اکادمی ادبیات کا اردو تراجم میں خواتین کے کردارپر مذاکرے کا انعقاد

اکادمی ادبیات کا اردو تراجم میں خواتین کے کردارپر مذاکرے کا انعقاد

  



کراچی (پ ر)اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتما م اردو تراجم میں خواتین کا کردار مذاکرہ اور’ مشاعرہ “کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت معروف ترجمہ نگار، نظم نگار زیبا علوی نے کی۔ مہمان خاص معروف شاعر عبدالمجید محور معروف شاعر افسانہ نگار عرفان علی عابدی تھے۔ اس موقع پر معروف ترجمہ نگار، نظم نگار زیبا علوی نے صدارت خطاب میںکہا کہ اردو میںہمیشہ سے ہی تراجم پر خصوصی توجہ دی جاتی رہی ہے کہ یہ بھی نئے خیالات کی ترویج اور معیاری تخلیقات سے تعاون کا ایک فنکارانہ اندازہے، یہی وجہ ہے کہ صدیوں پُرانا ”شکنتلا“ کالی داس کا شاہکار صرف سنسکرت زبا اورہندوستان کی ملکیت نہیںبلکہ دنیاکے تمام اَدب کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ترجمے کی وساطت سے بھی دنیا کے تمام مذاہب ، رسومات، اور ثقافت کو سمجھنے میںمددملی ہے، ادب میں صدیوں سے ایک زبان سے دوسری زبانیں کلاسیکی تخلیقات کو منتقل کرنے کے لئے ایک بصیرت افروزذریعہ قراردئے گئے ہیں اور ملکی سے غیر ملکی ادب کو تہذیبی اور فنی دونوں طور پر متاثر کیا ہے۔تراجم کسی زبان اور ادب کے دامن کو وسیع کرنے میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ تراجم کے ذریعے ایک زبان سے دوسری زبان میںنہ صرف نئے نئے موضوعات داخل ہوتے ہیں بلکہ ان موضوعات کوبرتنے کے طور پر طریقے اور اسلوب سے بھی آشنائی ہوتی ہے ۔ ظاہر ہے دوسری زبانوںتک رسائی کا ذر یعہ تراجم ہی ہیں۔ مہمان خاص معروف شاعر ، افسانہ نگار،عرفان علی عابدی نے کہا کہ ہمارے ہاں غیرملکی تراجم کو ہمیشہ سے بے حد اہمیت دی جاتی رہی ہے چنانچہ تراجم کے سلسلے میں خواتین اہل قلم میں ایک اہم رجحان نظرآیا اورانہوںنے دوسری زبانوں کے تراجم کر کے اردو ادب میں گرانقدر اضافے کئے ہیں، اب ایسی خواتین کی کمی نہیں جو انگریزی پر انحصار کرنے کی بجائے اصل زبان سے تراجم کررہی ہیں۔ گزشتہ پچاس برسوں میں جدید ادب کے بعض بہت اہم تراجم کررہی ہیں۔اردو میںہمیشہ سے ہی تراجم پر خصوصی توجہ دی جاتی رہی ہے پاکستان میںمرداہل قلم کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی تراجم میںبڑا کام کیا ہے جن میں سرفہرست کشور ناہیدجس نے سموں وبوار کی کتاب سیکنڈ سیکس کتاب کا ایک حصہ انہوں نے ترجمہ و تلخیص کے لئے چنا تلخیص اس طرح کی کہ اس میں مقامی رنگ شامل کردیا تراجم کا مجموعہ نظمیں ۱۹۷۵ءمیںطبع ہوا جس میں مختلف ممالک کے شعراءکی نظموں کے نثری تراجم شامل ہیں ۔اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ ان نظموں کے چناو¿ میںموضوعاتی ہم آہنگی اپنے ملکی حالات کے عکس آمیزی اور جذباتی پسندی کے ساتھ ساتھ اپنی انفرادی جدوجہد کو بین الاقوامی آہنگ کے ساتھ محسوس کرنے کی صلاحیت کاپتہ چلتا ہے فلسطینی مجاہدہ لیلیٰ خالد کی ڈائری بھی کشور ناہید نے میرے لوگ زندہ رہیں گے کے عنوان سے ترجمہ کی ہے جبکہ دیگر تراجم نگاروں میںفہمیدہ ریاض گیتا نجلی بھارت کی نوخیزشاعرہ جس سے متاثر ہوکر پروین شاکر نے اس کی شاعری کاا ردو میں ترجمہ کیا روبینہ ترین نے پی گرے کی مشھور انگریزی تنقید ی کتاب کا تحسین شعر کے عنوان سے صاف ستھرا ترجمہ کرکے اردو تراجمہ میں ایک قیمتی اضافہ کیا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر