شانگلہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو سمیت مختلف تعمیراتی محکموں میں کرپشن کا بازار گرم

  شانگلہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو سمیت مختلف تعمیراتی محکموں میں کرپشن کا بازار ...

  



الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر) شانگلہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو سمیت مختلف تعمیراتی محکموں میں کرپشن کا بازار گرم ۔کمیشن مافیا نے ان محکموں پر قبضہ جما رکھا ہے۔ شانگلہ بھر میں جاری تعمیراتی منصوبوں میں ناقص میٹریل کا استعمال جاری۔ منصوبوں کی نگرانی کےلئے کوئی ذمہ دار موجو د نہیں ۔ترقیاتی منصوبون کےلئے آنے والے کروڑوں روپے منصوبوں پر خرچ کرنے کی بجائے کرپشن مافیا کے جیبوں میں چلے گئے ۔ شانگلہ کے تمام سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماءعوام کی خدمت کی بجائے ٹھیکدار بن بیٹھے ہیں ۔پسماندہ ضلع شانگلہ کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ کرپشن نے ضلع کی ترقیاتی نقشے کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے حکمران جماعت سمیت بااثرسیاسی رہنماءان مافیا کی پُشت پناہی کررہے ہیں ۔ صوبے میں بااختیا ر حکمران جماعت کے نمائندوں نے شانگلہ میں جونیئر افسران کو اپنے مفادات کے خاطر ضلع کی اعلی عہدوں پر تعنیات کئے ہیں جو سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے ان کی ٹھیکے چلا رہے ہیں ۔شانگلہ میں کروڑوکے ٹھیکے سیاسی شخصیات کے خاندانوں میں بانٹے جاتے ہیں یا کچھ مخصوص ٹھکیداروں کو محکمہ ملی بھگت سے بلو پر ٹھیکے دیتے ہیں اور پھر وہ ٹھکیدار کام نہیں کرتا ہے۔ تمام تر ترقیاتی کاموں میں کمیشن مافیا نے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے ضلع کی کروڑوں کی ترقیاتی فنڈ خرد بُرد کی نظر ہوگئی ہے ضلع ترقیاتی فنڈ کے غلط استعمال سے ترقیاتی منصوبے پایا تکمیل تک نہ ہوسکے اگر کوئی منصوبہ مکمل بھی ہو جائے تو وہ چند مہینوں میں خراب ہوجاتے ہے۔اس وقت بعض ناقص منصوبوں کا وزیر اطلاعات نے سخت نوٹس بھی لیا تھا اور تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا جس پر انتظامیہ نے انکوائری کرکے منصوبوں میں ناقص میٹریل استعمال کا اعتراف کیا تاحال اس پر عملی اقدامات نظر نہ آسکے۔ناقص میٹریل کے استعمال میں محکمے کی ٹھکیدار کے ساتھ ملے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اکثر انکوئریوں میں صرف ٹھیکدار کو نامزدکرکے محکموں کی طرف داری کی جاتی ہے جس کی وجہ سے محکموں میں ان کالی بھیڑیوں کی مزید حوصلہ افزائی ہوجاتی ہے اور وہ مزید سرگرم عمل ہوجاتے ہیں۔محکمہ ورکس اینڈ سروسزز کا کرپشن کسی سے ڈھکا چپھا نہیں اور اب لوکل گورنمنٹ ،ار ڈی ڈی فنڈ کو بھی کھڈے لائن لگا دیا گیا ضلع شانگلہ بھر میں کئی عرصے سے کرپشن کے خلاف کوئی سخت اقدام نہیں کیا گیا جس کیوجہ سے ضلع بھر میں کرپشن عروج پر پہنچ چکا ہے کرپشن کے دعوے دار بھی شانگلہ میں کرپشن کو روکنے میں ناکام رہے۔ نیب حکام نے 2016سیلاب کے ایمرجنسی فنڈ کرپشن کا نوٹس طویل عرصے بعد لیا گیا جس سے کرپشن مافیا کی حوصلہ پست تو ہوئے تاہم عوامی امیدوں کے مطابق تحقیقات نہ ہوسکی ۔اس وقت ضلع شانگلہ میں ضلعی حکومتوں ۔صوبائی حکومت اور نچلی بلدیاتی ترقیاتی منصوبوں میں شدید کرپشن جاری تھی جسمیں ویلیج کونسل ناظمین سے لیکرنمائندے باقاعدہ طور پر ملوث تھے یہ بااثر شخصیات شانگلہ سے منتخب نمائندے ان کرپشن مافیا کی پشت پناہی اس لئے کرتے ہیں کہ سب اپنے ٹھیکے کو بچانے اور کرپشن کرنے کےلئے ان مافیا کے ساتھ ملے ہوئے ہے ضلع شانگلہ میں ان محکموں کے ایسے منصوبے ہیں جو صرف کاعذات کی فائل تک موجود ہے لیکن گراو¿نڈ پر کچھ بھی نہیں ۔شانگلہ میں جاری کرپشن پر نہ صرف یہاں کے عوام شدید تحفظات ہے بلکہ یہاں سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی وزیراطلاعات نے بھی اس پرشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بشام جلسے میں ان عناصر کو وارننگ دیتے ہوئے یونین کونسل اور ویلج کونسل کے سطح پر کمیٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے بھی جاری منصوبوں کی خود نگرانی کرنے اور ٹھکیدار کو ناقص میٹریل استعمال سے روکنے اور متعلقہ محکموں میں ان کے خلاف شکایات کرنے کا کہا تاہم اس اعلان کے مطابق کمیٹیاں بنانے کی اشد ضرورت اس لئے ہے کہ کروڑو کا فنڈ اس علاقے کی تعمیروترقی پر خرچ ہوتا ہے مگر گراونڈ پر کچھ نظر نہیں اور وہ مخصوص ٹولے کی نظر ہو کر ان کے جیبوں میں چلے جاتے ہیں۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر