غفلت سے جل جانے کے بارے میں آگہی کی مہم کا آغاز

غفلت سے جل جانے کے بارے میں آگہی کی مہم کا آغاز

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)یہ بات نہایت تشویش ناک ہے کہ بچوں میں جل جانے کے واقعات کی 80% وجہ روز مرہ کا کوئی معمول کاکام ہوتا ہے؛ جیسے گرم گرم چائے چھلک کر گرنا۔ ایسے حادثات کا شکار ہونے والے بچوں میں زیادہ تر 10سال سے کم عمر کے بچے ہوتے ہیں جو ایک لمحے کی غفلت سے زندگی بھر کی کسی محرومی، یااس سے بھی زیادہ کا نقصان اٹھاتے ہیں جب کہ اوسطاََ3 سے 4بچے محض گرم چائے کے چھلک جانے کے نتیجے میں زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں۔پاکستان میں ہر تیسرے گھر میں کوئی نہ کوئی فرد اس طرح جلنے کا شکار ہوچکاہے۔ بچے کی نازک جلد اور واقعہ کی حساسیت مستقل معذوری کا سبب بن جاتی ہے اور حادثہ صرف متاثرہ فرد کی تکلیف کا ہی نہیں بلکہ والدین اور دیگر عزیزوں کیلئے بھی پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔تاہم تسلی بخش بات یہ ہے کہ طرزِ زندگی میں تھوڑی سی تبدیلی لانے، آگہی حاصل کرنے اور آسان حفاظتی انتظامات سے اس طرح کے حادثہ سے 100%بچاجاسکتاہے۔ حشمت آفندی برن اینڈ پلاسٹک سرجری ڈپارٹمنٹ، شالامار ہسپتال آنے والی نسلوں کے علاج اور تحفظ کیلئے پر عزم ہے۔محترمہ حشمت آفندی (بانی ایچ ای برن اینڈ پلاسٹک سرجری ڈپارٹمنٹ) نے چائے کا نشان مہم کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا، " اپنی قوم کے بچوں کی حفاظت کیلئے یہ ہمارے سفر کا آغازہے۔ یہ مہم قطعی طور پر چائے کے خلاف نہیں ہے؛ اس کا مقصد معاشرے کے لوگوں کو سکھاناہے کہ اپنے بچوں کو چائے کے گرم کپ سے دور رکھنے کی عادت ڈالیں۔ کیونکہ چائے کا ایسا نشان کبھی نہیں جاتا۔ یہ وقت ہے کہ اس آگہی کو عام کرنے میں ہر ایک بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔آپ کو شاید پتہ بھی نہ چلے کہ جن والدین کو پہلے آگہی نہ ہو اور آپ کے آگاہ کردینے سے ان کا بچہ ایسے حادثہ سے محفوظ رہ جائے۔"یہ وقت ہے کہ سب مل کر آگے بڑھیں اور اپنا کردار ادا کریں کیونکہ بہرحال احتیاط علاج سے بہتر ہے اور ہمارا خاص ہدف ایسے ہی واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر