سکینڈے نیویا کی سب سے بڑی مسجد کے خطیب سے ملاقات

سکینڈے نیویا کی سب سے بڑی مسجد کے خطیب سے ملاقات
سکینڈے نیویا کی سب سے بڑی مسجد کے خطیب سے ملاقات

  



قرون اولیٰ میں مساجد کو معاشرے میں کلیدی اور مرکزی حیثیت حاصل تھی، معاشرتی اور حکومتی امور مساجدمیں ہی انجام دئیے جاتے تھے۔ جب بھی غیر ملکی وفود حضور اکرمﷺ سے ملاقات کی غرض سے آتے تھے تو ان کی ملاقاتیں بھی مسجد نبویؐ میں ہی ہوتی تھیں۔ ان کی رہائش گاہ اور خورو نوش کا بندوبست بھی یہیں کیا جاتا تھا۔ تجہیزو تکفین سے لے کر شادی بیاہ کی تقریبات تک سبھی مساجد میں ہی منعقد ہوتی تھیں،یہاں تک کہ جنگی مشقیں بھی مسجد نبویؐ میں ہوا کرتی تھیں۔ عہد نبویؐ میں نکاح، درس و تدریس کے ساتھ ساتھ جہاد کا آغاز بھی یہاں سے ہوتا تھا،رسول اکرمﷺ نے،جو خطوط قیصرو کسریٰ کو لکھے تھے،وہ بھی مسجد میں ہی بیٹھ کر لکھے گئے تھے۔ لنگر خانہ اور بیت المال بھی یہیں قائم تھا،جہاں ضرورت مندوں کی اعانت کی جاتی تھی۔

الغرض معاشرے کے رسم ورواج ہوں یا دینی تعلیم، مسجد کو ایک مرکزی مقام حاصل تھا، اِس امر کا اظہار سکینڈے نیویا کی سب سے بڑی مسجد، جو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں قائم ہے، کے خطیب و امام اور ڈائریکٹر سید نعمت علی شاہ بخاری مرکزی جماعت اہل ِ سنت رجسٹرڈ ناروے نے راقم الحروف سے گفتگو میں کیا، جہاں مَیں نے اوسلو میں اپنے قیام کے دوران ان سے ملاقات کی۔ ناروے کے دورے کی دعوت 14اگست کو کمیٹی کے صدر اور فرینڈز آف ڈاکٹر عبدالقدیر خان برائے یورپ کے چیئر مین عامر جاوید شیخ نے دی تھی،جبکہ اس ملاقات کا اہتمام محترم طلعت بٹ سینئر ممبر مرکزی جماعت اہل ِ سنت نے کیا تھا، جو ناروے کی ممتاز اور مقبول سیاسی و سماجی شخصیت ہیں۔وہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے دوستوں، خصوصاً سید نعمت علی شاہ بخاری سے ملانے کے لئے لے گئے تو انہوں نے بڑی گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا۔اس ملاقات میں میرے ساتھ فاروق بلوچ بھی موجود تھے۔

رسمی دعا سلام کے بعد سید نعمت علی شاہ نے بتایا کہ یہ مسجد 6000 سکوائر میٹر میں ہے، جس کی بنیاد 1976ء میں رکھی گئی تھی، تعمیر کے مراحل تیزی سے جاری رہے اور اس مسجد میں باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز 2006ء میں ہوا۔ مسجد میں نمازوں کے علاوہ درس و تدریس،جس میں قرآنی و اسلامی تعلیمات شامل ہیں، کا اہتمام ہے،یہاں ایک لائبریری بھی موجود ہے، جس میں اسلامی اور دینی کتب کی ایک خاطر خواہ تعداد موجود ہے، جس سے ناروے کے مسلمان استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں مہمان خانہ بھی موجود ہے، جہاں دیگر ممالک اور شہروں سے آئے ہوئے لوگ،جو ہوٹلوں میں رہنا پسند نہیں کرتے،ہمارے مہمان خانوں میں قیام کرتے ہیں اور دیگر ممالک کے وفود کو بھی انہی مہمان خانے میں ٹھہرایا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مسجد کو آمدنی میں خودکفیل بنانے کے لئے ہم نے مسجد میں شاپنگ مال بھی بنایا ہوا ہے، اس کے علاوہ یہاں مقیم مسلمانوں کے لئے ہال بھی قائم ہے،جہاں شادی بیاہ کی تقریبات اور دیگر رسومات اد اکی جاتی ہیں اور تجہیزو تدفین کا بھی انتظام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے مسجد میں مرد، خواتین یہاں تک کے بچوں کی نمازکی ادائیگی کے لئے نہ صرف علیحدہ ہال قائم کئے ہیں،بلکہ ان کے مسجد میں داخلے کے لئے راستے بھی الگ الگ رکھے ہوئے ہیں،جو شعائر اسلامی کے عین مطابق ہیں۔سیدنعمت علی شاہ بخاری نے مزید بتایا کہ ہم نے ہر عمر کے مرد، خواتین اور بچوں کے لئے اسلامی اور قرآنی تعلیمات کا بھی انتظام کیا ہوا ہے اور ہم نے یہ سب کچھ ریاست مدینہ کے تصور اور مسجد نبویؐ میں ہونے والی سرگرمیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ میرے استفسار پر کہ مسجد میں دُنیاوی باتوں سے اجتناب کرنا کیا ضروری ہے تو انہوں نے بتایا کہ ایسی بات نہیں،اسلام دین اور دُنیا دونوں کی بات کرتا ہے،اس تاکید کے ساتھ کہ دُنیا میں کی جانے والی باتیں اسلام سے انحراف کا باعث نہ ہوں اوردُنیا کو آخرت پر غلبہ حاصل نہیں ہونا چاہئے اور نبی اکرمﷺ کے فرمودات کو ہر بات میں فوقیت دی جانی چاہئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یورپ نے ریاست، چرچ اور پارلیمنٹ کو الگ کیا تو اس کے اثرات مساجد پر بھی ہوئے اور مساجد کو صرف نمازوں اور خطبات تک محدود کر دیا گیا،جو درست نہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کون سی معاشرتی ذمہ داری یا روایت ہے،جو ہم مسجدمیں ادا نہیں کرسکتے،جبکہ ہماری مساجد میں ایسا نہیں ہے۔ میرے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہماری مسجد کو خاصی تعداد میں عطیات ملتے ہیں، پھر مسجد کی اپنی آمدنی بھی اتنی ہے کہ مسجد اپنے اخراجات میں کسی کی محتاج نہیں اور خود کفیل ہے۔اس کی ماہانہ آمدنی دو لاکھ ناروے کرونا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم آسمانی آفات اور دیگر ابتلاء و آزمائش کے لمحوں میں پاکستان کی مدد بھی کرتے ہیں۔

عام حالات ہر مالی تعاون زکوٰۃ کی مد میں وصول ہونے والی رقوم سے کیا جاتا ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی بڑی آفت ہو تو پھر ہم منظم طور پر عطیات کے لئے مہم چلاتے ہیں اور مالی امداد کے علاوہ اشیائے ضروریہ بھی پاکستان بھیجتے ہیں۔ اوسلو کے لوگ خوشحال بھی ہیں اور فراخ دِل بھی اور وہ دِل کھول کر تعاون کرتے ہیں،انہوں نے مزید بتایا کہ لوگوں کو جب یہ یقین ہوجائے کہ وہ جس مقصد کے لئے تعاون کررہے ہیں،ان کی دی گئی مالی امداد اسی مقصد کے لئے خرچ ہوگی تو وہ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیتے ہیں۔ سید نعمت علی شاہ بخاری نے بتایا کہ ہم شوکت خانم ہسپتال، کڈنی سینٹر اسلام آباد اور دیگر رفاہی اداروں کی باقاعدگی سے اعانت کرتے رہتے ہیں۔

گفتگو کے دوران جب محسن ِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان کی سربراہی میں بننے والے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کا ذکر آیا تو سید نعمت علی شاہ بخاری نے کہا ڈاکٹر صاحب کا غریبوں کے لئے ہسپتال قائم کرنا ایک بہت اچھی بات ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے پاکستان کو ایٹمی و میزائل قوت بناکر جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے، وہ ان کا پاکستان اور پاکستانی قوم پر ایک احسان عظیم ہے اور قوم ان کے اس احسان کا قرض نہیں چکا سکتی۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی اچھی صحت اور درازیئ عمر کی دُعا کی اور کہا کہ ہم ہسپتال کے کار خیر میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں گے، جو ہمارا فرض ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...