”پاک فوج کے اہل قلم “ کے موضوع پر قومی کانفرس 

”پاک فوج کے اہل قلم “ کے موضوع پر قومی کانفرس 

  



لاہور گیریژن یونیورسٹی لاہور میں چوتھی قومی کانفرنس بعنوان ”پاک فوج کے اہل قلم“ دو روز تک جاری رہی ۔ اس کانفرنس کے ابتدائیہ میں ڈاکٹر محمد ارشد اویسی لکھتے ہیں :”وطنِ عزیز پاکستان کو جہاں دہشت گردی ، لاقانونیت ، غربت اور جہالت جیسے مسائل کا سامنا ہے ، وہیں اس کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں پر اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے لگاتار حملے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پاک فوج نے ایک ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ جنگ ہو کہ قدرتی آفات، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہو کہ بین الاقوامی سطح پر امن کا قیام ، ہماری بہادری مسلح افواج نے اپنی پیشہ وارانہ عسکری برتری و فضیلت کو عالمی سطح پر تسلیم کروایا ہے ۔ اپنی پیشہ وارانہ عظیم ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ان سپوتوں نے علم و فن کے شعبوں میں بھی اپنی عظمت کے علم گاڑے ہیں۔ اس کانفرنس میں پاک فوج کے مایہ ناز اہلِ قلم کے فکر و فن کا نہ صرف جائزہ لیا جائے گا بلکہ انھیں خراجِ عقیدت بھی پیش کیا جا ئے گا کہ کس طرح انھوں نے اپنے فرائض منصبی کے ساتھ ساتھ قلم کی حرمت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ، قوم کی فکری آبیاری کا فریضہ بھی انجام دیا ہے۔اس کانفرنس میں وطنِ عزیز کی تمام اکائیوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گاتا کہ بین الصوبائی ہم آہنگی ، رواداری اور افہام و تفہیم کے کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔“

16اکتوبر کو صبح دس بجے افتتاحی سیشن کا آغاز ہوا۔یہ سیشن لاہور گیریژن یونیورسٹی کے علامہ اقبال آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔جس کی صدارت وائس چانسلر لاہورگیریژن یونیورسٹی لاہور جناب ڈاکٹر عبید بن زکریا نے کی جب کہ اس افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی میجر جنرل ثاقب محمود ملک ، ہلال امتیاز(ملٹری) تھے۔ اسٹیج پر ڈین آف فیکلٹی آف لینگویجزڈاکٹر گلشن طارق اور صدر شعبہ اردو ڈاکٹر ارشد اویسی بھی رونق افروز تھے۔اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم نے کی۔

اجلاس کا آغازتلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد نعت رسول مقبول پیش کی۔ باقاعدہ افتتاحی اجلاس کی ابتدا سے پہلے قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ جسے سامعین نے کھڑے ہوکر تعظیم کے ساتھ سنا۔ اس کے بعد گیریژن یونیورسٹی اور اس کے تمام پروگراموں کا تعارف تصویری جھلکیوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ جس سے لاہور گیریژن یونیورسٹی میںہونے والی علمی وادبی سرگرمیوں سے آگاہی ہوئی۔

ڈاکٹر گلشن طارق نے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے پاک فوج کے اہل قلم ادیبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کانفرنس کے مقاصد کو تفصیل سے پیش کیا اور وائس چانسلر صاحب کی خدمات کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ امیدِ واثق ہے کہ یہ کانفرنس افواجِ پاکستان کے علمی اور ادبی پہلو و¿ںکو اُجاگر کرنے میں ایک روشن اور تعمیری کردار ادا کرے گی۔میں اس کانفرنس میں شریک تمام اکابرینِ زبان وادب اور مفکرین کی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور لاہور گیریژن یونیورسٹی میں خوش آمدید کہتی ہوں۔

 وائس چانسلر جناب میجر جنرل (ر) عبید بن زکریا نے کہا کہ آج کا موضوع بہت سوچ سمجھ کر منتخب کیا گیاہے ۔ پاک فوج سے وابستہ اہل قلم نے ہر شعبہ میں نمایاں کارنامے سرانجام دیے۔انھوں نے اردو زبان کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔انھوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چو این لائی بہت اچھی انگریزی بولتے تھے مگر اپنی تقریر میں ایک بھی لفظ انگریزی کا نہیں بولتے تھے اور چینی زبان کو اہمیت دیتے تھے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں ایک بڑی دلچسپ بات بتائی کہ وہ بھی پہلے انگریزی میں تقریر کرتے تھے مگر اب اردو بولنے کی کوشش کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں ایک تقریر میں بیکراں کو بکریاں پڑھ گیا مگر اب میں نے کسی حد تک اردو سیکھ لی ہے۔

