آئین میں رہ کر احتجاج مولانا کا حق، وزیراعظم سے استعفی نہیں مانگا جا سکتا: وفاقی وزرا

      آئین میں رہ کر احتجاج مولانا کا حق، وزیراعظم سے استعفی نہیں مانگا جا ...

  



اسلام آباد (آئی این پی)حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اسد عمر نے کہاہے کہ آئین میں رہ کر احتجاج کرنا مولانا کا حق ہے پہلے دن سے نقطہ نظر ہے احتجاج آئینی حق ہے بدھ کے روز پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما کا کہناتھا کہ مذاکرات کا نتیجہ اصول کی بنیاد پر بات کرنے پر نکلے گا اس میں کسی کی بھی ہار جیت نہیں ہوتی بلکہ جمہوری اقدار مضبوط ہو تی ہیں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ پہلے دن سے نقطہ نظر ہے احتجاج آئینی حق ہے آئین میں رہ کر احتجاج کرنا مولانا کا حق ہے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے رات کے خطاب نے مایوس کیا، حکومت میرٹ پر آئی ہے اس لئے وزیراعظم کے استعفی کا مطالبہ غیرمناسب ہے۔انتخابات میں خرابی ہے تو تحقیقات ہونی چاہیے، اس طرح کھڑے ہوکروزیر اعظم سے استعفی نہیں مانگا جا سکتا۔بدھ کواسلام آبادمیں میڈیا سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر کا کہناتھا کہ انتخابات کرانا اتنا آسان کام نہیں جتنا سمجھا جارہا ہے، پرویز الہی کا مذاکراتی کمیٹی کا حصہ اور چودھری شجاعت حسین کا ثالث بننا خوش آئند ہے۔ مدرسوں کے نصاب پر انتظامیہ نے ہمارے ساتھ معاہدہ کیا ہے، مدرسہ میں زیر تعلیم بچے اب بورڈ امتحان دیں گے۔یکساں نظام تعلیم پی ٹی آئی کی ترجیحات کا حصہ ہے، تعلیم کے شعبے میں اصلاحات لانے کی کوشش کررہے ہیں تاہم اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے۔وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ امید کرتے ہیں کہ عمران خان کی طرح مولانا فضل ا لرحمن بھی اپنے معصوم کارکنان کے ساتھ اسلام آباد کی سخت سرد موسم میں اپنے کارکنوں کے ساتھ کھلے میدان میں ہوں گے، فضل الرحمان کرپٹ مافیا کو بچانے کیلئے معصوم کارکنوں کا استعمال نہ کریں۔بدھ کو وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ قدرت بھی چاہتی ہے کہ کرپٹ مافیا کو بچانے کیلئے مولانا صاحب ان کا استعمال نہ کریں۔ 

وفاقی وزرا

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن خود فریبی سے نکلیں، عوام کو تنگ نہ کریں۔ آپ سازش میں ناکام ہو چکے ہیں،عام انتخابات میں مسترد ہونے والے جتھے کی صورت حقیقی عوامی مینڈیٹ کی توہین اور جمہوری نظام پر حملہ آور نہ ہوں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پیغام میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا کا منگل کی رات مارچ کے شرکاء سے خطاب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سے دلبرداشتہ رویئے اور مایوسیوں کا اظہار تھا۔ پہلے دن کہا تھا کہ یہ لوگ آپس میں مخلص نہیں تو قوم سے کیا وفا نبھائیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی تاریخی تقریر نے مولانا کے مذہبی کارڈ، بیانیہ کو پنکچر اور دھرنے کے مقاصد کو زمین بوس کر دیا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سیاسی تنہائی کے شکار مولانا فضل الرحمن ذاتی مفادات کی عینک اتار کر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ پاکستان تنہائی کا شکار نہیں،وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نئے پاکستان کا تشخص پوری دنیا میں ابھر کر سامنے آرہا ہے۔

فردوس عاشق اعوان

مزید : صفحہ اول