آصف زرداری کے جعلی اکاؤنٹس میں پیسہ ہم نے نہیں ڈالا،ایک دوسرے کو چور کہنے والے دونوں سچے تھے:مراد سعید

آصف زرداری کے جعلی اکاؤنٹس میں پیسہ ہم نے نہیں ڈالا،ایک دوسرے کو چور کہنے ...
آصف زرداری کے جعلی اکاؤنٹس میں پیسہ ہم نے نہیں ڈالا،ایک دوسرے کو چور کہنے والے دونوں سچے تھے:مراد سعید

  



اسلام آباد (آئی این پی)وفاقی وزیر مواصلات وپوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا گو امریکا گو کا نعرہ دراصل چلو امریکا چلو ہے، وکی لیکس میں آیا کہ مولانا فضل الرحمن نے امریکہ کوکہاکہ مجھے خدمت کاموقع دو، یہ لوگ اسلام کارڈ استعمال کررہے ہیں، پہلے کہا جاتا تھا کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے مگر آج نہ کھاتا ہے نہ کھانے دیتا ہے، مگرجو پہلے کھایا گیا اس کو بھی نکلوارہا ہے، ملک کا کوئی ادارہ یہ منافع بخش چھوڑ کر نہیں گئے، میں نے این ایچ اے میں 10ارب واپس لئے،ماضی میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی والے ایک دوسرے کو چور چور کہتے رہے دونوں سچے تھے،آصف زرداری کے جعلی اکاؤنٹس میں پیسہ ہم نے نہیں ڈالا، آپ نے سندھ کا پیسہ اپنے اکاونٹ میں ڈالا، جو پیسہ سندھ کی ترقی پر لگانا تھا وہ فالودے اور سموسے والے کے اکاونٹ سے نکلتا ہے، تھر کی رپورٹ آئی کہ سینکڑوں بچے بھوک سے مرگئے،کیا وہ کسی کے بچے نہیں،ملک میں کوئی سیاسی انتقام نہیں لیا جارہا۔

سینیٹ میں سیاسی انتقام سے متعلق تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ 2013کے الیکشن کے بعد وزیراعظم قومی اسمبلی میں آئے اور 4حلقے کھولے، ہم ٹربیونل اور کورٹ بھی گئے، اس کے بعد ہم سڑکوں پر نکلے، ہمارے ورکروں اور لوگوں کو گرفتار کیا گیا، تحریک انصاف پانامہ لیکس لے کر نہیں آئی تھی، دنیا کے تحقیقاتی رپورٹرز کی رپورٹ جاری ہوئی، کرپشن کی تحقیقات کیلئے ہم سڑکوں پر نکلے، اس وقت کے وزیراعظم، صدر اور چار وزراء پر دہشت گردی کے مقدمات درج کئے گئے، ہم کرپشن کے خلاف نکلے تھے، آج پاکستان میں کسی قسم کی آزادی ہے، آج کراچی سے قافلہ نکلا اور اسلام آباد آ گیا مگر کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی، ماضی میں پرویزخٹک کے قافلے کے اوپر گولیاں چلائی گئیں جو جمہوریت پر کالا دھبہ ہے، گزشتہ رات کو دھرنے والے اپنے گھروں میں چلے گئے مگر غریب ورکر بارش میں سسکتے رہے، ان کی مدد کیلئے ہی وزیراعظم عمران خان آئے، اس موقع پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ یہ اپوزیشن کا ایجنڈا ہے،وزیر اس پر بات کیوں کر رہے ہیں۔

مراد سعید نے کہا کہ سوال اٹھایا گیا کہ سابق نا اہل وزیراعظم گرفتار کیوں ہے، پانامہ پیپرز تحریک انصاف نہیں لائی تھی۔مراد سعید نے کہا کہ آزادی مارچ میں بارش میں لیڈران اپنے گھروں کو چلے گئے، وزیراعظم نے ان کو اکیلا نہیں چھوڑا، انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ امداد نہیں چاہیے،مولانا کے پاس 15سال کشمیر کمیٹی رہی، انہوں نے کشمیر کا نام تک نہیں لیا، انہوں نے صرف کشمیر کمیٹی کی صدارت صرف مراعات کیلئے رکھی،دو ماہ میں صرف کشمیر پر بات ہو رہی تھی، مارچ کر کے ان لوگوں نے کس کو فائدہ پہنچایا، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں ایوانوں میں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتے تھے، دونوں سچ بولتے تھے، تھر میں بچے خوراک کی عدم فراہمی پر جان سے گئے، کیا وہ کسی کے بچے نہیں تھے، رپورٹ کے مطابق 81 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں، آج فالودے والے کے اکاؤنٹس سے اربوں روپے نکل رہے ہیں، یہ وہ پیسے ہیں جو غریب عوام پر خرچ ہونا تھے، نائن الیون کے بعد اسلام آباد کو دہشت گردی سے جوڑا گیا، دہشت گردی سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہوا، پھر بھی ہم مسلمان دہشت گرد ہیں، نائن الیون کے بعد ان کی حکومت کے پی کے میں تھی، مولانا فضل الرحمن کا گو امریکا گو کا نعرہ دراصل چلو امریکا چلو ہے، پہلے کہا جاتا تھا کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے مگر آج نہ کھاتا ہے نہ کھانے دیتا ہے، مگرجو پہلے کھایا گیا اس کو بھی نکلوارہا ہے، ملک کا کوئی ادارہ یہ منافع بخش چھوڑ کر نہیں گئے، میں نے این ایچ اے میں دس ارب روپے واپس لئے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد