کوھاٹ میں پارکوں کی حالت بہتر بنانے پر کروڑوں خرچ

کوھاٹ میں پارکوں کی حالت بہتر بنانے پر کروڑوں خرچ

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوھاٹ میں پارکوں کی حالت بہتر بنانے پر کروڑوں خرچ‘ مگر کے ڈی اے ہسپتال کے سامنے بنا پارک بدحالی کا شکار‘ وسیع رقبے پر پھیلے پارک میں لائٹ اور بیٹھنے کی جگہ ندارد‘ کے ڈی اے افسران کی عدم دلچسپی کی وجہ سے پارک کی بیرونی دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار‘ لاکھوں روپے لاگت سے بنائے گئے باتھ رومز پر بھی تالے‘ تفصیلات کے مطابق قدرتی حسن سے مالا مال کے ڈی اے میں ہسپتال کے سامنے وسیع و عریض رقبے پر پارک بنا ہوا ہے جس میں داخلہ فیس تو 10 روپے وصول کی جاتی ہے مگر پارک کے اندر تفریح کے لیے آنے والوں کے لیے کوئی سہولت نہیں پارک میں لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے شام ہوتے ہی پارک کے دروازے عوام کے لیے بند کر دیئے جاتے ہیں تو دوسری جانب اتنے بڑے پارک میں گندگی ڈالنے کے لیے ڈسٹ بینز سرے سے موجود ہی نہیں جس کی وجہ سے پارک میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں پارک میں صبح کے اوقات میں کوئی چوکیدار نہیں ہوتا جبکہ دوپہر 2 بجے سے شام 6 بجے تک ایک چوکیدار ڈیوٹی کرتا ہے جو پارک میں آنے والوں سے ٹکٹ وصولی کے علاوہ پودوں کو پانی دینے کی بھی ڈیوٹی کرتا ہے کیوں کہ پارک میں کام کرنے والے مالی پارک کے باہر مختلف جگہوں پر ڈیوٹیاں کرتے ہیں جس کی وجہ سے پارک کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے اسی طرح پارک میں آنے والوں کے لیے کوئی بھی ایسی جگہ نہیں جہاں بارش اور گرمی سے بچنے کے لیے بیٹھا جائے پارک میں ٹوٹے ہوئے چند بینچز بھی کے ڈی اے افسران کی نالائقی کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہے ہیں جن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں بیوٹیفیکیشن پروگرام کے تحت پارک میں چار زنانہ اور مردانہ باتھ رومز گزشتہ سال تعمیر کیے گئے مگر افسوس تاحال ان باتھ رومز کو بجلی اور پانی کا کنکشن نہیں دیا جا سکا جس کی وجہ سے ان باتھ رومز کو تالے لگے ہوئے ہیں جو کہ اپنی جگہ ایک لمحہ فکریہ ہے اسی طرح پارک کے چاروں طرف گھنی جھاڑیوں نے پارک کو جنگل میں تبدیل کر رکھا ہے اور پارک کی بیرونی دیوار بھی کئی جگہوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے پارک میں درختوں کی مناسب کٹائی نہ ہونے کی وجہ سے کئی درختوں کی شاخیں بجلی کی تاروں کو چھو رہی ہیں جو خدانخواستہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے کا باعث بن سکتی ہیں کے ڈی اے ہسپتال میں داخل مریضوں کے لواحقین اور پارک کے اردگرد کے رہائشیوں نے صوبائی مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش‘ پراجیکٹ ڈائریکٹر کے ڈی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ کوھاٹ سٹی میں پارکوں کو خوبصورت بنانے پر تو کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں مگر کے ڈی اے میں بنے پارک تاحال صوبائی مشیر کی نظر سے محروم ہیں شہریوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پارک میں فوری طور پر سولر لائٹس کا انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ بیٹھنے کے لیے جگہ بنانے‘ ٹوٹی پھوٹی چار دیواری مرمت کرنے اور باتھ رومز کو عوام کے لیے کھولنے کے فوری اقدامات کے ساتھ ساتھ پارک کو خوبصورت بنانے کے لیے صبھ اور شام کی شفٹوں میں مالیوں اور چوکیدار کی ڈیوٹیوں کو یقینی بنائیں تاکہ پارک کے اردگرد رہائش پذیر سینکڑوں گھرانوں کو تفریح کے مواقع میسر آ سکیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر