مٹی کے مادھو کب جاگیں گے؟

مٹی کے مادھو کب جاگیں گے؟
مٹی کے مادھو کب جاگیں گے؟

  



کراچی کی معروف شاعرہ، ناول نگار اور کالم نویس سارہ لیاقت نے آزادی مارچ کے دھرنے کی ایک تصویر لگا کر اسلام آباد کے شہریوں کو متوجہ کیا ہے کہ وہ دھرنے کو اس سرد موسم اور بارش میں گرم کپڑے کمبل، ترپالیں اور خوراک فراہم کریں۔ تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ شرکاء سڑک پر موم جامے کو لپیٹ کر بارش میں پڑے ہیں اور ”ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم“ کی تصویر بنے ہوئے ہیں مجھے سارہ لیاقت کی اس پوسٹ نے خاصا ڈیپریس کر دیا۔ مَیں خود چونکہ چار دہائی پہلے ایک کارکن رہ چکا ہوں اور دھوکے پہ دھوکہ کھا چکا ہوں،

اِس لئے مجھے اس خیال نے افسردہ کر دیا کہ کئی دہائیاں گذر جانے کے باوجود کارکنوں کے جنون،بلکہ پاگل پن میں کوئی کمی نہیں آئی اور نہ انہیں استعمال کرنے والے شاطر ہی کم ہوئے۔2014ء میں اس اسلام آباد کے ڈی چوک پر ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے تھے،فرق صرف یہ تھا کہ اُس وقت لائی لگ تحریک انصاف کے کارکن تھے،آج جے یو آئی کے ہیں۔وہ بھی اچھے دِنوں،بلکہ نئے پاکستان کی امُید میں سردی اور بارش کا مقابلہ کرتے رہے اور آج جے یو آئی کے کارکن بھی نئے پاکستان کو پھر پرانا بنانے کے لئے بارش میں بھیگ رہے ہیں۔”وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے،ہم اپنی وضع کیوں بدلیں“کے مصداق سیاست دان ہی بدلتے ہیں اور نہ اُن کے پیرو کاروں میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ وہی ایک دائرہ ہے،جس میں مناظر بدل جاتے ہیں، حالات وہی رہتے ہیں۔

”منزل اُنہیں ملی جو شریک ِ سفر نہ تھے“والی صورتِ حال اس دیس کے لوگوں کا مقدر رہی ہے۔ ایسے کارکن صرف پاکستان میں پائے جاتے ہیں،جو اپنے قائد کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے گھروں کو چھوڑ دیتے ہیں،اپنے بیوی بچوں کی خبر نہیں لیتے، جو تھوڑا بہت زادِ راہ ہوتا ہے،اُس کی پوٹلی باندھ کر کسی دھرنے، کسی لانگ مارچ،کسی احتجاج میں شامل ہونے کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں،اُن کے کچھ خواب ہوتے ہیں،جنہیں خوابوں کے سوداگر خرید لیتے ہیں،پھر انہیں تعبیر سمیت لوٹانے کا وعدہ کرتے ہیں،لیکن یہ نوبت کبھی نہیں آتی۔ مجھے تو وہ مناظر بھی یاد ہیں،جب ڈاکٹر طاہر القادری کو عورتوں نے اپنے زیورات اتار کر دیئے تھے، انقلاب کے لئے اپنی جمع پونجی تک دے ڈالی تھی، پھر ہاتھ ملنے کی نوبت کے سوا اُن کے ہاتھ کچھ نہیں آیا تھا۔پاکستان میں کارکنوں کو بڑے دھوکے ملے ہیں،لیکن یہ سخت جان مخلوق ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

کسی ایک سوداگر کے پاس کمی آتی ہے تو دوسرا لے اُڑتا ہے۔آج پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو کارکن نہیں مل رہے،لیکن جمعیت العلمائے اسلام(ف) کے پاس دستیاب ہیں،ان کارکنوں کی وجہ سے ہی مولانا فضل الرحمن کی ”گڈی“ چڑھی ہوئی ہے،سب اُن کے درِ دولت پر صرف اسی لئے حاضری دے رہے ہیں کہ اُن کی چشم ابرو کے اشارے پر کارکن گھروں سے نکل آئے ہیں اور اسلام آباد میں کھلے آسمان تلے موسم کی شدتوں کے باوجود دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ان بے چاروں کے ہاتھ کچھ آئے گا یا نہیں، کچھ کہنا قبل از وقت ہے، کیونکہ ان سے پہلے جو اس قسم کے جیالے، متوالے وغیرہ ایسے دھرنے دے چکے ہیں، لانگ مارچ کر چکے ہیں،انہیں تو کچھ نہیں ملا۔ وہ آج بھی گوشہئ گمنامی میں پڑے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہوں گے، ہاں اُن کا کندھا استعمال کرنے والے اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور اب بھی لوٹ رہے ہیں۔

یہی تحریک انصاف جدوجہد کے زمانے میں کہا کرتی تھی کہ سب سے زیادہ نمائندگی نوجوانوں کو دی جائے گی۔ کارکنوں کو اقتدار میں آنے کے بعد نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان اُس زمانے میں کارکنوں کا ذکر کرتے نہیں تھکتے تھے، مگر کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ تحریک انصاف سے کتنے کارکنوں کو انتخابی ٹکٹ دیئے، کتنے کارکنوں کو اقتدار میں آنے کے بعد مختلف عہدوں پر فائز کیا، سب کچھ تو بندر بانٹ کی نذر ہو گیا۔میرا نہیں خیال کہ جنہوں نے2014ء کے دھرنے میں موسم کی سختیاں برداشت کی تھیں،رات رات بھر جاگ کر عمران خان کے کنٹینر کی حفاظت کرتے رہے تھے، انہیں آج عمران خان کے قریب بھی آنے دیا جاتا ہو۔

اب بھی یہی ہو گا،مولانا فضل الرحمن حکومت سے مذاکرات کر کے کوئی معاہدہ کریں گے اور چلے جائیں گے،جنہیں وہ خواب دکھا کر اپنے ساتھ لائے تھے،اگلے کسی دھرنے یا مارچ تک انہیں یاد بھی نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعظم کا استعفا لئے بغیر ہم نے واپس نہیں آنا،لیکن اس دعوے کی تکمیل نہیں ہو پائے گی۔ وہ جو اس نعرے کی کشش لے کر چلے تھے، بے نیل و مرام واپس جائیں گے تو اُن کے خوابوں کا نگر چکنا چور ہو چکا ہو گا۔ان میں زیادہ تر مدرسوں کے طلبہ تھے، وہ اس دھرنے کو صرف اس لئے یاد رکھیں گے کہ اس کی وجہ سے اُنہیں اسلام آباد میں چند روز رہنے کا موقع ملا، سڑکوں پر ہی سہی، وہ اس شہرِ اقتدار میں ٹھہرے تو، عام حالات میں تو کوئی سڑک کنارے سویا ہو، اسلام آباد پولیس اُسے اُٹھا لے جاتی ہے،اب انہوں نے سردی اور بارش میں بے فکری کے ساتھ راتیں گزاریں،گھروں سے جو راشن پیسہ لائے تھے، اُسے لذت کام و دہن کے لئے استعمال کر کے وہ خالی ہاتھ جب اپنے گھروں کو لوٹیں گے،تو اُن کے ذہن میں کوئی پچھتاوا نہیں ہو گا۔

وہ اپنا احتساب نہیں کریں گے، نہ ہی وہ اپنے مولانا کی طرف غضبناک نگاہوں سے دیکھیں گے، بس راضی بہ رضا ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ یہ وہ فصل ہے جسے بے دردی سے کاٹ بھی دیا جائے تو دوبارہ اُگ آتی ہے۔اس کے مالیوں کو اس کی اس کمزوری کا علم ہے،اِس لئے وہ بے دھڑک اس پر تیشہ آزمائی کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک رات کسی عام سے ہوٹل میں گزارنے کے لئے بھی کم از کم ایک ہزار روپیہ لگ جاتا۔ مولانا فضل الرحمن نے تو قیام و طعام مفت فراہم کیا ہے، چاہے کھلے آسمان تلے سڑکوں پر ہی سہی۔اگر ایک کارکن نے چھ راتیں یہاں گزاری ہیں تو گویا چھ ہزار روپے تو اُس نے کما لئے اور خود پر خرچ کر دیئے ہیں،اور کیا چاہئے۔رہی بات یہ کہ اسلام آباد کے مکین ساری وابستگی سے بالاتر ہو کر انہیں مہمان سمجھ کر میزبانی کریں، تو ایسا شوق اسلام آباد والوں نے کبھی بھی نہیں پالا۔

مجھ سے جب بھی کوئی پوچھتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کب مستحکم ہو گی تو مَیں جواب میں کہتا ہوں،جب سیاسی کارکن مستحکم ہو گا۔سیاسی کارکن کے مستحکم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مالی طور پر خوشحال ہو جائے،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذہنی افلاس سے چھٹکارا پا لے۔ وہ دولے شاہ کا چوہا نہ رہے، بلکہ اپنی عقل کو بھی استعمال کرے۔وہ لیڈر کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر اپنی زندگی کو اجیرن نہ بنائے، بلکہ کھلی آنکھوں سے دیکھے کہ اُس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اور اُسے کہاں کہاں بیچا جا رہا ہے؟ آج اگر کارکنوں کی قربانیوں سے ملک میں ایسی فضا پیدا ہوئی ہے، جس میں وزیراعظم کو یہ کہنا پڑا کہ استعفے کو چھوڑ کر باقی ہر جائز مطالبے پر غور کرنے کو تیار ہیں،تو ان کے لیڈروں نے کیا جائز مطالبات رکھے اور ان میں عام آدمی اور سیاسی کارکنوں کے مفادات کو کتنی اہمیت دی گئی۔اگر سب کچھ سیاسی اشرافیہ بالا بالا ہی طے کر لیتی،اپنی کرپشن بچا لیتی اور حکومت کے دانت نکال دیتی ہے تو اس کا کارکنوں کو کیا فائدہ ہو گا؟عام آدمی کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟ اس قسم کے کھیل تماشے تو 72سال سے ہو رہے ہیں،کارکن اپنی قربانیوں سے ایک ماحول بناتے ہیں اور اشرافیہ اس سے فائدہ اٹھا کر نکل جاتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن سیاست سے آؤٹ ہو گئے تھے، اُن کے کارکنوں نے اپنے کندھوں پر اُٹھا کر انہیں پھر ”اِن“ کر دیا۔ اگر مولانا فضل الرحمن کا مقصد واقعی صرف اتنا تھا تو کارکنوں کو پھر پُرسہ دینے کا وقت آ گیا ہے۔مولانا تو شاید اپنی عقیدت کا جال پھیلا کر اپنے کارکنوں کو مطمئن کرنے میں کامیاب رہیں، شاید اُن کے کارکن ان کی باتوں میں آ جائیں، مگر یہ مٹی کے مادھو جنہیں سیاسی کارکن کہا جاتا ہے، اب جاگنے لگے ہیں،اب بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی یہ مفت ملنے والے جنونی سونے کے بھاؤ بھی دستیاب نہیں ہو رہے۔پی ٹی آئی بھی اس مخلوق کے حوالے سے تہی دست ہوتی جا رہی ہے۔ اب تو یہ کارکن سجے سجائے پنڈالوں میں بھی نہیں آتے، چہ جائیکہ بارش اور سردی میں رات سڑکوں پر گزاریں۔ہاں اس مخلوق کو جاگنا ہو گا، یہ مخلوق جاگے کی تو سیاسی شعور بیدار ہو گا۔پہلا احتساب اسی مخلوق نے کرنا ہے،اس کارکن نامی مخلوق نے انگلیاں ٹیڑھی کیں تو جمہوریت ایک محدود طبقے کی میراث نہیں رہے گی۔

مزید : رائے /کالم


loading...