ڈایا بیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کاعالمی دن پر تقریب کا انعقاد

ڈایا بیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کاعالمی دن پر تقریب کا انعقاد

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)ذیابیطس کا عالمی دن عوام الناس کو ذیابیطس مرض کے بارے میں آگاہی و بیداری دلانے کے لیے منایاجاتا ہے تاکہ ذیابیطس کی بڑھتی ہوئی شرح اور اسکی پیچیدگیوں سے محفوظ رہا جا سکے۔ ڈایا بیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان اور عالمی ادارہ صحت کے اشترا کی مرکز نے مقامی ہوٹل میں اس دن کا انعقاد کیا۔ہر سال ذیابیطس کے حوالے سے ایک موضوع منتخب کیا جاتا ہے ،اس سال کا موضوع ہے ” ذیابیطس اورخاندان“ جبکہ اس سال کی اسی مہم کا نعرہ ہے ” خاندان کا تحفظ“۔صبح کے سائنٹفک سیشن کا آغاز ڈایا بیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل، عالمی ادارہ ذیابیطس کے اعزازی صدر اور بانی چیئرمین ڈایا بٹیس ان ایشیاءاسٹڈی گروپ پروفیسر صمدشیرا کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا ۔ انہوں نے اس دن کے سمپوزیم کے موضوع ” ذیابیطس اورخاندان-خاندان کا تحفظ“ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عالمی سطح پر ذیابیطس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کیا اور فرمایا اس وقت پوری دنیا میں ذیابیطس میں مبتلا افراد کی تعداد425ملین سے زیادہ ہے اگر اسکی روک تھام کے لیئے اقدامات بروئے کار نہ لائے گئے تو امکان ہے کہ 2030ئ تک ذیابیطس میں مبتلا افراد کی تعداد522ملین تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے مزیدفرمایا کہ ذیابیطس ایک کہنہ اور تاحیات رہنے والا مرض ہے اور تحقیقات سے ثابت ہے کہ ذیابیطس قسم دوم عموماً خاندان میں چلتی ہے۔ ذیابیطس میں مبتلاہر دو افراد میں سے ایک فرد اپنے مرض سے لاعلم ہے لہذاخاندان میں موجودخطراتی عوامل رکھنے والے افراد کی فوری نشاندہی ضروری ہے ۔ خطراتی عوامل مٹاپا، غیر متحرک و غیر فعال زندگی، خاندان میںذیابیطس کا مرض ہونا،وہ خواتین جن کو حمل کے دوران ذیابیطس ہوئی ہو، بڑھتی ہوئی عمر وغیرہ پر مشتمل ہیں۔ ذیابیطس قسم اول لاحق ہونے سے تو نہیں بچایاجاسکتا تاہم ذیابیطس قسم دوم کو معیاری وزن اور متحرک زندگی سے روکا جاسکتا ہے جسکے لیئے متوازن و منا سب غذا اور روزانہ نصف گھنٹہ کی ورزش یا تیز تیزچہل قدمی ضروری ہے اوریہ بات مختلف تحقیقات سے عیاں ہے کہ80ٰفیصد افرادکو ذیابیطس قسم دوم لاحق ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔اسکے علاوہ ذیابیطس کی فوری نشاندہی سے ممکنہ پیچیدگیوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔اپنے مقالہ میں انسولین کے حوالے سے آپ نے فرمایا کہ ذیابیطس قسم اول کا علاج پہلے روز سے آخر تک انسولین انجکشن ہے۔جبکہ ذیابیطس قسم دوم میں مبتلا افراد کو بھی کچھ عرصہ بعد انسولین انجکشن کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ انسولین جان بچانے والی دوا ہے بشرطیکہ وقت پر استعمال کی جائے ۔ انہوں نے تفصیل سے انجکشن لگانے کی تیکنیک بتائیںاور ذیابیطس کے عمدہ کنٹرول پر اصرار کیا تاکہ پیچیدگیوں کے بغیر عمدہ زندگی بسرہوسکے۔ سر سید میڈیکل کالج و ہسپتال کے ڈائریکٹر شعبہ ذیابیطس و اینڈو کرائنالوجی اور پروفیسر آف میڈیسن پروفیسر زمان شیخ نے ”طرز رہن سہن اور ذیابیطس“ پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایاذیابیطس کی بڑھتی ہوئی شرح میں کمی لانے کے لئے ذیابیطس سے بچاﺅ ہے جوکہ مشروط ہے بہتر رہن سہن سے یعنی صحت بخش موزوں ومناسب غذااور ورزش یا تیز چہل قدمی۔ ابھی بھی وقت ہے تبدیلی کا ، فوری عمل کریں۔ ورزش سے انسان چست و توانا رہتا ہے ، وزن میں کمی آتی ہے ، انسولین موثر انداز میں کام کرتی ہے۔ خون میں گلوکوز کا کنٹرول اچھا رہتا ہے۔ خون میں چکنائی نارمل رہتی ہے ۔ DPPتحقیق کے مطابق زائدوزن میں کمی اورورزش سے ذیابیطس قسم دوم لا حق ہو نے میں 58فی صد تک کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے اصرار کیا کہ خطراتی عوامل رکھنے والے افراد ذیابیطس کی تشخیص ضرور کروائیں۔ بچوں میں زائد وزن کو ہلکا نہ لیں کیونکہ یہ نہ صرف ذیابیطس بلکہ دیگر امراض لا حق کرنے کی وجہ بن سکتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر