عصر حاضر میں مجدد شناسی کیضرورت و اہمیت

عصر حاضر میں مجدد شناسی کیضرورت و اہمیت

  

عصر حاضر میں آپ کی مجددیت کو تسلیم کر لینے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ موجودہ دور میں امت کا پستی و زوال سے نکلنا اور طریق مستقیم پرگامزن ہونا اسی صورت پر ممکن ہے کہ حضرت شیخ کی تعلیمات و افکار کو سمجھا جائے، اسے عام کیا جائے اور اس پر عمل پیرا ہو کر کامرانی کے سفر کاآغاز کیا جائے یہی ’’عصر حاضر میں مجدد شناسی کی ضرور ت و اہمیت ‘‘ کا بنیادی نکتہ ہے۔مجددی تعلیمات کی ضرورت اور عصرحاضر میں حضرت مجدد الف ثانی کے حوالے سے جتنا بھی کام ہوچکا ہے یا ہو رہا ہے قابل صد تحسین ہے لیکن عصر حاضر میں ان تعلیمات کی وسیع اشاعت اور امت کے قلوب و اذہان کو اس کی طرف مائل کرنا ایک ایسا پہلو ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔شیخ مجدد کا یہی وصف امتیاز ہے کہ آپ نے زبوں حالی کی شکار امت کو پھر سے بیدار کیا۔

مجددی تعلیمات درحقیقت وہی اسلامی تعلیمات ہیں جن کا منبع و مرکز حضورؐ کی ذات ہے اور جسے پانے والے بغیر کسی مجاہدہ اور چلہ کشی کے پوری دنیا کے راہنما ء بن گئے اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہوں نے اپنا سب کچھ بارگاہ رسالت مآب میں پیش کر دیا کیوں کہ اس بارگاہ عظیمہ کو وہ اپنے ایمان و ایقان کا مرکز اول تصور کرتے تھے۔جب تک امت اپنے اس مرکزی نقطہ فکر سے جڑی رہی کامیابیاں ان کے قدموں پر نچھاور ہوتی رہیں اور اسلامی تشخص نہ صرف قائم رہا بلکہ اس کی روشنی پوری دنیا میں پھیلتی رہی، قیصر و کسریٰ کی عظمتیں ان خاک نشینوں کے سامنے جھک گئیں، دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت ان کا راستہ روک سکی اور نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا فلسفہ ان کے پیغام کے پھیلنے میں رکاوٹ بن سکا۔

اہل دنیا ان کو دیکھتے تو راستے کا تعین کر لیتے اور یہ تسلیم کیے بغیر نہ رہ سکتے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو الہامی علوم کے وارث اور تلمیذان نبوت ہیں۔مگر یہ تمام تر اکرام و اعزاز اس وقت تک موجود رہے جب تک امت نے اپنے مرکز کے ساتھ رابطۂ استوار قائم رکھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اہل اسلام اپنے مرکزی نقطہ فکرسے دور ہوتے گئے تو آہستہ آہستہ مختلف اقسام کی قباحتیں اسلامی معاشرت میں داخل ہونے لگیں جو کہ ایک ہزار سال گزرنے کے بعد نشوونما پاکرتناور درخت کی صورت اختیار کرگئیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ کو اس منصب جلیلہ پر فائز کیا تو آپ نے پھر سے پوری امت کو اسی مرکز ی نقطہ پر جمع کرنے کی جدوجہد اس تسلسل سے کی کہ وہ نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔عصر حاضر میں دو باتوں کو پیشِ نظر رکھنابہت ضروری ہے۔

اول : یہ کہ دیکھا جائے کہ حضرت شیخ نے اصلاح امت کے لیے امت کی کشتی کا رخ کس طرف موڑا اور اس کے لیے کیا طریق کار اختیار کیا۔جہاں تک رخ موڑنے کی بات ہے تو آپ نے تمام تر باطل نظریات اور ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے قبیح اعمال کے مقابل سنتِ رسولؐ کو پیش کیا۔مسائل میں آئمہ مجتہدین کی تقلید کو راہ نجات قرار دیا اور متصوفین کے لیے سنت رسولؐ، اعمال صحابہ و تابعین کو بطور نمونہ پیش کیا۔دوسری بات طریق کار کی ہے تو اس میں آپ کا بنیادی فلسفہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مصلحت نام کی کسی چیز کو قبول نہیں کیا کیوں کہ مصلحت جواز پیدا کرتی ہے۔بقول اقبال:

پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی

(1) تبلیغ کے طریق میں آپ نے اس دور کے تقاضوں کو اختیار کیا مزید یہ کہ آپ نے راسخ العقیدہ اور مخلص القلوب لوگوں کی ایک مضبوط جماعت تیار کی جنہوں نے آپ کی زندگی میں اور ما بعد بھی آپ کی شروع کردہ تحریک کو جاری رکھا۔مندرجہ بالا سطور میں جو معروضات پیش کی گئی ہیں ان کو مجدد شناسی کا ایک اجمالی خاکہ کہا جاسکتا ہے۔ عصر حاضر میں مجددی تعلیمات و افکار سے اہل علم اور عوام کو بہرہ مند کرنے کے لیے ایک مجدد شناس جماعت کی ضرورت ہے کیوں کہ مجدد شناس ہوئے بغیر افکار مجدد کی صحیح ترویج کا امکان کم ہوجاتا ہے۔ مجدد شناس کی وضاحت اس طرح سے کی جا سکتی ہے کہ ایسے قابل اور محنتی افراد جو فکر مجدد میں ڈوب چکے ہوں اور آپ کی تعلیمات کے ہر پہلو پر گہری نظر رکھتے ہوں وہ جب گفتگو کریں یا کچھ لکھیں تو سامع یا قاری پر حضرت شیخ کی شخصیت کے کم و بیش تمام پہلو عیاں ہو جائیں۔

دوئم : اہم ترین سوال یہ ہے کہ آپ کے دور میں موجود خرابیوں اور عصر حاضر میں پیدا ہونے والی قباحتوں کے مابین تقابل کیا جائے تو کونسی قدرمشترک ہے؟ جواب اس کا یہ ہے اشتراک تو تقریباً سبھی خرابیوں میں ہے لیکن ایک قدر مشترک ایسی ہے جو باقی ماندہ کو بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے وہ ہے ہمار ا بحیثیت امت’’اسلامی تشخص‘‘ کا کھو بیٹھنا وہ حضرت شیخ کے دور میں بھی ناپید تھا اور آج بھی۔حضرت شیخ مجدد کے جملہ کارناموں کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا مقصود ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ حضرت مجدد الف ثانی نے اپنی تحریک احیائے دین کے ذریعے امت مسلمہ کے اسلامی تشخص کو بحال کیا جسے آپ کے خلفاء و متعلقین نے بعد میں بھی جاری رکھا۔

عصر حاضر میں امت مسلمہ کے احوال پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو علی وجہہ البصیرت یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ آج بھی امت اپنے تشخص سے محروم ہو کر مقام وسط سے بہت دور اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے۔اگرچہ حضرت مجدد کے دور میں اس کے اسباب اور تھے مگر عصر حاضر میں اس کے اسباب اور ہیں جن میں سب سے بڑا سبب عصر حاضر کا میڈیائی نظام ہے۔ اب ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ عصر حاضر میں جو مجدد شناس حضرات موجود ہیں انہیں سرمایہ غنیمت سمجھتے ہوئے ان کی راہنمائی میں مجددی تعلیمات و افکار کو امت کے اہل علم پر پیش کیا جائے تاکہ وہ ان تعلیمات کو عوام تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکیں۔دیگر یہ کہ تمام تر ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے،واعظین، خطبا، مبلغین کی سہ روزہ، پانچ روزہ یا ہفت روزہ ورکشاپیں منعقد کی جائیں۔ خانقاہوں اور مدارس خصوصاً جونقشبندی سلسلہ سے متعلق ہیں وہاں پرمکتوبات امام ربانی کے دروس کا اہتمام منظم طریق سے کیا جائے۔(جاری ہے)

