بیس روپے تھا من آ ٹا!

بیس روپے تھا من آ ٹا!
بیس روپے تھا من آ ٹا!

  



دیہا تی گھر وں کا پس منظر رکھنے والوں کے لئے شہر ی زند گی کے بہت سے پہلو عجیب ہو تے ہیں۔ چھو ٹے شہروں میں بھی وہی دیہات جیسی سادہ زندگی اور فطرت کی قر بت کا احسا س رہتا ہے، مگر بڑے شہروں میں ایسا ما حول ملنا تو در کنار، ایسی سوچ اور معصوم خوا ہشیں رکھنا ایک لگژری ہے۔صبح طلوع ہو تے سورج سے لے کر اس کے غروب ہو نے تک یہاں سب کچھ الٹ ہو چکا ہے۔شہر میں شام کا تصور ہی نہیں ہے۔ دن اچا نک رات کے اندھیرے میں چھپ جا تا ہے۔عشا کی نماز پڑ ھتے ہی دودھ کا پیا لہ پی کر سو نے کی با تیں پرا نی ہو چکی ہیں۔اب راتیں یہاں دیر سے شروع ہو تی ہیں اور دن چڑ ھنے کا وقت دوپہر ایک بجے ہو تا ہے۔ گاؤں میں سرِ شام آسمان ستاروں سے بھر جاتا ہے، بے شک آ پ انہیں گنتے رہیں، مگر رات ختم ہو نے کا نام بھی نہیں لیتی۔ باہر کھلے میں بندھے جانوروں کے پاس دھو ئیں کے مر غولے، چودھویں کے چاند میں چمکتے میدان، صرصر کر تی ہوا ئیں،جن میں دور کہیں جُگل بندی کر تے کتوں کی آوازیں بھی شا مل ہو تی ہیں، اگر آ پ کبھی اس ماحول میں رہے ہوں تو یہ بڑے دلفریب منظر ہوتے ہیں۔

کتوں سے یاد آ یا، یہ شہروں میں بھی مل جا تے ہیں، مگر نہ تو ان میں وہ سا دگی ہو تی ہے اور نہ ہی وہ بے سا ختگی، جس سے گاؤں کے کتے آ شنا ہوتے ہیں۔مہذب ماحو ل میں پر ورش پانے والے کتے بھی بڑی نرالی ڈھب کے ہو تے ہیں۔ان کے بھو نکنے کا انداز اور ہدف بھی مختلف ہوتا ہے۔گا ؤ ں کے کتے بھو نک بھو نک کر رکھوا لی کر تے ہیں، مگر کا ٹتے نہیں۔انگریزی میں ایک کہا وت ہے: ”بھو نکنے وا لے کتے کا ٹتے نہیں“…… مگر شہروں میں آ پ ان سے کٹ بھی سکتے ہیں۔ گاؤں کے کتے سا دھو قسم کی مخلو ق ہوتے ہیں، ان کا واحد مقصد خدا کے بندوں (بزرگ نما زیوں یا چو روں)کی آ زما ئش مقصود ہو تی ہے۔ (مَیں کتوں کا بے حد احترام کر تا ہوں، اگر قا رئین میں سے کسی کا بھی محترم و محبوب کتا ہے تو مَیں بھی پطرس بخا ری کی طرح التماس کر تا ہوں کہ اس کالم کو با آ واز بلند مت پڑ ھیں، جس کا کام اسی کو سا جھے)

کتے سے مجھے یاد آ یا پچھلے دنوں ایک کتا سو شل میڈیا سٹار بن گیا۔زیا دہ جستجو کی تو پتہ چلا کہ زورو نام کا کتا ہمارے ہر دلعزیز سر غفور کا ہے۔ کتے کی ما لک سے وفاداری توگاؤں اور شہروں سب میں سانجھی ہے، لیکن ففتھ جنریشن وار کے اس زما نے میں اس راز کا علم ما لک کو بھی نہیں ہو تا کہ کب بھو نکتا ہو ا کتا بھو نکنا بند کر دے اور کا ٹنا شروع کر دے۔ بہر حال زورو نے اپنی پہلے ٹی وی سیریل عہدِ وفا میں بھی ڈیبیو کر لیا ہے، یوں راتوں رات سو شل میڈیا پر سٹارز کی صف میں شا مل ہو گیا ہے۔ زورو کا انسٹا گرام پر اپنا اکاؤنٹ ہے، جسے 14000 ہزار سے ز ا ئد لوگ فا لو کر رہے ہیں۔(کیا عجب کہا نی ہے گا ؤں میں لوگ کتوں کے آ گے آ گے ہو تے ہیں، مگر یہاں معا ملہ اس کے الٹ ہے)۔انسٹا گرام پر مَیں نے زورو کی تصویریں دیکھی ہیں۔زو رو کے سٹا ئل اس کے مخملیں بال، مخمو ر آ نکھیں،میڈل ٹرا فیاں اورتعریفی سڑٹفکیٹس سب اس کے ٹیلنٹ کے آ گے ہیچ ہیں۔

واللہ کیا د بنگ ناز و انداز پائے ہیں۔بہر حال یہ انسٹا گرام اور ٹو ئٹر جیسے سو شل میڈیا سٹار کی با تیں ہیں،کہاں سر غفور کا پا لتو زورو اور کہاں گا ؤں کے مسکین کتے،جنہیں ہم دیکھتے ہی زیر لب کہتے ہیں: ”اوئے کتے آ توں نئیں تیرے سا ئیں دا منہ ماردا اے“……گا ؤں کے بے سمت راستوں کی بات کہاں سے کہاں جا نکلی ہے، واپس آتے ہیں اپنے گاؤں کی طرف…… جب رو زا نہ شہرِ لا ہو ر میں بہنے والی کینال کے تین رو یہ پگڈنڈی پر گا ڑی دوڑ رہی ہو تی ہے،تب بہتی ند ی کے کنا رے کچھ ان سنے گیتو ں کا شور آ ج بھی ستا نے لگتا ہے۔نہ اس نہر میں وہ پُر شورروا نی ہے، نہ اس کینا ل کا بند مٹی سے بنا ہوا ہے اور نہ ہی نہر کنا رے گھا س چرتی بھیڑوں اور بکریوں کے ریوڑ،یہاں نہ تو ٹریکٹر ٹرالیوں کا شور ہے،نہ اس پردوڑتی مو ٹر سائیکلوں کے پیچھے گر دو غبار کی لمبی لکیر،مگر کیا کریں یہی نہر ہے، اسی سے گزارہ کر نا پڑے گا۔ہما ری دیہی زند گی کی لا ئف لا ئن بہتے دریا اور ند ی نا لے ہیں، ان کے چلتے رہنے میں ہر ے بھرے کھیتوں کی بقا ہے۔شہر ِ لا ہو ر کی نہر گا ؤں کی ندی کا متبادل تو نہیں، مگر اس کی خو بصورتی کا خا ص خیال رکھا گیا ہے۔

اس بہتی ندی کا حسن یہ ہے کہ اس کے دو نوں کناروں پر درخت بہت ہیں۔اس کی بڑی وجہ صوبے کا بڑا شہر ہونا ہے،اسے صوبائی انتظا میہ اور سول سو سا ئٹی کی تو جہ میسر ہے، مگر چھو ٹے شہروں کی نہروں کے گرد درختوں کے ذ خیرے بڑی تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔یہ نہری شعبے کے کرپٹ افسروں اور بیلداروں کے مک مکا کا نتیجہ ہے۔نہر کنا رے درختوں کے بغیر ہوں یہ صو رت حال جچتی نہیں۔درخت زمین کا حسن بھی ہیں اور ما حو لیا تی توازن کو قا ئم رکھنے کی بنیا د بھی،درخت کم ہو جا ئیں توہوا اور در جہ حرارت میں کمی اور اضا فے پر کنٹرول ختم ہو جا ئے گا، اس کا فوری دبا ؤ ہما ری فصلوں کی پیداوار پر ہو گا۔ہما را زر عی پیداوار کا شعبہ پہلے ہی دبا ؤ کا شکا ر ہے۔

گا ؤں کے لو گوں کی بڑی اکثریت اس وجہ سے شہروں کا رخ کر تی ہے،یوں کھیتوں اور با غوں کی زمینوں کو اب شہر کھا رہے ہیں،اس وبا ء کو اربنا ئزیشن کہتے ہیں۔بڑی بڑی شہری آ با دیوں سے بچنا ہے تو گا ؤں میں زرعی معیشت کو سہا را اور بڑ ھا وا دینا ہو گا۔بڑے شہروں میں خالص دودھ کا تصور نہیں، صاف پا نی سے اگائی گئی سبزیوں کو شہروں میں ڈھونڈنا ایک دیوانگی ہے۔ اب لا ہو ر اپنی بڑ ھتی آبادی اور انڈسٹری کی وجہ سے خالص آب و ہوا سے محروم ہو چکا ہے۔ آج کل لاہور میں زہریلی سمو گ کا راج ہے، ایئر کو الٹی انڈیکس میں لا ہور دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے، جہاں زہریلے دھو ئیں کے بادل آ سمان پر چھا ئے رہتے ہیں۔گا ؤں میں فصل کی کٹا ئی کا زما نہ بھی عجیب و غریب مزہ رکھتا ہے، پو را ما حول اس فصل کی خو شبو سے معطر ہو تا ہے۔ دھان کی فصل ہو، سرسوں کی یا گندم کی، بڑی عجیب و غریب من پسند مہک ہو تی ہے۔گندم کی کٹا ئی سے پہلے بیسا کھی یا میلہ منڈی مویشیاں لگتا ہے،جہاں ہر طرح کے جانوروں کی نما ئش کے ساتھ تمام دیسی کھیل، کشتی، اکھا ڑے، نیزہ بازی جیسے دلیرا نہ کھیل، گھڑ سواری کے مقابلے تو جناب کیا کہنے۔

گندم کا بار جب تھریشر پر لگ جا ئے تو کو ئی گھرا نہ گندم سے خا لی نہیں رہتا، پورا سال غم ِ روزگار سے یوں آزاد کہ گھر میں کھانے کو روٹی تو مل ہی جائے گی۔ گا ؤں اور چھو ٹے شہر اس برکت سے ما لا مال ہیں اور بڑ ے شہر اس سے کوسوں دور۔ مَیں دیہا تی گھرا نے کا آدمی اب شہر میں آ بساہو ں تو دیسی آ ٹے کی پسائی وا لی چکی سے وا سطہ رہتا ہے۔ ہر با ر آ ٹے کا نر خ دو چار روپے زیا دہ ہو تا ہے۔ یہ کل کی بات جب40روپے کلو آ ٹا تھا، اگلی بار 50 رو پے اور اس کے بعد 60 رو پے اداکر نا پڑ ے۔ ایک گذ را زمانہ ہم نے سنا ہے کہ بیس رو پے من آ ٹا ہو ا تھا تو حبیب جا لب،گویا ہوئے تھے

بیس رو پے ہے من آ ٹا

اس پر بھی ہے سناٹا

مزید : رائے /کالم


loading...