تیز گام حادثہ‘ ڈی این اے ٹیسٹ میچ‘ 42ڈیڈ باڈیز ورثا کے حوالے

تیز گام حادثہ‘ ڈی این اے ٹیسٹ میچ‘ 42ڈیڈ باڈیز ورثا کے حوالے

  



ملتان‘ رحیم یار خان‘ دھنوٹ (ّ نمائندہ خصوصی‘ بیورو رپورٹ) سانحہ تیزگام کے 74شہداء کی قربانی رنگ لے آئی ہے ریلوے انتظامیہ نے تمام مسافر ٹرینوں میں آگ بجھانے کے سلنڈرزاورہنگامی بریک کیلئے موجودزنجیرسسٹم کوفعال کرناشروع کردیاہے۔جس پرخودریلوے ملازمین نے خوشگوارحیرت کا اظہار کیا ہے۔بتایاجاتاہے کہ گزشتہ روزکراچی پشاور کے درمیان چلنے والی عوام ایکسپریس اور دیگر ٹرینوں میں نئے آگ بجھانے والے سلنڈرز اور ہنگامی زنجیرسسٹم کوفعال کردیاگیا۔ریلوے ذرائع کے(بقیہ نمبر29صفحہ12پر)

مطابق تمام مسافرٹرینوں کے آگ بجھانے کے آلات اورزنجیرسسٹم کوچیک کیاجارہاہے تمام مسافرٹرینوں کی ہربوگی میں کم ازکم تین مقامات پرزنجیرسسٹم نصب کیاجارہاہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مسافرفوری طورپرزنجیرکھینچ کرٹرین کورکواسکیں اسی طرح بوگیوں میں نئے آگ بجھانے والے سلنڈروں بھی نصب کئے جارہے ہیں۔ سانحہ تیزگام میں جاں بحق مسافروں کی لاشوں کوڈی این اے ٹیسٹ کے بعدشناخت مکمل ہونے پر ورثاکے حوالے کئے جانے کاسلسلہ گزشتہ روزبھی جاری رہا۔ تحصیل لیاقت پور تیز گام سانحہ میں جاں بحق ہونے والے 57میں سے 42افراد کے ڈی این اے میچ ہوگئے۔ رپورٹ آنے والے شیخ زید ہسپتال اورضلعی انتطامیہ نے42میتیں لواحقین کے حوالے کردیں۔ایدھی ایمبولینسز اور ریسکیو گاڑیاں میتیں لے کر آبائی علاقوں کی طرف روانہ ہو گئیں۔ تفصیل کے مطابق لیاقت پور ٹرین سانحے میں ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے شناخت کا عمل جاری ہے گزشتہ روز شیخ زید ہسپتال انتظامیہ کو 57 لاشوں میں سے 42 افراد کی شناخت کا عمل مکمل ہونے پر رپورٹ موصول ہوئی‘ جس پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 42 میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئیں ہیں جن میں 4 میتیں ظفر حسین‘ نسرین بی بی‘ جاوید گل وغیرہ کراچی، 26 میتیں فرحان سعید‘ محمدانور‘ عتیق احمد‘ نویداحمد‘ محمد عمر‘ ثناء اللہ‘ حبیب اللہ‘ محمدامجد‘ عبدالرزاق‘ محمد سہیل‘ عدنان احمد‘ محمدیامین‘ محمد حسن‘ محمدرمضان‘ محمداسلم‘ محمد بلال‘ دلاور حسین‘ سلمی بی بی‘ زینب بی بی‘ محمد اسماعیل‘ حسن محمد‘ عادل پنوار‘ وحید علی‘ محمد عاصم‘ محمدحنیف‘ ابوبکراورنسیم بی بی میر پور خاص، 2 میتیں عبدالغفار اور محمد خاور سانگھڑ، 3 میتیں شفیع محمد‘ اسداللہ خان اور محمد کامران عمر کوٹ، 1 میت محمد بلال ٹنڈو اللہ یار، 3 میتیں شکار پور اور 1میت احمد جبار لودھراں روانہ کر دی گئی ہے۔ تیزگام ٹرین کے سانحہ میں دھنوٹ کے رہائشی عبدالجبار واچ سروس والے کی ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے موت کی تصدیق ہوگئی ہے۔آج صبح10بجے گورنمنٹ ہائی سکول دھنوٹ میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ رحیم یارخاں کے علاقہ لیاقت پور میں تیزگام ٹرین کے سانحہ میں دھنوٹ کا رہائشی عبدالجبار واچ سروس وا لاپتہ ہوگیا تھا۔ جس کا کہیں کوئی سراغ نہیں ملا۔ جبکہ سانحہ میں جاں بحق ہونیوالے افراد میں سے 58 افراد کی لاشیں ناقابل شناخت تھیں۔جن کی ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کی گئی۔ جس میں عبدالجبار کے خاندان کا بھی ڈی این اے ٹیسٹ کیاگیا۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے نتیجے میں گزشتہ روز عبدالجبار کی موت کی تصدیق ہوگئی۔ رحیمیارخاں ہسپتال سے عبد الجبار کی نعش گزشتہ رات ورثا کے حوالے کر دی گئی۔آج صبح10بجے گورنمنٹ ہائی سکول دھنوٹ میں ادا کی جائے گی۔

ورثا

مزید : ملتان صفحہ آخر