تمام ملاقاتیں بے نتیجہ ڈیڈ لاک برقرار، حکومتی کمیٹی نے مذاکرات کا اختیار پرویز الٰہی کو دیدیا ، سپیکر پنجاب اسمبلی کا وزیراعظم سے رابطہ تجاویز پیش کیں ، رہبر کمیٹی کی مولانا فضل الرحمن سے مشاورت

  تمام ملاقاتیں بے نتیجہ ڈیڈ لاک برقرار، حکومتی کمیٹی نے مذاکرات کا اختیار ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات اور جے یو آئی( ف) کے دھرنے کے خاتمے کیلئے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی خاطر ملاقاتوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے تاہم ابھی تک ہونےوالی تمام ملاقاتیں اور مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں ،مسلم لیگ ق کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مولانا فضل الرحمن سے تین ملاقاتیں کیں ۔ بدھ کے روز ہونےوالی ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انکا کہنا تھا مذاکرات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، مختلف تجاویز بھی زیر غور ہیں۔چودھری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کئی چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، تھوڑا صبر اور محنت کی ضرورت ہے۔ محنت اس لیے ہو رہی ہے تا کہ مثبت طریقے سے معاملہ منطقی انجام کو پہنچے۔ ہمارے مقصد کو کامیابی ملے گی لیکن ٹائم لگے گا۔بدھ کے روز حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کابھی اجلاس ہوا جس میں مذاکراتی کمیٹی کے ارکان اپوزیشن سے مذاکرات کے حوالے سے تمام اختیارات پرویز الہٰی کے حوالے کردیئے۔بعد ازاںچوہدری پرویز الہٰی نے وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کر کے مولانا فضل الرحمن سے ملاقاتوں کے حوالے سے آگاہ کیا اور ڈیڈ لاک کے خاتمے کےلئے تجاویز پیش کیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے تجویز دی کہ ماحول ساز گار ہونے تک قومی اسمبلی کااجلاس نہ بلایا جائے، اسیر ممبران کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جانے چاہیے، اپوزیشن کا اعتماد بحال کیا جائے، پھر مطالبات پر بات کی جائے۔وزرا کو اپوزیشن کےخلاف سخت بیان بازی سے اجتنا ب کرنا چاہیے، مولانا کوئی عہدہ نہیں چاہتے، مطالبات پر سنجیدہ بات چیت کی جائے۔ ڈیڈ لاک کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گا، وزیراعظم عمران خان نے چوہدری برادران کے مفاہمتی کردار کی تعریف کی اور کہاآپ کی صلح جو اور شرافت کی سیاست کا شروع سے قائل ہوں۔دریں اثناجمعیت علما اسلام ف کی مرکزی عاملہ اور صوبائی امراءنظماءکا اجلاس مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ا±ن کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں مولانا فضل الرحمان کی رات گئے چوہدری برادران سے ملاقات پر بات چیت کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عطاءالرحمان اور اکرم خان درانی شریک ہوئے، اجلاس میں آزادی مارچ کی صورتحال اور انتظامی معاملات پر مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت سے ہونےوالے مذاکرات اور حکومتی تجاویز پر بھی مشاورت کی گئی اور رہبر کمیٹی کی سفارشات پر غور بھی کیا گیا۔اجلاس میں آزادی مارچ کی صورتحال سمیت حکومت سے مذاکرات میں ڈیڈلاک،چودھری برادران سے ملاقاتوں پر تفصیلی غورکیا گیا، جبکہ مقاصدحاصل ہونے تک دھرناجاری رکھنے کافیصلہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق فضل الرحمان نے ملاقات اورمذاکرات سے متعلق شرکاکواعتمادمیں لیا،اجلاس میں حکومتی مذاکراتی اوررہبرکمیٹی میں زیرغورتجاویزپربھی گفتگوکی گئی ،ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ آزادی مارچ کے دھرنے میں انتظامات کابھی جائزہ لیا گیاقبل ازیں مولانا فضل الرحمن نے پنڈال میں کارکنوں سے ملاقات کی اور کچھ دیر ان کےساتھ رہے ، اور پھر دوبارہ کنٹینرپر چلے گئے ۔دوسری طرف آزادی مارچ کے شرکاءموسمی بیماریوں میں مبتلا ہونا شروع ہوگئے، گزشتہ بارہ گھنٹوں کے دوران میڈیکل کیمپ میں ڈھائی سو مریضوں کا علاج اور ادویات فراہم کی گئیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا وزیراعظم سے کوئی رعایت نہیں چاہتے ان کی پیشکش کو مسترد کرتے ہیں، وزیر اعظم کا استعفیٰ چاہتے ہیں ہمارا دھرنا نہیں ، آزادی مارچ ہے ، دھرنا ہوسکتا ہے ڈی چوک پر ہو۔ ہمارے کارکن ہمارے قابو میں ہیں ، کنٹینر ہٹائے جائیں۔ ذوالفقا ر بھٹو تین ماہ بعد دوبارہ الیکشن کےلئے تیار ہوگئے تھے ان کو تو حکومت میں پندرہ ماہ ہوگئے۔ ادارے اس حکومت کو کب تک چلاتے رہیں گے۔ جبکہ جے یو آئی( ف)کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کے چھٹے روز بھی شرکا بدستور ایچ نائن گرا ونڈ میں موجود رہے،اسلام آباد میںگرج چمک کےساتھ بارش اور تیز ہواﺅں کے باعث سرد موسم نے آزادی مارچ کے شرکا کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ،تیز ہوائیں چلنے سے ایچ نائن کے میٹرو ڈپو گرانڈ میں موجود شرکا کے کئی خیمے بھی اکھڑ گئے۔ جس کے نتیجے میں کچھ لوگوں نے پولیس کے کنٹینرز میں پناہ لی تو بعض شرکا کو رات میٹرو اسٹیشن میں گزارنی پڑی۔بارش کے بعد جلسہ گاہ میں ہر طرف کیچڑ ہوگیا جس نے آزادی مارچ کے مظاہرین کو مشکلات میں ڈالے رکھا۔ ادھر شہر کے تمام اہم علاقوں میں شاہرا وں پر کنٹینر رکھ کر سنگل لائن کردی گئی ہے تاہم کسی بھی کنٹینر پر ریفلیکٹرز نہیں لگائے گئے جس سے حادثات کا خدشہ ہے۔

ملاقاتیں بے نتیجہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے اجتماع کو 12ربیع الاول کو سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کرنے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایک سال میں تین بجٹ پیش کرکے بھی محصولات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام حکومت کو اب ایک دن کی بھی مہلت نہیں دے سکتے،ہم اسی طرح ڈٹے رہے تو یقینا اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں گے، آزادی مارچ میں وکلا کی شرکت نے ثابت کر دیا مارچ قانونی لحاظ سے بھی جائز ہے، یہاں یکطرفہ احتساب نہیں چلے گا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بد نیتی پر مبنی ہے ،یہاں عدل وانصاف نہیں، حکمرانوں کے احتساب کیلئے نیب بے بس ہے،ایسی آئینی حکومت چاہتے ہیں جو آئین پاکستان کی عکاس ہو۔ بدھ کو آزادی مارچ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ میرے لئے سب سے تکلیف دہ مرحلہ یہ تھا جب رات کو بارش برس رہی تھی اور آپ کھلے آسمان تلے استقامت کا پہاڑ بنے ہوئے تھے ،آپ نے جس استقامت کےساتھ ساری رات اور دن بھر ٹھنڈی ہواﺅں اور ٹھنڈے موسم کو برداشت کیا یہ اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا لیکن دنیا کےلئے پیغام تھااور پاکستان کے حکمرانوں کےلئے پیغام تھا کہ یہ اجتماع تما ش بینوں کا نہیں ،یہ اجتماع کوئی پکنک کا اجتماع نہیں ، یہ اجتماع کسی عیاشی کااجتماع نہیں ، یہ اپنے نظرئیے اور موقف کے ساتھ استقامت کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کااجتماع ہے اور اس استقامت میں آج اس امتحان سے کامیابی سے گزرے ہیں اور انشاءاللہ آنے والے امتحانات کو بھی اسی کامیابی کے ساتھ عبور کریں گے اور منزل پر دم لینگے ۔انہوںنے کہاکہ اس ملک میں ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں پوری قوم حکمرانوں کے اقتدار میں زندگی کو شرمندگی تصور کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں نے اپنے خیالات کا ذکر کیا ہے اور آج بھی اپنے خیالات کا ذکر کررہے ہیں ، یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے اور انشاءاللہ 12ربیع الاول کو آزادی مارچ کوسیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کر دینگے ۔انہوںنے کہاکہ نبی کریم نے قوم کو یہی بتایا کہ خوف اور ایمان دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اس وقت پاکستان مالیاتی بحران سے گزر رہا ہے اور ہم آنے والے مستقبل میں مزید مالیاتی بحران کی طرف جائیں گے ،اگر اگلا بجٹ ان نا اہلوں کے حوالے ہوگیا تو پاکستان مکمل طورپر بیٹھ جائے گا ۔ انہوںنے کہاکہ ان حکمرانوں نے ایک سال میں تین بجٹ پیش کئے اور تین بجٹ پیش کر کے محصولات کا ہدف حاصل نہیں کر سکے اور سالانہ بجٹ میں آج پاکستان کو دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے اور اگلا بجٹ بھی یہ پیش کر تے ہیں تو پھر ہم دیوالیہ پن کی طرف نہیں دیوالیہ قرار دیئے جائیں گے اور ہمیشہ معیشت کا جہاز سمندر غرق ہو جائیگا انہوںنے کہاکہ ہم ملک کو بچانے کےلئے آئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان سویت یونین کے مقابلے تگڑا ملک نہیں وہ بہت بڑا ملک تھا ،دنیا کی بڑی طاقتوں میں سے امریکہ کے مقابلے میں برابر کی طاقت تھی ،جہاد افغانستان کی وجہ سے چودہ سالوں میں سویت یونین اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکا ،آج ہم اسی صورتحال سے گزر رہے ہیں ،اگر ملک کو بچانا ہے تو نا اہل حکمرانوں کو مزید قت دینے کےلئے تیار نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ میں اپنی وکلاءبرادری ، سپریم کورٹ کے وکلاء، پاکستان بار کونسل کے نائب صدر ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور کابینہ کے اراکین کو آزادی مارچ میں شرکت کر نے پر خوش آمدید کہتا ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ وکلاءبرادری نے آزادی مارچ میں شرکت کر کے ہمیں اپنی تائید سے نوازا ہے ،یقینا اس شعبے سے وابستہ سینئر وکلاءاس آزادی مارچ میں شریک ہوئے تو اس کا معنی یہ ہے کہ آزادی مارچ قانونی اور آئینی بات سے جائز ہے ان کے آنے سے آئینی اور قانونی سند حاصل ہوتی ہے ،ہمیں تقوت ملی ہے شاید اتنی تقوریت کسی اور طرف نہیں ملی ہو ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں آزادی کہاں ہے ؟ جسٹس شوکت صدیقی نے ایک فیصلہ دیا اور وہ کچھ قوتوں کےلئے تکلیف دہ تھا تو اس کا انجام کیا کیا گیا ؟آج سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف موجودہ حکومت کی خواہش پر ریفرنس چل رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس حکومت کے خواہشات کے برعکس فیصلے دئیے تھے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ کوئی جج عوام کے حق میں فیصلہ دیتا ہے اور حکمرانوں کے مفاد کے خلاف جاتا ہے تو اس کے خلاف ریفرنس دائر کردیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں عدل وانصاف نہیں، حکمرانوں کے احتساب کیلئے نیب بے بس ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہمیںکہا جاتا ہے کہ آپ احتجاج ضرور کریں اور عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں کریں ، عدالتوں کے فیصلے کون سے ہیں ؟ایک فیصلہ جسٹس شوکت صدیقی نے کیا تھا آج اس کا انجام کیا کر دیا ؟ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیا تھا اور اس کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی جاتی ہے ، نظر ثانی درخواست دائر کر نے کا مطلب ہے کہ عدالت کے فیصلے غلط تھے اور مجھے کہتے ہوں کہ آپ عدالتوں کے فیصلے پر عمل کریں ۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم وکلاءکے مطالبات کو تسلیم کر تے ہیں اور بد نیتی پر ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ چار سو اداورں کو ختم کر نے کی بات کی گئی ہے ، چار سو اداروں کے ساتھ ہزاروں لوگوں کاروز گار وابستہ ہے تم نے صرف ووٹ حاصل کر نے کےلئے جھوٹ بولا تھا ، کہتے تھے ہم کروڑ نوکریاں دینگے ،جھوٹ کی بنیاد پر قائم کی گئی حکومت کو نو جوان تسلیم نہیں کرتے ، کیا حکومت کو گرانا قومی فرایضہ نہیں ، ہم قومی فریضہ کو ادا کر نے کےلئے نکلے ہیں یہاں کوئی رات کو مجرے نہیں ہورہے ہیں ،خدا کا فضل ہے کہ یہاں پر قوم کے محترم لوگ ہیں ،عزت دار لوگ ہیں یہ کوئی پکنک منانے کےلئے نہیں آئے ہیں ،یہ کوئی عیاشی کےلئے نہیں آئے ہوئے ہیں ،ماضی میں جو کچھ مناظر دیکھے تھے میری شرافت اجازت نہیں دیتی کہ اس کا تذکرہ کروں ۔ انہوںنے کہاکہ چار سو محکموں کو ختم کر نے کا کہا گیا،کروڑوں نوکریاں تو دور کی بات ،لاکھوں لوگوں کو بے روز گار کر دیا گیا ، پچاس لاکھ گھر بنانے کی بات ہوئی ہے ، تجاوزات کے نام لاکھوں گھر گرا دیئے گئے لیکن ایک نئی اینٹ نہیں رکھی گئی ۔انہوںنے کہاکہ اخبارات کے ذریعے خبریں آرہی ہیں افغانستان میں پاکستان کے سفارتخانے کے عملے کو ہراساں کیا جارہا ہے ،یہاں ہمارا دفتر خارجہ خاموش ہے ،یہاں کوئی پوچھ گچھ نہیں ہے ،کس طرح لوگ پاکستان سے باہر جا کر نمائندگی کرینگے جن کو اپنی حکومت کی طرف سے تحفظ بھی حاصل نہیں ہے، یہاں کوئی احتجاج بھی نہیں ہورہاہے ۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم نے اس ملک کا بہت نقصان کر لیا ہے ملک مزید نقصان بر داشت کر نے کےلئے متحمل نہیں ۔انہوںنے کہاکہ نومبر آرہا ہے اور یہ علاقہ اقبال کی پیدائش کا دن ہے ، یہ علامہ اقبال کی پیدائش کے دن کرتار پور بارڈر کھول رہے ہیں ،پتہ نہیں ان کا کیا پروگرام ہے ؟ حج پر اخراجات 5 لاکھ روپے کردیئے گئے اور سکھوں کے لئے پاکستان میں انٹری مفت ہوگی،کیا ہم آئندہ یہ دن اقبال ڈے کی بجائے رنجیت سنگھ اور بابا نانک کے دن کے طور پر تو نہیں منائیں گے۔انہوںنے کہاکہ پاسپورٹ کی شرط ختم کر دی گئی ہے ایک طرف کہتے ہیں کشمیر کے محاذ پر بڑی ٹینشن ہیں پھر کرتارپور پرپینگیں بڑھا ئی جارہی ہیں ، ان کی پالیسی میں تضاد ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ قومی مطالبہ ہے قوم پسپا ہونے کوتیار نہیں ہے ، صوبے وسائل چاہتے ہیں ،اپنا حق مانگ رہے ہیں کسی کو اس بات کا کوئی حق حاصل نہیں کہ کسی صوبے کو ا پنے وسائل سے محروم کر سکے۔انہوںنے کہاکہ انشاءاللہ یہ سفر جاری ہے اور جاری رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ آزاد مارچ کے شرکاءکی استقامت کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ اس سے قبل تحریک جوانان پاکستان کے چیئرمین محمد عبداللہ گل سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں اپنی سیاست نہیں ،،ریاست ،، بچانے آیا ہوں ہماری جماعت کا چارٹر آف ڈیمانڈ پوری قوم کا مشترکہ ون پوائنٹ ایجنڈا ہے جس پر سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کپتان اور اسکی حکومت کواپنے کردار اور عمل پر نظر ثانی کرنا ہوگی ہم اپنے اصولی موقف سے دستبردار ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔اس موقع پر چیرمین تحریک جوانان پاکستان محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ حکومت کو جے یو آئی کے مطالبات پر غور و فکر کرنی چاہیے انھوں نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ آزادی مارچ کے جائز مطالبات تسلیم کر نے میں انکو کوئی عار محسوس نہیں چاہئے اس کے لیے وزیر اعظم سیاسی وسعت قلبی کا مظاہرہ کرنا ہوگا حکومت جذبات اور سخت گیر لب و لہجے کا نام نہیں ہوتی بلکہ حکومت تو صبر و تحمل کی ایک روشن مثال کا نام ہے جو تاحال ہماری قوم کے لیے نایاب ہے انھوں نے کہا کہ مذکراتی کمیٹی میں مولانا کے سیاسی حریفوں کو نکال کے ریاست اور مولانا کے ہم خیال لوگوں کو شامل کیا جاے تاکہ سیاسی بحران سے نکلنے کے درمیانی راستے کی راہ ہموار ہوسکے انکا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنے سیاسی لب ولہجے پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے عبداللہ گل نے کہا کہ مولانا میرے بزرگ ہیں ان کے ساتھ عزت اور احترام کا رشتہ ہمارے خاندان کے ساتھ ایک قدیم روایات کا امین ہے اور میں حکومت اور سرکاری ترجمان کے طور نہیں بلکہ ریاست کے نمائندے کے طور پر جے یو آئی کے سربراہ سے ملاقات کی ہے۔

مولانا فضل الرحمن

مزید : صفحہ اول