متصوفین عصرحاضر آئینہ فکر مجدد میں

شیخ مجدد الف ثانی کے دور اور عصر حاضر کی دوسری بڑی قدر مشترک آپ کے دور کے صوفیائے خام اور آج کے صوفیائے عام ہیں۔ استثنیٰ تو بہر حال ہر دور میں اور ہر جگہ موجود رہتا ہے لیکن بات اس عموم کی ہوتی ہے جو ہر طرف پھیلا ہو اہو۔

ہمارے ہاں تصوف کے نام پر بہت سارے طبقے موجود ہیں جن میں اول طبقہ حقیقی صوفیا کا ہے جو صحیح منہج پر دینی و روحانی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ یہ طبقہ قابل تکریم و تعظیم ہے۔

طبقہ ثانی ان لوگوں پر مشتمل ہے جو عظیم المرتبت خانقاہوں کے متولی تو ہیں مگر اسلاف کی میراث گنوا کر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ان کا کام صرف تعویز و دم تک محدود اور عقیدت مندوں سے نذرانہ جات وصول کرنے میں لامحدود ہے۔یہی وہ طبقہ ہے جو انتہائی اصلاح طلب ہے اور اس طبقہ کی اصلاح وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ اس طبقہ کی صورت حال کو اس تمثیل سے سمجھا جا سکتا ہے کہ مئے نوشوں کی تو لمبی لمبی قطاریں لگی ہوں جب کہ مئے خانہ اجڑا ہوا ہو اور ساقی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر صاحبِ فراش ہوچکا ہو۔

میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

یہی وہ طبقہ ہے جو عقیدت مندوں کے انبوہ کثیر کے لیے زہر ہلاہل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے جسے مجددی اندازفکر کے تریاق کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے کہ طبقہ مذکورہ کا درست روش اختیار کر لینا معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اور اب طبقہ ثالث کاذکر کرتے ہیں تو یہ وہ طبقہ ہے جو ان نام نہاد متصوفین پر مشتمل ہے جو خود بھی جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور عوام کا ایک مخصوص طبقہ ان کے زیراثرہے جو اعلانیہ شرعی احکامات اور اسلام کے نظام عبادات سے بیزاری کا اظہار کرتاہے حتیٰ کہ بعض اوقات بات کلمات کفر تک جا پہنچتی ہے۔

یہ لوگ نہ تو صوفی ہیں اور نہ ہی ان کا تصوف سے کوئی تعلق ہے لیکن چونکہ ہمارے معاشرے میں ان کو صوفی تو کیا غوث، قطب کے القابات سے نوازا جاتا ہے لہٰذا ان کا ذکر کرنا ضروری سمجھاگیا۔اس طبقہ کی صورت یہ ہے کہ مبہم، ذو معنی اور لایعنی قسم کی گفتگو سے دوسروں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔دوسروں کو بے عملی کی تعلیم دیتے ہیں۔علوم و فنون سے کوئی واسطہ نہیں مگر رہبر شریعت کہلاتے ہیں، تارک فرض و سنت ہیں مگر پیر طریقت کہلاتے ہیں، موٓکلات اور جنات کی تسخیر کا دعویٰ رکھتے ہیں۔جْہلا ان کی شیطانی گفتگو کوروحانی القا سمجھتے ہیں اور ان کی شعبدہ بازیوں کو کرامات کا درجہ دیتے ہیں(نعوذباللہ من ذالک) یہ طبقہ معاشرے میں ناسور کی حیثیت رکھتا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ مجددی تعلیمات کی فکری تلوار سے اس ناسور کو جڑ سے کاٹ پھینکا جائے تاکہ معاشرے کو اس سے فکری امان حاصل ہو سکے۔

