نیم دلانہ اقدامات، مہنگائی کم نہیں ہو گی!

نیم دلانہ اقدامات، مہنگائی کم نہیں ہو گی!

  



وزیراعظم عمران خان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر پچاس ہزار خاندانوں کو راشن دینے کا اعلان کیا ہے،اِس سے قبل صحت کے حوالے سے صحت کارڈ کی تقسیم جاری اور لاکھوں کارڈ دیئے جا چکے ہیں،ان اقدامات سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم کو احساس ہے اور وہ اپنی حد تک ممکن کوشش کر رہے ہیں،لیکن معاشرتی امراض کا کیا کِیا جائے کہ پہلے لوگ صحت کارڈ کے حوالے سے سوال کر رہے ہیں کہ ان کی تقسیم کا معیار کیا ہے اور کن لوگوں کو دیئے گئے کہ علاج تو مہنگے سے مہنگا تر ہو گیا،اور ہسپتال نجی تحویل میں دیئے جا رہے ہیں،جس کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت صرف میڈیکل بورڈ(بورڈ آف ڈائریکٹرز) کی منظوری سے دی جا سکے گی،جیسا کہ شوکت خانم ہسپتال کا دستور اور قواعد ہیں،اس طرح کارڈ والے تو ساڑھے سات لاکھ روپے سالانہ تک علاج کرا لیں گے،جن کے پاس کارڈ نہیں وہ کیا کریں گے؟جبکہ کارڈز کے بارے میں یہی شکایت کی گئی ہے کہ یہ تحریک انصاف والوں کو مل رہے ہیں۔اب جو پچاس ہزار خاندانوں کو راشد دینے کا اعلان کیا گیا ہے تو یہ بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے اور معلوم نہیں وہ کون سے خوش نصیب ہوں گے جن کو یہ راشن ملے گا؟حالانکہ اس وقت نچلا درمیانہ طبقہ اور نچلے طبقے کے ساتھ ساتھ لگی بندھی تنخواہ (ماہانہ آمدنی) والے پریشان حال ہیں کہ مہنگائی ہر روز بڑھ رہی ہے،حالات یہ ہیں کہ ملکی زرعی پیداوار بھی پہنچ سے دور ہو گئی،کاشتکار الگ دہائی دے رہے ہیں اور صارف واویلا کر رہے ہیں کہ کوئی سبزی، کوئی پھل سستا تو دور کی بات ان کی آمد نی کے حوالے سے پہنچ میں نہیں اور حکومت اب تک مانگ اور سپلائی کے درمیان فاصلے کو ختم نہیں کر سکی اور نہ ہی ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو راہِ راست پر لایا جا سکا ہے۔ وزیراعظم اور حکومتی اراکین کے تمام احکام ہوا میں اُڑ جاتے ہیں،اور پھر یہ جو کچھ کیا جا رہا ہے یہ بالکل عارضی اور عبوری ہے،جس میں انصاف تو کجا ہے بے انصافی بھی نہیں روکی جا سکتی۔ اگر کچھ کرنا ہے تو یہ امدادی عادت چھوڑیں،مارکیٹ کو صارف کی حیثیت تک لانے کا انتظام کریں کہ اب لوگ صبر کی حد سے گزرتے چلے جا رہے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ پیٹ کی آگ بری بلا ہے،افسوس تو یہ بھی ہے کہ اپوزیشن بھی اس پر زور نہیں دے رہی کہ اس کے لئے بھی مہنگائی سے زیادہ ان کی سیاسی ضرورت ہے،حالانکہ اِس وقت اس سے زیادہ حساس کوئی بات نہیں۔جہاں تک مہنگائی کو کم کرنے یا اس پر قابو پانے کا تعلق ہے تو بیانات، امداد اور نیم دلانہ انتظامی کوشش سے یہ ممکن نہیں۔اگر سنجیدگی سے کچھ کرنا ہے تو کھیت سے منڈی اور منڈی سے بازار (پرچون فروش) تک کا مکمل سروے،اعداد و شمار حاصل کر کے ان کے درمیان توازن پیدا کرنا ہو گا اور پیداوار میں اضافے کے بعد اسے صارف تک پہنچانے کا بھی بندوبست لازمی ہے۔ اور اب تو وزیراعظم نے خود کہہ دیا،اصل مسئلہ مہنگائی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...