حکومت اور اپوزیشن، دونوں کا امتحان

حکومت اور اپوزیشن، دونوں کا امتحان

  



مولانا فضل الرحمن کا ”آزادی مارچ“ ابھی تک ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔ایک ہفتہ گذر گیا لیکن اس کے شرکا ہیں کہ اپنی جگہ چھوڑنے پر تیار نہیں۔گزشتہ روز تیز ہوائیں چلیں، بادل بھی برسے، سردی کی شدت میں اضافہ ہوا، ”دھرنا نشینوں“ کی مشکلات بڑھ گئیں لیکن وہ مولانا فضل الرحمن کے اشارے کا انتظار کرتے رہے۔مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔حکومتی کمیٹی وزیر دفاع پرویز خٹک کے زیر قیادت رہبر کمیٹی کے ارکان سے بات چیت میں لگی ہوئی ہے۔رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی چھاتی چوڑی کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ہم اپنے مطالبات پر قائم ہیں اور وزیراعظم کا استعفیٰ پہلے نکتے پر ہے تو ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے پرویز خٹک بھی شہادت دیتے ہیں کہ فریقین اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔کسی ایسے حل کی تلاش جاری ہے جس سے دھرنے کو فیس سیونگ مل جائے اور حکومت کا بھی نقصان نہ ہو۔ایک کے بعد دوسرے دور پر اتفاق کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی فریق بات چیت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتا،دونوں کو دروازہ کھلا رکھنے میں عافیت سجھائی دے رہی ہے۔امید کو توڑنا کوئی بھی اپنے حق میں نہیں سمجھتا سو، مذاکرات جاری ہیں،لیکن ابھی تک یہ بہروں کے درمیان بات چیت والا معاملہ ہے کہ کوئی بھی دوسرے کی سننے پر تیار نہیں ہے۔ اپنی کہے جا رہا ہے…… استعفیٰ، استعفیٰ، استعفیٰ…… نہیں، نہیں اور نہیں۔مذاکراتی کمیٹیوں کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن اور چودھری برادران کے درمیان بھی بات چیت شروع ہے۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی چودھری ظہور الٰہی شہید کے سیاسی جانشین(علی الترتیب بیٹے اور بھتیجے) ہیں مرحوم چودھری صاحب اور مولانا فضل الرحمن کے والد مولانا مفتی مرحوم کی سیاست برسوں ہم سفر رہی۔ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دوور میں قومی اسمبلی کے اندر اور باہر ان کی جدوجہد آمرانہ رویوں کے خلاف تھی۔درد کے رشتے نے انہیں ایک دوسرے سے باندھے رکھا۔ چودھری صاحبان کے سماجی روابط مخالفین سے بھی ٹوٹنے نہیں پاتے۔ مولانا فضل الرحمن کے نزدیک ان کی اور ان کے نزدیک مولانا کی قدرو قیمت واضح ہے۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے مولانا کی یوں گاڑھی چھن رہی ہے کہ وہ ان سے ملنے کے لئے بنفس ِ نفیس ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔ معلوم ہوا کہ چودھری شجاعت کی طبیعت ناساز ہے تو انہوں نے خود پیش قدمی کر لی۔مولانا نے اپنی آمد کے حوالے سے ہنستے ہوئے کہا کہ مَیں ”شوگر فری“ حلوہ کھانے آیا ہوں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ چودھری شجاعت شوگر کے پرانے مریض ہیں، اور چینی کے بغیر مٹھاس ان کے ہاں وافر دستیاب ہوتی ہے۔مولانا کو شوگر فری حلوہ تو ضرور مل گیا ہو گا،انہوں نے اس سے شوق بھی فرما لیا ہو گا،لیکن مٹھاس کے سیاسی اثرات کب سامنے آئیں گے،یہ ابھی تک معلوم نہیں ہو پا رہا۔

