” ایسا کرکے ملک وقوم کی کچھ خدمت نہیں کررہے“

” ایسا کرکے ملک وقوم کی کچھ خدمت نہیں کررہے“
” ایسا کرکے ملک وقوم کی کچھ خدمت نہیں کررہے“

  



وفاقی دارالحکومت میں چند روز سے جاری جے یو آئی ف کی سیاسی سرگرمی جس کو آزادی مارچ کبھی اجتماع اور کبھی دھرنے کانام دیاجاتا ہے ۔ اس کے پلیٹ فارم سے جے یو آئی ف اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے پیش کئے جانیوالے مطالبات میں ایک یہ مطالبہ بھی کیا جارہاہے کہ آئندہ الیکشن کا انعقاد فوج کے بغیر کروایا جائے ۔

پاکستان کی سیاست میں طویل کیئر یر رکھنے والوں اور ملک کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہنے والے ان سیاسی بزرجمہروں کے منہ سے ایسی بات سن کر میر ے جیسا انتہائی کم سطح کا سیاسی شعور رکھنے والاشہری بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ کیا فوج زبردستی الیکشن کے عمل دخیل ہوتی ہے اور اپنی نگرانی میں انتخابات کا انعقاد کرواتی ہے ؟

دھرنے کے علاوہ مختلف ٹی وی ٹاک شوز میں بھی اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ دانشوران سیاست کی جانب سے بھی جن کی اکثریت پارلیمنٹ میں براجمان ہے یہ بات کی جارہی ہے ۔جہاں تک یاد پڑتاہے طیارے کے حادثے میں جنرل محمد ضیاءالحق کی شہادت کے بعد سے لیکر اب تک پاکستان میں ہونیوالے تمام انتخابات میں سے اگر جنرل پرویز مشرف کی نیم مارشل لائی دور کے الیکشن کونکال دیاجائے تو کبھی بھی فوج کی جانب سے یہ درخواست نہیں کی گئی کہ انتخابات کے موقع پر فوج کوتعینات کیا جائے اور نہ کسی آرمی چیف کی جانب سے یہ بیان کبھی سامنے آیا کہ ہم اپنی نگرانی میں الیکشن کروائیں گے۔

اس کے برعکس دیکھا گیاہے کہ جب کبھی فوج کے بغیر الیکشن کا انعقاد کروایا گیا تو دھاندلی کے وہ مناظر دیکھنے میں آئے کہ الامان والحفیظ لیکن جب فوج کی نگرانی میں الیکشن ہوئے تو کبھی بھی ملک بھر کے کسی پولنگ سٹیشن میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا دید ہ دانستہ دھاند لی کی اطلاع نہیں ملی اور نہ اس حوالے سے کوئی ویڈیو منظر عام پر آتے دیکھی گئی ۔

یہ بات عوام الناس کے عام مشاہدے کی ہے کہ ہر الیکشن سے قبل سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کی جانب سے ہی یہ بیانات دیئے گئے کہ شفاف انتخابات کیلئے ضروری ہے کہ فوج کوتعینات کیا جائے اور انہی سیاستدانوں کے کہنے پر نگران حکومتوں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن کے موقع پر فوج کوطلب کیاگیا اور ہر موقع پر فوج نے اپنی ذمہ داری انتہائی دیانتدار ی اور پیشہ ورانہ انداز میں نہایت مستعدی سے نبھائی ہے ۔

اس کے علاوہ فوج نے کبھی بھی کسی سول حکومت سے یہ درخواست نہیں کی کہ اس کو واپڈا کو درست کرنے کیلئے تعینات کیا جائے یا مردم شمار ی فوج کی نگرانی میں کروائی جائے جوآج فوج کے بارے میں پروپیگنڈا کیاجارہاہے کہ الیکشن فوج کے بغیر کروائے جائیں ۔ میر ے جیسے کم سیاسی شعور رکھنے والے شہری جن کو کسی بھی سیاسی حکومت سے بھلائی کی توقع کم ہی ہوتی ہے اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ فوج ملک کی دیگر اداروں کی طرح ایک ادارہ ہے جس کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ داخلی سلامتی کی بھی حفاظت کرناہے ۔

یہ ادارہ بھی ملک کے دیگر اداروں کی طرح حکومت کے احکامات ماننے کا پابند ہے اور حکومت کے احکامات پر ہی فوج الیکشن کے عمل کی سکیورٹی کا فریضہ سرانجام دیتی ہے کیونکہ آئینی طور پر وہ اس ذمہ داری کوادا کرنے کی پابند ہے جوحکومت کی طرف سے اسے تفویض کی جاتی ہے ۔ البتہ یہ اور بات ہے کہ اپنے انتہائی منظم اور کرپشن سے پاک ڈھانچے کی بدولت فوج کی کارکردگی دیگر اداروں سے مختلف ہے جن پر مختلف اداوار میں کم یازیادہ سیاسی اثر ورسوخ ضرور رہاہے تو ایسے میں کچھ سیاستدانوں کا یہ مطالبہ کرنا کیا معنی رکھتاہے کہ آئندہ الیکشن فوج کے بغیر کروائے جائیں؟

کیا ایسی باتیں کرتے ہوئے انھیں ذرا خیال نہیں آتا کہ وہ عوام کے اذہان میں ایسے ادارے کے بارے میں کیا ٹھونسنے کی کوشش کررہے ہیں جوپاکستان کی نظریاتی اساس کا ضامن ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی داخلی خود مختاری اور اقدار اعلیٰ کا محافظ ہے ۔ملک کا پہلا اور آخری دفاعی حصار بھی ہے ۔ ڈی آئی ایس پی آرنے بھی اپنے ایک بیان میں واضح کیاہے کہ الیکشن میں فوج خود سے نہیں آتی بلکہ بلائی جاتی ہے تو وہ اپنی سکیورٹی کی ذمہ دار ی ادا کرتی ہے۔ حکومت اگر نہ بلائے تو فوج نہ آئے ، ایسے میں فوج کے بارے میں ایسی غلط فہمیاں پھیلانے والوں کو سوچنا چاہئے کہ ایسا کرکے وہ ملک وقوم کی کچھ خدمت نہیں کررہے ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...