ہڑتالی ڈاکٹروں کیخلاف پیڈاایکٹ کے تحت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

ہڑتالی ڈاکٹروں کیخلاف پیڈاایکٹ کے تحت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کے خلاف دائردرخواست پرینگ ڈاکٹرز سمیت ڈاکٹروں کی تمام تنظیموں کے نمائندوں کو آج7نومبر کو طلب کرلیاہے۔عدالت نے پاکستان میڈیکل کمیشن سمیت متعلقہ سرکاری اداروں سے وضاحت بھی طلب کرلی ہے کہ ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟ مسٹرجسٹس جواد حسن نے یہ کارروائی جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر کی ہے،فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ جو لوگ کسی کی زندگی بچانے کے ذمہ دار ہیں وہ کیسے ہڑتال پر جا سکتے ہیں؟ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج کاطریقہ کار قانون کے برعکس ہے، کیوں نہ ہڑتال کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے اور ان کی ڈگریاں منسوخ کرنے کاحکم دے دیا جائے،عدالت ہرصورت میں ہڑتال ختم کرائے گی اور اس سلسلے میں جو بھی فیصلہ ہوگا اوپن کورٹ میں ہوگا،عدالت بغیر کسی خوف کے کھلی عدالت میں ہی فیصلہ سنائے گی،قانون کی عمل داری کے اس معاملے میں عدالت انتظامیہ کے ساتھ ہے،فاضل جج نے کمرہ عدالت میں موجود ایڈیشنل سیکرٹری سے استفسار کیا کہ ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف پیڈاایکٹ کے تحت کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟فاضل جج نے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی ہے کہ ان ڈاکٹروں کے لائسنس ہیں توانہیں کینسل کیوں نہیں کیا گیا؟پاکستان میڈیکل کمشن نے ابھی تک ان ڈاکٹروں کے لائسنس کیوں منسوخ نہیں کئے؟دنیا بھر میں پروفیشنل ہڑتال پرنہیں جاتے،یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی کے علاج کے لئے ہسپتالوں میں ڈاکٹردستیاب ہی نہیں ہیں، اگر ڈاکٹروں کے نئے قانون پراعتراضات تھے توعدالت سے رجوع کرتے،عدالتوں کی موجودگی میں ہڑتال کیوں کی گئی؟عدالت شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے، ایڈیشنل سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ 10اکتوبر سے ایم ٹی آئی قانون کے خلاف احتجاج کررہے ہیں،فاضل جج نے کہا ایسا کوئی قانون نہیں بن سکتا جو عوام کے بنیادی حقوق کے خلاف ہو،ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ نے کہا کہ جس قانون کے خلاف ڈاکٹر احتجاج کررہے ہیں،وہ ابھی تک نافذ ہی نہیں ہوا،فاضل جج نے کہا قانون نہیں بناسکے تو فریقین کا موقف سنے بغیر آرڈیننس جاری کردیاگیا،ایڈیشنل سیکرٹری صحت نے بتایا کہ سارے فریقین کا موقف سن کر ایم ٹی آئی کے قانون میں ترامیم کی گئیں،عدالت نے کہا پھر ڈاکٹر کیوں ہڑتال پرہیں؟درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹروں کی ہڑتال کے سیاسی مقاصد ہیں۔فاضل جج نے اس مقدمہ میں لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر حفیظ الرحمن چودھری کو بھی فوری طور پر عدالتی معاونت کے لئے طلب کرلیا،ہائی کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ کسی کو مریضوں کی زندگی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ڈاکٹرکالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کرسکتے ہیں، صدر ہائی کورٹ بار نے تجویز دی کہ پیمراکو پابند بنایا جائے کہ ڈاکٹروں کی ہڑتال کی میڈیا کوریج نہ ہو،عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری صحت کو ہدایت کی کہ ڈاکٹروں کی ہڑتال کے خلاف کئے گئے اقدامات کی تفصیلات پیش کی جائیں،اس کیس کی مزید سماعت آج 7نومبر کو ہوگی۔درخواست گزارکا موقف ہے کہ ڈاکٹروں کی ہڑتال سے کئی زندگیاں چلی گئیں۔

ہڑتالی ڈاکٹر

مزید : پشاورصفحہ آخر