نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم

نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم
 نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم

  

پاکستان کو اس وقت جس بڑے چیلیج کا سامنا ہے وہ ہے بدعنوانی۔بدعنوانی ایکلعنت ہے جو کسی بھی ملک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمارے سامنے ہمارے دوست ملک چین کی مثال ہے جس نے ترقی کی منازل طے کرنے اور بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے چینی قوم نے قومی جذبے کے تحت بدعنوانی کے خاتمہ کیلے مشترکہ کاوشیں کیں اوربدعنوانی کو کم سے کم سطح پر لے آئے۔ چین پاکستان کا بہترین دوست ہے۔

ہم نے بدعنوانی کے خاتمہ اور سی پیک منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے چین کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخظ کئے ہیں جس سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بدعنوانی کے ناسور کو ختم کرنے میں کامیا ب ہو جائیں گے ۔

پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہے جس کی ترقی کیلئے بدعنوانی کا خاتمہ آج پوری قوم کی آواز بن چکا ہے۔ نیب کے موجودہ چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کو نیب کی اولین ترجیح قرار دیا ہے اور بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی ہے اور کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میرٹ ، شواہد اور قانون کے مطابق بدعنوان عناصرسے لوٹی ہوئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروانے کا عزم کیا ہے

قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال انتہائی ایماندار، فرض شناس ، قانون اور میرٹ پر اپنے فرائض سرانجام دینے والے پیشہ ور اور تجربہ کار بے داغ ماضی رکھنے ہیں۔

آپ 1946ء میں پیدا ہوئے۔ آپ سیشن جج کوئٹہ، بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائمقام چیف جسٹس، پریس کونسل کے چیئرمین، ایبٹ آباد کمیشن کے چیئرمین رہے جس کا 71 لاکھ روپے معاوضہ بھی نہیں لیا ۔

جناب جسٹس جاوید اقبال اس وقت لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین ہیں اور ان کی ذاتی اور انتھک کاوشوں کی بدولت 2700 سے زائد افراد بازیاب ہو کر اپنے گھروں میں پہنچ چکے ہیں، لاپتہ افراد کے کمیشن کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب جسٹس جاوید اقبال کے چہرے پر انتہائی اطمینان اور خود اعتمادی نمایاں دکھائی دیتی ہے ، آپ کا اﷲ تعالیٰ اور اﷲ تعالیٰ کے رسول حضرت محمدؐ پر پختہ یقین ہے اس لئے وہ کبھی ناامید نہیں ہوتے بلکہ ان کے چہرے پر چمک اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے کام کو ایک صدقہ جاریہ کے طور پر سرانجام دے رہے ہیں کیونکہ جو بھی شخص بازیاب ہوتا ہے اس شخص کا سارا خاندان جسٹس جاوید اقبال کو دعائیں دیتا ہے، دعائیں سن کر جسٹس جاوید اقبال کی خوشی دیدنی ہوتی ہے، وہ ایک طرف اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس نیک کام کا فریضہ ان کو سونپا، دوسری طرف وہ مزید محنت، لگن اور جذبہ کے ساتھ دن رات کی پرواہ کئے بغیر اپنے کام میں مصروف ہو جاتے ہیں اور پہلے سے زیادہ کام کرتے ہیں، انہی دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں قومی احتساب بیورو کا چیئرمین بنایا جس پر حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں متفق ہیں اور ان کی ایمانداری، دیانتداری، پیشہ وارانہ مہارات اور بے پناہ صلاحیتوں کی معترف ہیں اور برملا اس کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں۔

جسٹس جاوید اقبال جہاں چیئرمین نیب بننے پر اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں وہاں اس عزم کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ جب سپریم کورٹ آف پاکستان میں قائمقام چیف جسٹس تھے تو انہوں نے ’’انصاف سب کیلئے‘‘ کا پیغام پورے ملک تک پہنچایا اور آج قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کے طور پر ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے ’’احتساب سب کے لئے‘‘ کا پیغام دیا ہے۔ آپ صرف پیغام نہیں دیتے بلکہ جو بات کہتے ہیں اس کو کرکے دکھاتے ہیں، آپ کی صلاحیتوں خصوصاً ایمانداری، دیانتداری اور اصول پسندی کے سب معترف ہیں۔

آپ نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد نیب ہیڈ کوارٹرز میں افسران سے اپنے پہلے خطاب میں دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ قومی احتساب بیورو ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گا، بیگناہ افراد کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے گا اور بدعنوان افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے میرٹ، شفافیت اور قانون کے مطابق احتساب عدالتوں میں ان کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے جائیں گے۔