انھوں نے کہا ” لاہور گیریژن یونیورسٹی نے دورِ جدید ، عصرِ رواں کے ہر لحظہ بدلتے ہوئے تقاضوں کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھ کر اپنے نصب العین کا تعین کیا ہے۔ بایں وجہ انتہائی قلیل عرصے میں اس دانش گاہ نے شہرت کی بلندیوں کو محض اپنی کارکردگی سے چھوا ہے اور اپنا شمار وطنِ عزیز کے بہترین اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کروا لیا ہے۔ عصرحاضر میں حصولِ تعلیم کے لیے نت نئی حکمتِ عملیاں اور طریقہ ہائے تدریس اختیار کیے جاتے ہیں۔ انھی میں سے ایک طریقہ دانش وروں ، علمائے ادب اور محققین کو دانش گاہوں کی زینت بناتا ہے ۔ اس امر کو پیشِ نظر رکھ کر لاہور گیریژن یونیورسٹی میں مختلف ورکشاپیں، سیمینارز اور کانفرنسوں کا انعقاد ایک تواتر کے ساتھ یقینی بنایا جاتا ہے ۔ رواں برس ۹۱۰۲ءکو لاہور گیریژن یونیورسٹی ”پاک فوج کے اہلِ قلم“ کے سال کے طور پر منا رہی ہے ۔ تاکہ پاک فوج سے وابستہ رہ کر علم و ادب کی د رخشندہ روایات قائم کرنے والوںکی خدمت میں خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔شعبہ¿ اُردو کی ان تھک محنت اور بے مثال کارکردگی میرے لیے باعثِ صد افتخار ہے۔ میں یونیورسٹی میں جلوہ افروز ہونے والے تمام اہلِ قلم اور دانش وروں کا شکر گزار ہوں جنھوں نے اس ادارے کے علمی و ادبی کردار کو سراہا اور کانفرنس میں شرکت کر کے ہمارے عزم کو جواں کیا اور وقار میں اضافہ کیا۔“اور میں اردو والوں کا ممنون ہوں کہ انھوں نے مجھے اردو سکھائی۔انھوں نے فوج کی کہانی سنائیکہ کتنا ٹف ٹائم ہوتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میں اردو کا سب سے بڑا ایڈووکیٹ ہوں،اگر ترقی کرنی ہے تو اپنی لینگویج کو اہمیت دینا ہوگی۔ترقی کے لیے اردو ضروری ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد فخرالحق نوری نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ اس موضوع پر ہونے والی یہ پہلی کانفرنس ہے۔مجھے بظاہر موضوع میں پیراڈاکس کی صورت حال نظر آتی ہے کہ فوج کا تعلق تو شمشیروسناںسے ہوتا ہے قلم سے نہیں ۔جہاد کے حوالے سے بات کی کہ حضور اکرم کے حجرہ سے نو تلواریں نکلیں اور وہ ہر وقت گھوڑوں کو تیار رکھنے کا حکم دیتے تھے۔پھر نوری صاحب نے اپنے کلیدی خطبے میںفوج اور قلم کے رستے پر روشنی ڈالی۔

 اس کانفرنس کے اغراض ومقاصد اور پاک آرمی کے اہم قلم کی خدمات کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس اپنے موضوع اور مقاصد کے حوالے سے منفردبھی ہے اور اہمیت کی حامل بھی۔انھوں نے بصیرت افروز باتیں کیں اور کئی نکات کو سامنے لائے۔

مہمان خصوصی جناب میجر جنرل ثاقب محمود ملک ہلال امتیاز(ملٹری)نے اس کانفرنس کے حوالے سے اپنے نیک جذبات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ کئی جگہ گئے اور وہاں انھوں نے قومی زبان کی اہمیت کو محسوس کیا۔ اردو زبان ہماری قومی زبان ہے جس کواپنائے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ یہ کانفرنس اس حوالے سے اہمیت کی حامل کہ اس میں پاک آرمی کے اہل قلم کے کارناموں پر اوران کے تخلیق کردہ ادب پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ امیر تیمور نے جنگ کے دوران دمشق کو چھوڑ دیا تھا ۔ فوج نے پوچھا کہ اسے کیوں چھوڑا یہاں کھوپڑیوں کے مینار کیوں نہیں بنائے۔ تو اس نے کہا کہ یہاں میرا استاد دفن ہے۔ ساتھیوں نے پوچھا کہ استاد ۔۔تو اس نے کہا کہ ہاں یہاں شیخ سعدی دفن ہے جس کی کتابوں سے میں نے ایک جملہ سیکھا ہے ۔پوری دنیا کو دیکھ لیں تاریخ میں علم وفنون اور سپہ گری کا فن ساتھ ساتھ چلتا ہے۔

دوسرا سیشن عثمان شوکت ہال میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت صدر شعبہ اردو اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے کی۔ مہمانان اعزاز میں ڈاکٹر جاوید منظر، ڈاکٹر عابد سیال،اور ڈاکٹر شاہدہ سردار تھے۔

محرک گفتگو ڈاکٹر محمد خان اشرف نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا ” مسلح افواج سے متعلق افراد بھی ہمارے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ گو ان کے پیشہ وارانہ فرائض اور اس سلسلے میں ان کی تربیت ان کو عام عوام سے جدا رکھتے ہیں لیکن احساس و خیال اور فن و ادب کے متعلق یہ اپنے معاشرے میں پیوست ہوتے ہیں۔ دراصل ان کی زندگی میں ایک ایسا دور بھی تھا جب علم و ادب کی خدمت اور سرپرستی میں مسلح افواج پیش پیش ہوتی تھیں۔ اب بھی یہی صورتحال ہے ۔ مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے ادیب و شاعر کمیت اور کیفیت میں معاشرے کے دوسرے اداروں سے کم نہیں ہیں۔“

ڈاکٹر فضیلت بانو نے قدیم وجدید عساکر ادب کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر راشدہ قاضی نے فیض احمد فیض دفاع وطن سے جہادِ قلم تک کے عنوان سے گفتگو کی۔ڈاکٹر فہمیدہ تبسم نے عساکر پاکستان کی ادبی روایت اور خالد مصطفے کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ڈاکٹر شاہدہ سردار نے پاک فوج کے شاعر کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ڈاکٹر عابد سیال نے اس کانفرنس کے حوالے سے کئی سوال اٹھائے ۔ان کا موضوع ِ گفتگو سپاہی اور غیر افسانویت تھا۔ڈاکٹر جاوید منظر نے بڑے خوبصورت الفاظ میں اس کانفرنس میں اپنے مقالے کا تعارف پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ عساکرِ پاکستان کی ادبی خدمات پر کئی پہلوو¿ں سے گفتگو ہونی چاہئے اور یہ کانفرنس اسی ضرورت کو پورا کرے گی۔ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے بھی تفصیلی انداز میں گفتگو کی اور اس موضوع کو سراہا۔ ان کے مقالہ کا موضوع ”:المیے کی کوکھ سے جنم لینے والے ادب کا گل سرسبد“تھا۔

تیسرا سیشن ظہرانے کے بعد شروع ہوا۔ جس کی صدارت جناب پروفیسر ڈاکٹر اصغر بلوچ نے کی۔جب کہ مہمانان اعزاز میں میجر خالد فتح محمد،ڈاکٹر عارفہ شہزاد، شاکر کنڈان شامل تھے۔

محرک گفتگو میجر شہزادتھے۔انھوں نے :پاک افواج کے شاعر کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا”جدید اُردو نظم و غزل میں فوجی شعرا کا گراں قدر حصہ ہے۔کرنل (ر) فیض احمد فیض، منیر نیازی، میجر (ر)سید ضمیر جعفری اور جعفر طاہر وغیرہ قیامِ پاکستان اور اس کے فوراً بعدکی دہائیوں میں سامنے آئے۔ ان کے بعدبھی یہ سلسلہ رُکا نہیں۔ فی زمانہ حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجیوں کی ایک بڑی تعداد شعر و ادب کو اپنے نادر تخیل اور گونا گوں مشاہدات سے مالامال کر رہی ہے ۔“

ثمینہ ندیم نے شجاعت کا استعارہ حرفِ سخن کا وارث میجر ڈاکٹر محمد خاں اشرف کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ڈاکٹر محمد امتیاز نے روشن نگینوی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا”اُنھوں نے شاعری کی تقریباً جملہ اصناف میں شعر کہے۔اُن کے نو( ۹) شعری مجموعے سامنے آئے۔ ” نگینے، نکہتیں، رگِ سنگ، آئینہ گفتار، حرفِ فروزاں، شعلہ زار، چراغِ فردا، غیب وحضور، اور اوجِ پاکستان۔ آخر الذکر مجموعہ ”اوجِ پاکستان “، کے علاوہ باقی سب مجموعے تاحال غیر مطبوعہ ہیں۔ ”اوجِ پاکستان“قومی نظموں، ملّی ترانوں اور غنائیوں پر مشتمل ہے۔“

شگفتہ فردوس نے سید ضمیر جعفری کے بارے میں بات کی۔ ڈاکٹر محمد سرفراز خالد نے ”:صدر پاکستان محمد ایوب خان کی سیاسی سوانح عمری ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی “ :ایک مطالعہ“کے عنوان سے گفتگو کی۔ڈاکٹر یاسمین کوثر نے ”کرنل محمد خان کی مزاح نگاری “کے حوالے سے گفتگو کی۔ڈاکٹر رحمت علی شاد نے کیپٹن نذر محمد راشد کے تنقیدی شعور پر بات کی۔طاہر عباس طیب نے میجر (ر) اعظم کمال کے حوالے سے مقالہ پیش کیا۔

ڈاکٹر محمد اشرف کمال نے ”کرنل محمد خان کی تحریروں میں عسکری وعصری تناظرات کا جائزہ“ کے حوالے سے گفتگو کی کہ ان کے سفر ناموں کا کینوس بہت وسیع ہے۔وہ بڑی عمیق نگاہی سے واقعات کو دیکھتے ہیں اور پھر چنے ہوئے الفاظ میں بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ان میں عام زندگی کے ساتھ ساتھ فوجی زندگی کے واقعات اورحالات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔فوج کے حوالے سے بھی ان تحریروں میں کئی چیزیں اہمیت کی حامل ہیں۔ ان تحریروںکو تاریخی ،عسکری اور ملکی حالات کے حوالے سے ایک وسیع تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر طارق ہاشمی نے”اردو غزل میں عسکری اور حربی تشبیہات وعلامت“ کے حوالے سے مقالہ پیش کیا۔ڈاکٹر طاہر مسعود قاضی نے ”عبداللہ خان کی علمی وادبی خدمات “پر بات کی۔ڈاکٹر ارم صبا نے ”سید مقبول حسین“ کے فن پر بات کی۔شاکر کنڈان نے افواج پاکستان اور نعت گوئی پہ بات کی۔ڈاکٹر عارفہ شہزاد نے ”معاصر عہد کا تازہ دم شاعر۔شہزاد نیئر“کے عنوان سے بات چیت کی۔میجر خالد محمود نے ”عساکرِ پاکستان کی پنجابی تراجم کے حوالے سے خدمات“کے بارے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

دوسرے دن صبح تیسری نشست منعقد ہوئی۔ اس نشست کی صدارت ڈاکٹر طاہرہ سرور نے کی۔مہمانان اعزاز میں ڈاکٹر مختار عزمی،ڈاکٹر علی کمیل قزلباش، ڈاکٹر ہارون عثمانی، ڈاکٹر نذر عابد، بریگیڈئیر حامد سعید اختر کے نام شامل تھے۔ڈاکٹر غفور شاہ قاسم نے ”بریگیڈئیر (ر)حامد سعید اختر کی غالب شناسی“پر بات کی۔ڈاکٹر شیر علی نے فوج سے تعلق رکھنے والے بلبل کاشمیری کی خدمات پر روشنی ڈالی۔آخر میں انھوں کہاں کہ جہاں اس کانفرنس کے شرکاءٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی اتنے بڑے دانش وروں کی وجہ سے گریس (Grace) سے گریس فل ہوگیا ہے اور یہ کانفرنس بھی گریٹ فل نظر آرہی ہے۔ڈاکٹر علی یاسرنے ”پاک فوج کے معاصرت شعرائے غزل کی رجائیت پسندی کے حوالے سے گفتگو کی۔اپنی گفتگو میں پاک فوج سے تعلق رکھنے والے اہل قلم کے لکھے ہوئے ادب پر تفصیلی بات چیت کی اور نامور اہل ادب کو سراہا کہ انھوں نے ادبی روایت میں بڑا جاندار کردار ادا کیا۔

