کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، ورنہ تمہاری کامیابی یقینی تھی.

اس طرح تخلیق کار نے ایک سازشی کہانی تخلیق کر دی جس کے بعد اس کے لئے مقرر کردہ کرداروں نے کام شروع کر دیا .اسے بڑھاوا دینے کے لئے رو ز کی بنیاد پر کام ہو تا چلا آ رہا ہے۔ اس سازشی کہانی نے کئی موڑ کاٹے ہیں. الیکشن میں دھاندلی کا تانا بانا کچے دھاگے کی طرح کمزور ثابت ہوا تو میاں محمد نواز شریف کو کرپٹ بنانے اور نااہل قرار دلانے کے لئے طبع آزمائی کا آغاز ہوا۔

عوام کی سمجھ بوجھ سے بالا بالا کرپشن کہانی کو اس کے متعین کردہ کرداروں کی سوچ و فکر کے مطابق انجام کی طرف کھینچا جا رہا ہے، لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بعض عناصر کی جانب سے سازشوں کا بنایا ہوا گھروندا اس بار تخلیق کار کے مقاصد پورے نہیں کر سکے گا.

کسی وقت بھی تازہ ہوا کا جھونکا اسے زمین بوس کر دے گا .ملک کے معاشی حالات اچھے یا برے ہونے کا پیمانہ سٹاک ایکسچینج ہے۔میاں محمد نواز شریف کے اقتدار میں آنے سے پہلے پاکستان کی سٹاک ایکسچینج نیم مردہ اور گھاٹے کا سودا بن چکی تھی.

سرمایہ کاروں کے اربوں روپے مٹی ہو چکے تھے .بڑے سرمایہ کار کوئی پوزیشن لینے کو تیار نہیں تھے .بجلی کی لوڈشیڈنگ کی طوالت اور صنعتوں کی بندش، بلکہ بیرون ملک منتقلی سے معاشی حالات دگر گوں ہو چکے تھے .بیرونی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کرنے سے کتراتے تھے۔

کراچی میں مارکیٹیں اور صنعت بند اور کاروباری سرگرمیاں منجمد ہو چکی تھیں۔ ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ ایجنٹوں نے کراچی کے تا جروں اور عوام کا جینا اور کاروبار کرنا مشکل بنا رکھا تھا .

اقتدار میں آنے کے بعد شریف برادران نے بجلی بنانے اور کاروباری حالات درست کرنے کے لئے دن رات ایک کر دیا .سٹاک ایکسچینج کو 19 ہزار پوائنٹ سے اٹھا کر 54ہزار پوائنٹ کی بلندی پر پہنچا دیا، لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں کو بھگا کر روشنی لائے۔

اس کے علاوہ سیاست دانوں، اخباری دانشوروں اور بعض دیگر افراد کی پیدا کردہ مشکلات کو عبور کرکے عظم الشان خوشحالی منصوبے سی پیک پرکام شروع کرایا۔

تمام ترقیاتی اور ملک سنوارو سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کاروباری طبقہ اور عوام میاں محمد نواز شریف کو نظروں سے اوجھل کرنے کے مائنس ون فارمولے کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ کاروباری طبقہ اور عوام کی میاں محمد نواز شریف کو ملکی معیشت کو زندگی دینے والا مسیحا قرار دیتے ہیں.

ان کے نزدیک مائنس ون فارمولا پہلی سازشوں کا تسلسل ہے۔ عوام اور کاروباری طبقہ اندھیروں میں تیار کردہ سازشی فارمولوں کو کسی طور ماننے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار میں کسی کو لانے اور ہٹانے کا صرف ایک ہی فارمولا ہے۔ وہ ہے الیکشن۔۔۔ ناکام سیاست دان اور بعض سازشی عناصر سمجھ چکے ہیں کہ الیکشن میں ان کی دال نہیں گلے گی. کارکردگی کی موجودگی میں عوام سازشی عناصر اور بات بات پر گالی گلوچ کرنے والے سیاست دانوں اور ان کے آقاؤں کو مسترد کر دیں گے.

کچے دھاگوں سے بنی ہوئی سازشی کہانی کا تیا پانچا ہو جائے گا. عوام اور کاروباری طبقے بولتے بہت کم ہیں، لیکن محسوس بہت کچھ کرتے ہیں. اس لئے ان دونوں طبقات کا کاروباری سرگرمیوں کو ختم کرنے والے سیاست دانوں اور ٹی وی اینکر پرسنز کے خلاف خاموش اتحاد وجود میں آچکا ہے.

مائنس ون فار مولا یا اس قسم کی ٹی وی گفتگوؤں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں. کاروبار دوست پالیسیوں کے خلاف بننے والے تمام اتحادوں کو کسی طور کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

مزید :

کالم -