حکومتی ، اپوزیشن سینیٹرز کا احتجاج ، ایوان مچھلی منڈی بن گیا

حکومتی ، اپوزیشن سینیٹرز کا احتجاج ، ایوان مچھلی منڈی بن گیا

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں )سینیٹ (ایوان بالا) میں حکومت اور اپوزیشن کے سینیٹرز کے احتجاج کی وجہ سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا۔ اپوزیشن سینیٹر ز نے وفاقی وزیر مراد سعید کی تقریر کے دوران احتجاج کیا جس کے جواب میں وفاقی وزیر اعظم سواتی اور حکومتی سینیٹرز نے مولانا عبدالغفور حیدری کی تقریر کے دوران شدید احتجا ج کیا ۔اپوزیشن نے مراد سعید کی تقریر کے دوران علامتی واک آﺅ ٹ بھی کیا۔ وفاقی وزیر اعظم سواتی نے کہااپوزیشن مراد سعید کی مدلل اور حقائق پر مبنی تقریر خاموشی سے پہلے سنیں گے تو اپوزیشن بول سکے گی ورنہ نہیں،اپوزیشن سینیٹرز نے اعتراض کیا ایجنڈا اپوزیشن کا ،اپوزیشن کے سوالوں کا جواب حکومتی سینیٹرز یا قائد ایوان دیں،مراد سعید سینیٹ کے رکن نہیں ، انکو بولنے نہیں دینگے۔سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا اعظم سواتی صاحب کو مجھ سے کوئی مسئلہ ہے ، میں جب ان کو آئینہ دکھاتا ہو ں تو وہ شور مچانا شروع کردیتے ہیں۔بدھ کو سینیٹ میں سیاسی انتقام سے متعلق تحریک پر بحث کی گئی ۔ جب مراد سعید نے تقریر شروع کی تواپو زیشن نے احتجاج کیا اور کہا جواب حکومتی سینیٹرز دیں ،وزیر جو ایوان کا رکن بھی نہیں وہ کیوں جواب دے رہا ہے ۔ جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا اپوزیشن کے چھ، سات سینیٹرز کو بولنے کی اجازت دی اسلئے اپوزیشن خاموشی سے مراد سعید کی تقریر سنے ، لیکن اپوز یشن نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ۔ اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے مراد سعید کا مائیک بند کر کے جے یوآئی (ف) کے جنرل سیکرٹری سینیٹر عبدالغفور حیدری کو تقریر کےلئے مائیک دیا جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی سمیت حکومتی سینیٹرز نے احتجاج شروع کردیا۔غفور حیدر ی نے کہا اعظم سواتی صاحب کو مجھ سے کوئی مسئلہ ہے ؟جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا وہ اعظم سواتی آپ کی جماعت میں رہے ہیں ان کو آپ سے کیا مسئلہ ہے آپ اور وہ جانتے ہیں ،آپ اپنی تقریر جاری رکھیں ۔ اس دوران حکومتی سینیٹرز مسلسل احتجاج کرتے رہے جس پر اپوز یشن نے بھی احتجاج شروع کردیا اورگو نیازی گو کے نعرے لگائے ۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا مولانا عبدالغفور حیدری کی تقریر آرام سے سنیں ورنہ میں احتجاج ملتوی کرد ونگا ۔قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا اپوزیشن یقین دہانی کروائے وہ بعد میں مراد سعید کی تقریر آرام سے سنیں گے ۔اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے کہا قومی اسمبلی اور سینیٹ میںرولزاس لئے بنائے جاتے ہیں کہ دونوں ایوانوں کے ارکان اپنی اپنی باری پر بات کریں ۔دونوں ایوانوں کے ارکان چیئرمین وڈپٹی چیئرمین ،سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے احکامات ماننے کے پا بند ہیں اور چیئر کی جانب سے بات کرنے کی اجازت پر ہی بات کی جانی چاہیے ۔ مولانا عبدالغفور کی تقریر مکمل ہونے پر چیئرمین سینیٹ نے وفاقی وزیر مراد سعید کو تقریر کا موقع دیا لیکن ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے علامتی اجلاس کا بائیکاٹ کیا جبکہ تقریر مکمل ہونے کے بعد اپوزیشن واپس ایوان میں آ گئی ۔ ایوان بالا میں پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر مولابخش چانڈیو کی جانب سے تحریک انصاف کے رکن سینیٹر فیصل جاوید کو بے بی کہہ کر پکار نے پر دو نوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، مولا بخش چانڈیو نے فیصل جاوید کو کہا بے بی خاموش ہوجاﺅ جس پر فیصل جاوید غصے میں آگئے اور کہا بے بی تو بلاول بھٹو ہے جس پر مولا بخش چانڈیو نے کہا تم بلاول بھٹو کے جوتے کے برابر بھی نہیں اور بلاول کے حوالے سے ایسے بات نہیں کر سکتے و ر نہ اٹھا کر باہر پھینک دیں گے ، جس پر دونوں سینیٹرز کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور آپس میں نوک جھوک ہوئی ۔تقریر کے آخر میں مولا بخش چانڈیو نے اپنی طرف سے سخت الفاظ استعمال کرنے پر معذرت کی ۔دریں اثناءایوان بالا میں اپوزیشن نے دوسر ے روز بھی حکومت کو 8صدارتی آرڈیننس اجلاس میں پیش نہ کرنے پر احتجاج کیااور فوری طور پر پیش کرنے کا مطالبہ کیا ، حکومت نے آئندہ دونوں تک تمام آرڈیننس ایوان میں پیش کرنے کی یقین دہانی کرادی جس پر اپوزیشن نے احتجاج ختم کردیا۔ قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہا گز شتہ روز ایوان میں احتجاج ہوا، حکومت واضح کرے صدارتی آرڈیننس ایوان میں کب پیش کرے گی، یہ سارے ایوان کا مطالبہ اور آئینی ضر و رت ہے، مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو اور لاک ڈاﺅن کے حوالے سے تحریک پر بحث کے دور ا ن وزیرخارجہ کی حاضری یقینی بنائی جائے۔ و ز یرپارلیمانی امور اعظم سواتی نے یقین دہانی کرائی صدارتی آرڈیننس آئندہ دو تین دنوں میں پیش کر دیں گے۔ رضا ربانی نے کہا ریکوز یشن اجلاس میں آرڈیننس پیش کئے جا سکتے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا یہ آرڈیننس ریگولرسیشن میں پیش کئے جائیں گے، ریگولر سیشن جلد بلایا جائے گا۔

سینیٹ اجلاس

مزید : علاقائی