ثوبیہ شاہد نے ”کشمیر کی سرزمین پر عسکری شاعری کی روایت“پر بات کی۔وجیہہ شاہین نے”کرنل محمد خان کی ’دجلہ‘ کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا۔ڈاکٹر عظمت رباب نے میجر(ر) محمد خاں اشرف کی عسکری وادبی خدمات کا احاطہ کیا۔ڈاکٹر سائرہ بتول نے ”سید ضمیر جعفری کی فکاہیہ نثر “پر بات کی۔ڈاکٹر ہارون عثمانی نے ”ادبیاتِ عساکر پاکستان کی تحقیقی وتنقیدی جہات پر مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر مختار عزمی نے ”ادبی پیرومرشد“ کے عنوان سے گفتگو کی۔ڈاکٹر علی کمیل قزلباش نے ”بلوچستان کے شعرا عساکر“ کے حوالے سے گفتگو کی۔ ڈاکٹر نذر عابدنے پاک فوج کے اہل قلم کی ادبی خدمات پر بات کی۔بریگیڈئیر حامد سعید اختر نے عسکری اہل قلم کی تحریروں اور تنقیدکا ذکرکرتے ہوئے خاص طور پر غالب شناسی کے حوالے سے بات کی۔ڈاکٹر طاہرہ سرور نے عساکر پاکستان کے اہل قلم کے عنوان سے ایک ضخیم کتاب مرتب کی جس میں سینکڑوں اہل قلم کے کوائف شامل ہیں انھوں نے اپنے گفتگو میں اس کتاب کی تدوین میں جو مسائل انھیں درپیش تھے وہ بیان کیے۔ کہ بہت سے اہل قلم اور صاحبان کتاب ابھی بھی اس کتاب میں شامل ہونے سے رہ گئے ہیں۔

چوتھی نشست کی صدارت ڈاکٹر سعید احمد نے کی۔مہمانان اعزاز میںڈاکٹر افضل حمید ،ڈاکٹر روبینہ رشید ،تحسین بی بی شامل تھے۔

اس نشست میںمحمد رفیق شہزادنے عساکرِ پاکستان کے ادب پر گفتگو کی۔ڈاکٹر سبینہ ا ویس نے ”کرنل محمد خاں مزاح کے آئینے میں“کے موضوع پر گفتگو آگے بڑھائی۔ڈاکٹر افضل حمید نے عساکر پاکستان کی ادبی خدمارتروشنی ڈالی۔ڈاکٹر روبینہ رشید نے”اوجِ پاکستان“ کے حوالے سے روشن نگینوی کی قومی و ملی شعری خدمات“ پہ بات کی۔تحسین بی بی نے”پاک فوج کے شعرائے ہزارہ“،ڈاکٹر فرحت جبیں نے”تماشائے اہلِ کرم“(ترجمہ)از کرنل مسعود اختر شیخ کی پاکستانی طنزیہ ادب میں اہمیت و ثقافتی مماثلت“ کے حوالے سے بات کی۔ ڈاکٹر سعید احمد نے ”پاک فوج کے نامور مزاح نگار“کے عنوان سے گفتگو کی۔

اختتامی اجلاس میں کانفرنس کی سفارشات کو پیش کیا گیا۔اس حوالے سے جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ کے اہل علم ودانش کو شامل کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مندوبین نے کانفرنس کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے شعبہ اردو لاہور گیریژن یونیورسٹی کی خڈمات کو سراہا کہ انھوں نے ایک کامیاب اور بھرپور کانفرنس منعقد کرانے میں اپنا جاندار اور متحرک کردار ادا کیا ساتھ ہی وائس چانسلر لاہور گیریژن یونیورسٹی میجر جنرل (ر) جناب عبید بن زکریا ہلال امتیاز(ملٹری)کو خراج تحسین پیش کیا گیا کہ اس کامیاب کانفرنس کی تکمیل ان کی رہنمائی کی وجہ سے ممکن ہوئی ۔

مہمان خصوصی جناب بریگیڈئیرمحمود بشیر باجوہ تھے۔انھوںنے اپنے خطاب میں اس کانفرنس کی اہمیت پر بات کی کہ اس قسم کی کانفرنسوں کا انعقاد تعلیمی اداروں کے وقار میں اضافے کا باعث ہوتا ہے۔

آخر میں ڈاکٹر محمد ارشد اویسی صدر شعبہ اُردو: لاہور گیریژن یونیورسٹی نے تمام مہمانوں کی آمد اور کانفرنس میں بھرپور شرکت کا شکریہ ادا کیا۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1