بہاولپور‘ اسلامیہ یونیورسٹی میں 3روزہ انٹیلی جنٹ ٹیکنالوجی اینڈ اپلیکشینز کانفرنس شروع 

بہاولپور‘ اسلامیہ یونیورسٹی میں 3روزہ انٹیلی جنٹ ٹیکنالوجی اینڈ اپلیکشینز ...

  



بہاول پور(بیورورپورٹ)اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں دوسری بین الاقوامی کانفرنس برائے انٹیلی جنٹ ٹیکنالوجی اینڈ اپلیکیشنز کا آغاز ہو گیا۔ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں ترکی، اٹلی اور پاکستان کی مختلف جامعات سے آئے ہوئے 120مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس کے اشتراک میں ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن، آرٹیفشل انٹیلی جینس گروپ، جامعہ اسلامیہ بہاولپور اور سر صادق ایسوسی ایشن فار کمپیوٹنگ شامل ہیں۔ انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب،وائس چانسلر(بقیہ نمبر53صفحہ12پر)

اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے اپنے پیغام میں کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی بنی نوع انسان کا مشترکہ ورثہ ہے اور ایک عالمی حقیقت ہے جسکا مقصد انسان کی بھلائی ہے۔ ہماری جامعات کو اسطرح کے جدید موضوعات پر زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی کانفرنسز منعقد کرانی چاہئیں تاکہ ملکی اور غیر ملکی ماہرین مل بیٹھ کر نئے خیالات پیش کریں جو جدت اور ترقی پر مبنی ہوں۔ ہمارے سائنسدانوں کو معیاری تحقیق پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی اور اس کا انحصار عالمی سطح پر آپس کے روابط اور مشترکہ تحقیقاتی منصوبوں سے ہی ممکن ہے۔ آج مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی اور نینو ٹیکنالوجی جدت اور ترقی کی نئی منزلوں کو چھو رہی ہے۔ اس کانفرنس کا موضوع جدید ترین ٹیکنالوجیز پر مبنی ہے اور صحت، تعلیم اور بزنس کے شعبوں کا کامیابی سے احاطہ کرتی ہے جو انتہائی مفید اور دیرپا ترقی کے لیے ممدومعاون ہیں۔ کانفرنس کے فوکل پرسن ڈاکٹر عمران سرور باجوہ نے کہا کہ ماہرین اس کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں ہونے والی جدید ترین تحقیق اور اس کے نتیجے میں اُبھرنے والے مضامین آرٹیفشل انٹیلی جنس برائے سافٹ ویئر انجینئرنگ، نیچرل لینگویج سسٹم، فیصلہ سازی میں مددگار سسٹم،مصنوعی ذہانت کا ماحول، سوشل میڈیا تجزیہ کاری،سمارٹ اینوائرمنٹ اور رابطہ کاری سے متعلق تبادلہ خیال کریں گے جس سے اس شعبے میں تحقیق کے نئے اُفق روشن ہوں گے۔ انٹیلی جنٹ کمپویٹنگ سے انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔بلا شبہ مصنوعی ذہانت سے معلومات کی رسائی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی فیصلہ سازی تیز تر اور آسان ہو جائے گی۔ اس شعبے میں  بنیادی تحقیق کے دوسرے شعبوں پر ہونے والے مثبت اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ 

کانفرنس 

مزید : ملتان صفحہ آخر