وہاڑی: ٹڈی دل کا گاؤں پر حملہ‘ فصلیں برباد ہونیکا خدشہ‘ لوگ خوفزدہ 

وہاڑی: ٹڈی دل کا گاؤں پر حملہ‘ فصلیں برباد ہونیکا خدشہ‘ لوگ خوفزدہ 

  



وہاڑی(بیورورپورٹ+سٹی رپورٹر)نواحی گاؤں 23 ڈبلیو بی میں مبینہ طور پرخطرناک ٹڈی دل نے  حملہ کردیا۔واقعات کے مطابق نواحی گاؤں 23 ڈبلیو بی میں خطرناک ٹڈی دل نے مبینہ طور پر حملہ کردیا جس پر گاؤں کے لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہزاروں کی تعداد میں ٹڈیاں دیکھ کر مکین پریشان ہو گئے کھڑی فصلوں کے نقصان کا اندیشہ ہے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ڈھول بجا کر اور آواز پیدا کر کے اپنی فصلوں کو بچانے میں لگے رہے۔ مکینوں نے اپنی دکانوں اور گھروں کے دروازے کھڑکیاں بندکرلیے کئی (بقیہ نمبر41صفحہ7پر)

گھنٹوں تک ٹڈیاں گاؤں پر منڈلاتی رہی اور مکین خوف وہراس کا شکار رہے ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق کہ ٹڈی دل کے حملہ کی اطلاع ملنے پر محکمہ زراعت کی ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے اور وہ علاقہ میں سروے کر رہی ہیں تصدیق ہونے پر اس کے تدارک کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے دریں اثنا  ڈپٹی کمشنر عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ وہاڑی کے کچھ علاقوں میں ٹڈی دل کے حملے کو فوری طورپر روکنے کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ جس کے لئے محکمہ زراعت ان علاقوں میں فوری طور پر سپرے کریگاتاکہ ٹڈی دل کا بروقت خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔کاشتکاروں کی فصلوں کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے جس کے لئے تمام متعلقہ محکمے فوری طور پر اقدامات کریں اور کاشتکاروں کاٹڈی دل سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی دی جائے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے دفتر میں ٹڈی دل کے خاتمے کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت چوہدری الطاف حسین،اسسٹنٹ ڈائریکٹرززراعت محمد اسماعیل وٹو،محمد اقبال،ڈاکٹرمحمد رمضان آسی اور فقیر محمد بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر عرفان علی کاٹھیا نے مزید کہا کہ ٹڈی دل سے بچاؤ کے اقدامات کے حوالے سے مساجد میں اعلان کروائے جائیں اور لوگوں کو بتایا جائے کہ ٹڈی دل سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ٹڈی دل کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی باقاعدگی سے رپورٹنگ کی جائے تاکہ تمام افسران کی کارکردگی کو مانیٹرکیا جاسکے۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت چوہدری الطاف نے بتایا کہ ٹڈی دل کو بھگانے کے لئے اقدامات شروع کردیے گئے ہیں۔کاشتکاروں کو آگاہی دی جارہی ہے کہ وہ اپنی فصلوں کو ٹڈی دل سے بچانے کے لئے متعلقہ اقدامات کریں۔

حملہ 

مزید : ملتان صفحہ آخر