تقریبا6سے7فیصد عمررسیدہ افراد ڈپریشن سے متاثرہ ہیں،ماہرین 

تقریبا6سے7فیصد عمررسیدہ افراد ڈپریشن سے متاثرہ ہیں،ماہرین 

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) ڈپریشن یا افسردگی ایک سنجیدہ مرض ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ عام ہے، ایک اندازے کے مطابق چھ سے سات فیصد عمررسیدہ افراد اس مرض سے متاثرہ ہیں، ڈپریشن کی چند اہم علامات میں اداسی، عدم دلچسپی، بڑھتی ہوئی تھکاوٹ، حرکات و تقریر میں سستی اور خود کو بیکار سمجھنا وغیرہ شامل ہیں، دنیا میں23لاکھ افراد اعصابی بیماری صلابتِ عصبہ میں مبتلا ہیں، کینڈیڈیا یعنی خمیر انفیکشن پھیلانے کاایک اہم سبب ہے، جسے صحت مند قوتِ مدافعت سے بچا جاسکتا ہے۔ یہ بات ملکی و غیر ملکی ماہرین نے بدھ کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیور میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) جامعہ کراچی کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم(آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی میں مالیکیولر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ کے موضوع پرجاری4روزہ ساتویں بین الاقوامی سمپوزیم کم ٹریننگ کورس(4تا7نومبر) کے تیسرے روز اپنے خطاب کے دوران کہی۔ اس سمپوزیم میں 35ممالک کے100سے زائد سائنسدان اور محققیں شرکت کررہے ہیں، جبکہ پاکستان سے چھ سو سے زیادہ سائنسدان شرکت کررہے ہیں۔ سمپوزیم کے تیسرے روز ہنگری کی سائینسدان پروفیسر ڈاکٹر ہیڈوک بولسکی، سوئیڈن کی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر اوٹ روملنگ، کینیڈا کے سائینسدان پروفیسر ڈاکٹر لکشمی پی کوترا اور پروفیسر ڈاکٹر جان اوسیو، یونانی پروفیسر ڈاکٹر آئیونیس جیروتھن سیس سمیت متعدد پاکستانی محقیقین نے خطاب کیا۔پروفیسر ہیڈوک بولسکی نے کہا ڈپریشن ایک اہم مرض ہے، لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس کا شکار ہے، اس علاج اینٹی ڈپریسنٹ دواں سے کیا جاتا ہے، ہلکی علامات کی صورت میں نفسیاتی تھراپی سے کیا جاتا ہے اوراگر مرض شدید ہو دواں کا استعمال کیا جاتا ہے، ڈپریشن کی عام علامات میں اداسی، عدم دلچسپی، بھوک میں تبدیلی، توانائی کی کمی، بے مقصد کاموں میں اضافہ، بڑھتی ہوئی تھکاوٹ، حرکات و تقریر میں سستی اور خود کو بیکار سمجھنا وغیرہ شامل ہیں۔ پروفیسر لکشمی پی کوترا نے کہا دنیا میں 23لاکھ افراد صلابتِ عصبہ کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ کینیڈا میں ایک لاکھ اور یورپ میں سات لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں، انھوں نے کہا یہ مرض طویل عرصہ تک رہتا ہے جس سے دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور آنکھیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ بینائی، جمسمانی توازن اور اعصاب پر قدرت بھی متاثر ہوتی ہے۔پروفیسر اوٹ روملنگ نے کہا کینڈیڈیا خمیر انسانوں میں فنگل انفیکشن پھیلانے کاایک اہم سبب ہے، جس سے صحت مند قوتِ مدافعت سے بچا جاسکتا ہے، کینڈیڈیا جلد اور منہ وغیرہ میں انفیکشن پیدا کرتا ہے۔ 

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر