جینے کا حق ہر شخص کو ہے چاہے وہ آزاد ہو یا قید، اسلام آبادہائی کورٹ 

      جینے کا حق ہر شخص کو ہے چاہے وہ آزاد ہو یا قید، اسلام آبادہائی کورٹ 

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا  ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جینا کا حق ہر شخص کو ہے چاہے آزاد ہو یا قید،اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنا ریاست کے ہر ادارے پر لازم ہے،قیدیوں کو واش روم، تفریح مقام اور صحت کی بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں، مرکزی اور صوبائی حکومتیں شدید بیمار قیدیوں کو ریلیف فراہم کریں۔ بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،جسٹس عامر فاروق نے 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا،تفصیلی فیصلے میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کرنے کی وجوہات بیان کی گئیں،سپیشل میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کو بھی تفصیلی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہاگیاکہ وفاقی اور صوبائی حکومت عدالتی فیصلہ کو آنکھیں کھولنے کے طور پر لے سکتی ہے، نواز شریف کا قابل ترین ڈاکٹرز علاج کر رہے ہیں۔ ہائی کورٹ نے کہاکہ جینا کا حق ہر شخص کو ہے چاہے آزاد ہو یا قید۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہاکہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنا ریاست کے ہر ادارے پر لازم ہے۔ہائی کورٹ نے کہاکہ اگر صوبائی حکومت دفعہ 401 کا اختیار استعمال کرے تو عدالت پر بوجھ نہ پڑے۔ عدالت نے کہاکہ دل اور پلیٹ لٹس کے علاج کے لیے نواز شریف کو دوسرے ہسپتال جانا پڑ رہا ہے،  بہترین ہسپتال کے باوجود نواز شریف کے علاج کے لیے تمام سہولیات نہیں۔عدالت نے کہاکہ ایگزیکٹو اپنی ذمہ داری سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتی۔ عدالت نے کہاکہ قیدیوں کو واش روم، تفریح مقام اور صحت کی بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں، مرکزی اور صوبائی حکومتیں شدید بیمار قیدیوں کو ریلیف فراہم کریں۔ عدالت نے کہاکہ کئی قیدی صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر زندگی کی  بازی ہار جاتے ہیں۔

تفصیلی فیصلہ

مزید : صفحہ اول