مغرب زدہ طبقہ اور تعلیمات امام ربانی حضرت شیخ مجدد الف ثانی کے دور اور عصر حاضر کی ایک اور قدر مشترک یہ ہے کہاس دور میں اسلامی معاشرے پر اکبر اور اس کے درباری علماء سو کی طرف سے الحادی فکر کی یلغار کی گئی جس کے نتیجے میں خدا اور رام، مسجد اور مندرکو یکساں حیثیت دی جانے لگی گویا کہ لوگوں کے ذہنوں سے حق اور باطل میں فرق کا تصور کمزور ہونے لگا جس سے اسلام کے روشن تصورکے داغدار ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا تو حضرت مجدد الف ثانی نے اپنی تمام تر تبلیغی قوتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے علماء مصلحین اور اپنے متعلقین کو یہ بات باور کرائی کہ حق اور باطل دو الگ اور مختلف چیزوں کے نام ہیں جو کہ کبھی بھی آپس میں اکٹھے نہیں ہوسکتے اور حق باطل کیساتھ مل کر کبھی حق نہیں رہ سکتا اور آپ نے اس مسئلہ پر بڑی شرح و بسط کے ساتھ گفتگو فرمائی اور اس مسئلہ میں آپ کا فلسفہ یہ ہے کہ جس قدرحق اور باطل کا ادراک زیادہ ہوگا اسی قدر نیکی اور بدی میں تمیز زیادہ ہوگی اسی طرح اگر حق وباطل میں امتیاز کا ادراک نہ ہو یاکم ہوتو پھرحلال وحرام اور خیروشر کا امتیاز بھی قائم نہیں رہتا۔

عصر حاضر میں ہمارے مغرب زدہ طبقے کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہے کہ وہ فلسفہ مغرب کے زیراثر اسلامی شعائر پر تنقید کرنے سے بھی نہیں رکتے حالانکہ انہیں اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ جس غیر اسلامی تہذیب کے وہ دلدادہ ہیں اس کے اندر تو ادارک کی یہ قوت بھی نہیں کہ وہ بکری جیسے ایک صاف ستھرے جانوراور کتے اورسورجیسے غلیظ اور گندے جانور میں فرق ملحوظ رکھ سکیں و ہ تو ان سب کو برابر سمجھ کر کھا جاتے ہیں یہ محض اس لیے ہے کہ ان کے اندر حق کی روشنی نہیں ہے بلکہ باطل کی تاریکی ہے جس کی وجہ سے وہ یہ فرق ملحوظ نہیں رکھ سکتے تو وہ اقوام جو حق کے نور سے بہرہ مند نہیں۔ہم اسلامی تہذیب کے حاملین کے لیے نمونہ یا آئیڈیل کیسے ہوسکتی ہیں۔ہمارے لیے تو نمونہ اور آئیڈیل صرف اور صرف حضور رسالت مآبؐ کی ذات پاک ہی ہے یہی وہ تصور ہے جسے اکبری دور میں دھندلا کرنے کی سازش کی گئی اور اسی تصور کو امت میں پوری طرح اجاگر کرنے کے لیے حضرت مجدد الف ثانی نے رسالہ’’اثبات النبوۃ‘‘ تحریر کیا اور پوری امت بالخصوص برعظیم میں رہنے والے الحادی فکر سے متاثر مسلمانوں کا رخ اپنے مرکز کی طرف موڑ دیا۔

آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل علم و دانش اور صاحبان قلم و قرطاس حضرت مجدد کی دی ہوئی اس فکر کو آگے بڑھائیں تاکہ اپنے مغرب زدہ طبقہ کی سوچ میں تبدیلی پیدا کر کے اپنی اصل کی طرف لایا جا سکے۔جس طرح حضرت مجدد الف ثانی نے حضورؐ کی ذات اور سنت سے عشق و محبت کا درس دے کر امت کی ناؤ ڈوبنے سے بچائی آج بھی مصلحین امت کی یہ ذمہ داری ہے کہ امت کی ہچکولے کھاتی ہوئی اس کشتی کو ڈوبنے سے بچائیں اور یہ بات علی وجہ البصیرت کہی جا سکتی ہے کہ اگرحضرت مجدد الف ثانی کے افکار کی روشنی میں آپ کے طرز عمل کے نقوش پر قدم آگے بڑھائے جائیں تو مذکورہ امور میں کامیابی سہل اور ممکن ہے۔

مزید :

رائے -کالم -