مولانا وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں،انہوں نے دھرنا کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دھاندلی ثابت ہو چکی ہے۔ اس استدلال سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں اپنے موقف کے بارے میں اٹھائے جانے والے اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے، جس میں پہلے انتخابی دھاندلی کو ثابت کرنے کا تقاضہ کیا جاتا ہے۔یہ سوال سیاسی اور اخباری حلقوں میں بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ اُس وقت با وزن ہو گا جب انتخابی دھاندلی ثابت ہو جائے۔مولانا نے اپنی تقریر میں الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے اپنے موقف میں وزن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن معاملہ کسی ایک، دو یا چار حلقوں کا نہیں منظم دھاندلی کا ہے۔انتخابات تو اسی وقت کالعدم ہو سکیں گے، اگر یہ منوا لیا جائے کہ کسی شخص(یا عنصر) نے باقاعدہ منصوبہ بنا کر نتائج کو الٹ ڈالا ہے۔ عمران خان تحریک انصاف کے چیئرمین کے طور پر جب انتخابی دھاندلی کا الزام لگا رہے تھے تو ابتدا میں ان کا مطالبہ چار حلقوں کو کھولنے کا تھا۔جب بالآخر اس حوالے سے کمیشن قائم ہو گیا تو اس کا مینڈیٹ یہ تھا کہ ”منظم دھاندلی“ کا سراغ لگائے۔22کروڑ کے ملک میں جہاں ہزاروں پولنگ سٹیشن قائم ہوتے اور ان میں ووٹ ڈالے جاتے ہیں، وہاں دو، چار، دس، بیس نشستوں پر دھاندلی کے امکانات بہرحال موجود رہتے ہیں۔کہیں کہیں انتخابی بے قاعدگی اور بدنظمی کے امکانات کو بھی یکسر رد نہیں کیا جا سکتا،اسی لیے انتخابی قوانین میں عدالتی ٹریبونل بنانے کی ضرورت تسلیم کی جاتی ہے،تاکہ پیدا ہونے والی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔اگر چند نشستوں پر دھاندلی ثابت ہو جائے، اور مقامی افراد یا الیکشن کمیشن کا عملہ اس میں ملوث پایا جائے تو بھی پورے ملک میں ہونے والے انتخابات کی نفی نہیں کی جا سکتی۔باقاعدہ منظم دھاندلی کے شواہد کے بغیر انتخابی عمل کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا فضل الرحمن اور ان کے ہم خیال رفقا سے بار بار یہ سوال کیا جاتا ہے، اور اس میں مزید وزن اس وقت پیدا ہو جاتا ہے، جب مولانا کے دائیں بائیں کھڑے اپوزیشن رہنما اسمبلیوں میں ابھی تک براجمان نظر آتے ہیں،وہ اپنی نشستوں سے مستعفی ہوئے ہیں، نہ ہی ان کی طرف سے ایسا کوئی اشارہ مل رہا ہے۔اگر اپوزیشن اراکین اپنے انتخاب کو منصفانہ سمجھتے ہیں،اپنی نشستوں کو برقرار رکھنے پر بضد ہیں تو پھر وہ صرف حکومتی ارکان کی حاصل کردہ نشستوں پر سرخ لکیر کیسے لگا سکتے اور صرف وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیسے کر سکتے ہیں۔

آزادی مارچ میں بھلے لاکھوں افراد شریک ہوئے ہوں،دھرنے میں بھی اتنے ہی لوگ موجود رہے ہوں،ان کی تعداد تحریک انصاف اور ڈاکٹر طاہر القادری کی ”دھرنیوں“ سے بہت زیادہ ہو، وزیراعظم عمران خان کی معاشی اور سیاسی پالیسیوں پر بھی جتنی پرزور تنقید کر لی جائے، ان کی خامیاں اور کوتاہیاں جس طرح بھی بیان کر لی جائیں، اس سب کو وزیراعظم کے استعفے کا جواز کیسے بنایا جا سکتا ہے؟یہ تسلیم کہ وزیراعظم سے استعفا مانگنا غیر آئینی نہیں ہے،یہ بھی تسلیم کہ نئے انتخابات کا مطالبہ بھی خلافِ دستور نہیں ہے؟ اس مقصد کے لیے دھرنا دیا جا سکتا ہے۔مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ جلوس نکالا جا سکتا ہے،مارچ بھی کیا جا سکتا ہے……لیکن بات زبردستی منوائی نہیں جا سکتی۔امن عامہ کو نقصان پہنچا کر قانون شکنی کر کے اپنے مطالبے کو موثر بنانے کی کوشش روا نہیں رکھی جا سکتی۔صد شکر کہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے شرکا کا نظم و ضبط مثالی ہے۔وہ پُرامن انداز میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اپنے آپ ہی کو صعوبت میں مبتلا کر کے اپنے مطالبات کے حق میں رائے عامہ ہموار کر رہے ہیں۔ لیکن اس جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانا قیادت کی ذمہ داری ہے۔ تبدیلی کے لئے دستوری آپشنز پر غور ضروری ہے،حکومت کے منہ زور رویوں کو لگام ڈالنے کی کوشش کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ضروری ہے۔حکومت اور اس کے مخالفین،دونوں امتحان گاہ میں ہیں۔ضد جمہوریت کی نفی ہے۔100فیصد نمبر حاصل کیے بغیر بھی تو فرسٹ ڈویژن میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔60،70 فیصد نمبر حاصل کر کے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...