بدعنوان افراد سے ملک کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائی جائے گی۔ گذشتہ سالوں سے مختلف شکایات کی بنیاد پر انکوائریوں اور تحقیقات پر اب تک کیوں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اس کو بھی دیکھا جائے گا کیونکہ کوئی افسر/اہلکار قانون سے بالاتر نہیں، جہاں قانون ہمیں اختیار دیتا ہے وہیں قانون ہمیں اختیارات کے غلط استعمال سے روکتا اور خود احتسابی کا درس دیتا ہے۔

کسی بھی افسر/اہلکار کی نیب میں عزت اس کی کارکردگی، ایمانداری، دیانتداری، محنت، لگن اور قانون کے مطابق کام کرنے سے ہو گی، نااہل، بدعنوان اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افسروں/اہلکاروں کی نیب میں کوئی جگہ نہیں ہو گی، آپ نہ تو کسی سفارش اور دباؤ کو برداشت کرتے ہیں بلکہ محنت، دیانتداری، ایمانداری، میرٹ، شفافیت اور قانون پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہیں ۔

آپ ریاست کے مفاد کیلئے کام کرتے ہیں، آپ نے نیب کے افسران/اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریوں کو احساس کرتے ہوئے معاشرے کو بدعنوانی سے پاک کرنے کی جو ہدایت کی ہے ۔وہ بروقت اور صحیح سمت میں آپ کا بہترین قدم ہے ۔

آپ نے نیب کا بجٹ قانون کے مطابق خرچ کرنے اور غیر ضروری اخراجات پر سخت کارروائی کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے کیونکہ وسائل کا بے جا استعمال روکنے سے ہی وسائل مناسب طریقے سے استعمال ہو سکیں گے ۔انہوں نے نیب کا انٹرنل اور ایکسٹرنل آڈٹ کرانے کا جو حکم دیا ہے اس کو بھی تمام حلقے سراہا رہے ہیں۔

آپ کے مطابق نیب میں کام کرنے والے افسران/اہلکاروں کا تعلق کسی پارٹی/شخص سے نہیں ہونا چاہئے بلکہ ریاست اور نیب سے تعلق ہونا بنیادی شرط ہے۔

افسران ٹرانسپیرنسی، شفافیت، شواہد اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جب سائنسی بنیادوں پر اپنی انکوائریوں اور تحقیقات کو مکمل کریں گے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ پھر بدعنوان عناصر کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر معزز احتساب عدالتوں، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے سزا دلوائی جا سکے ۔

آپ کا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ نیب کسی سے سیاسی انتقام اور کسی کی ذاتی خواہشات کو پروان چڑھانے کیلئے نہیں بنا بلکہ نیب کے افسران جب نئے جذبہ، توانائی، محنت، لگن، میرٹ، شفافیت، شواہد اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیں گے تو پھر پہلے سے طے شدہ شکایت سے ریفرنس فائل کرنے کیلئے 10 ماہ کا جو وقت مقرر کیا گیا ہے اس پر سختی سے عمل کروایا جائے گا۔ اشتہاری اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔

آپ 11 اکتوبر 2017ء کے بعد کے تمام معاملات کو مکمل ٹرانسپیرنسی، شفافیت، فیئرنس، شہادتوں اور قانون کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں اور نیب کی طرف سے اب جو بھی ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا جائے گا اس کا آپ ذاتی طور پر جائزہ لیں گے تاکہ قانون کے تمام تقاضوں کے پورا ہونے کا تعین کیا جا سکے اس سے نہ صرف بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق مجاز عدالتوں سے سزا دلوانے میں مدد ملے گی بلکہ نیب کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

آپ اس بات پر پتخہ یقین رکھتے ہیں کہ عزت اور ذلت دینے والی ذات اﷲ تعالیٰ کی ہے۔ آپ کا کہنا ہے کہ نیب کے افسران سب سے پہلے اپنے ضمیر کے سامنے جوابدہ ہیں اگر نیب کے افسران اپنے فرائض دیانتداری، ایمانداری اور میرٹ کے مطابق سرانجام دیں گے تو نہ صرف ان کا ضمیر مطمئن ہو گا بلکہ عوام کی توقعات بھی ان سے پوری ہوں گی۔آپ کا کہنا ہے کہ معاشرہ افراد سے بنتا ہے اسی طرح ادارے بھی افراد سے بنتے ہیں۔

نیب میں ترقی اور تعیناتی صرف اور صرف میرٹ، سینارٹی، پرفارمنس اور قانون کے مطابق ہو گی۔ صوبوں کے کوٹہ پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور کسی بھی صوبہ سے ناانصافی نہیں ہو گی۔

نیب میں روٹیشن کی پالیسی، ترقی اور تعیناتی کے لئے آپ نہ تو کسی دباؤ اور سفارش کو برداشت کرنے پر یقین رکھتے ہیں بلکہ نیب میں صرف محنت، میرٹ، شفافیت اور قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے نیب میں ٹیم ورک کو فروغ دیں گے کیونکہ خواب دیکھنا سب کا حق ہے مگر آپ اس خواب کی تعبیر صرف اور صرف میرٹ، شفافیت اور قانون کے مطابق کریں گے۔

آپ نے ساری عمر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی سر انجام دیئے اس لئے آپ نیب کے افسران اور اہلکاروں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے فرائض منصبی انتہائی ایمانداری، دیانتداری اور قانون کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سر انجام دیں گے۔

اس کے علاوہ کسی بھی انسان کی عزتِ نفس کا ہمیشہ خیال رکھیں گے اور کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دیں گے کیونکہ نیب کے افسران کے انصاف اور میرٹ کی طرف بڑھتے ہوئے ہر قدم سے نہ صرف میں آنے والے گواہان اور ملزمان کے قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا بلکہ ادارے کی ساکھ اور مجموعی کارکردگی میں بھی اضافہ ہو گا۔ ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ نہ صرف آپ کا عزم ہے بلکہ آپ اس کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

نیب پر پوری قوم کی نگاہیں ہیں نیب قوم کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے اور ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے آپ کی قیادت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا۔ آپ نے نیب میں میگا کرپشن کے مقدمات الماریوں اور فائلوں میں بند رکھنے کی بجائے 25 اکتوبر 2017ء کے بعد میگا کرپشن کے تمام مقدمات پر قانون کے مطابق کارروائی کی رپورٹ تین ماہ کے اندر طلب کی ہے جو کہ خوش آئند قدم ہے کیونکہ آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق صرف کام، کام اور کام پر یقین رکھتے ہیں اور کوئی کتنا بھی بااثر کیوں نہ ہو احتساب سے اب بالاتر نہیں ہو گا۔

آپ نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی نیب میں انکوائریوں اور تحقیقات کی رپورٹس پیش کرنے کا جو حکم دیا ہے اس سے اس بات کا جائزہ لیا جا سکے گا کہ کتنی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف تحقیقات اور انکوائریاں نیب میں کتنے عرصہ سے چل رہی ہیں اور ان پر اب تک کی گئی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا اور اس بات کو بھی دیکھا جائے گا کہ کونسی انکوائریاں بند ہونے کے بعد دوبارہ کھولی گئیں ۔آپ بلاتفریق احتساب پر یقین رکھتے ہیں اس لئے آپ نے میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے حوالے سے ملتان میٹرو بس کے پراجیکٹ میں مبینہ طور پر بدعنوانی کی انکوائری کا حکم دیاہے ۔

اس کے علاوہ آپ نے پی آئی اے کے طیارے کو کوڑیوں کے مول پر فروخت کرنے پر بھی انکوائری کا حکم دیا ہے ۔آپ نے نیب کے تمام ڈی جیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ریجنل بیوروز میں آنے والے تمام افراد سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں کیونکہ قانون کی نظر میں جب تک کوئی شخص مجرم قرار نہیں پاتا وہ بیگناہ ہے۔

اس لئے ہر شخص کی عزت نفس کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے، اس سے ادارے کے وقار میں اضافہ ہو گا اور ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے نیب کی کاوشوں کو مزید تقویت ملے گی۔ آپ کو نیب کے تمام افسروں پر مکمل اعتماد ہے آپ کی اعتماد کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس سے افسران میں احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے، کام اور لگن کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس سے وہ محنت کرتے ہیں جب وہ محنت کرتے ہیں تو کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔

آپ کسی سفارش اور دباؤ پر یقین نہیں رکھتے بلکہ آپ صرف قانون کے مطابق دیانتداری سے کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں کوئی کتنا بھی بااثر ہو وہ احتساب سے اب بالاتر نہیں ہو گا کیونکہ اب اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ جہاں نیب کی ذمہ داری ہے وہاں پوری قوم کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ بدعنوان عناصر کے خلاف انفرادی/اجتماعی کاوشوں کے زریعے سے ان کی بدعنوانی سے متعلق نیب کو آگاہ کریں کیونکہ جب تک ہر شخص بدعنوانی سے انکار نہیں کرے گا اس وقت پاکستان سے بدعنوانی کا خاتمہ مکمل طور پر ممکن نہیں ۔ بدعنوانی سے انکار ملک سے پیار اور ترقی کا بہترین اظہار ہے ۔

کرپشن سے پاک معاشرے ہی معاشی منازل کو طے کرتے ہیں اور ملک ترقی کرتے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے مختصر وقت میں جو کچھ کہا اس پر عمل کر دکھایا ہے امید کی جاتی ہے کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے میں ان کی سنجیدہ کاوشیں کامیاب ہوں گی اور پاکستان کو اس لعنت سے نجات حاصل ہو گی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا ۔

مزید :

کالم -