سوات موٹروے منصوبہ کو بروقت مکمل کیا جائے، ٹائم لائنز میں توسیع کی گنجائش نہیں، وزیراعلیٰ

سوات موٹروے منصوبہ کو بروقت مکمل کیا جائے، ٹائم لائنز میں توسیع کی گنجائش ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سوات موٹروے منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ اس سلسلے میں متفقہ ٹائم لائنز میں کسی توسیع کی گنجائش نہیں ہو گی۔ کام کی پیشرفت پر ماہانہ رپورٹ پیش کی جائے اور سرگرمی وائز تفصیلی ٹائم لائنز کا تعین بھی کیا جائے۔ یہ منصوبہ خطے میں تجارت اور سیاحت کے تیز تر فروغ خصوصاً بین الاقوامی سیاحت کیلئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے اُنہوں نے سی پیک سٹی نوشہرہ پر کام شروع کرنے کیلئے درکار اراضی پر دو ہفتوں کے اندر ایف ڈبلیو او کو قبضہ دینے، نوشہرہ میڈیکل کالج اور دریائے کابل پر پل کی تعمیر کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے درکار وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔اُنہوں نے آئل ریفائنری، سمینٹ پلانٹ اور پن بجلی کے منصوبوں پر تفصیلی پیشرفت طلب کرتے ہوئے 20 دن کے بعد دوبارہ اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ منصوبوں کے حوالے سے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔ اُنہوں نے کہاکہ صوبے میں جاری میگا منصوبوں کی تیز تر تکمیل ترجیح ہونی چاہیئے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں صوبے میں فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کے تعاون سے زیر تعمیر اہم منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی، وزیر مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب خان، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر خان، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن، پی ڈی اے، پی کے ایچ اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو سوات موٹرو ے کے فیز ون(رشکئی سے چکدرہ) تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیااور بتایا گیا کہ منصوبے پر تین شفٹوں میں کام شروع ہے۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کی بروقت تکمیل کیلئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا اور ٹریفک کے کنٹرول کیلئے درکار موٹر وے پولیس کی جلد فراہمی کیلئے اقدامات کی ہدایت کی۔ سی پیک سٹی نوشہرہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایف ڈبلیو او نے اپنی یونٹ جگہ پر تعینات کر دی ہے تاہم زمین پر مکمل قبضہ لینے کے بعد کام شروع کرے گی۔ چھو موضعوں میں سے چار پر قبضہ دے دیا گیا ہے جبکہ دو موضعوں پر ابھی تک قبضہ نہیں دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو پند ر دنوں کے اندر زمین کا مکمل قبضہ دینے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ نوشہرہ میڈیکل کالج پر بھی 80 فیصد جبکہ دریائے کابل پل پر 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔علاوہ ازیں پشاور میں ریگی ماڈل ٹاؤن سمیت دیگر سمال سکیل منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی تکمیل کیلئے درکار وسائل کی درخواست کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت کی۔ اُنہوں نے غلنئی مہمند غٹ روڈ کیلئے زمین کی خریداری جلد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے تمام منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور یقین دلایا کہ صوبائی حکومت بروقت تعاون فراہم کرے گی تاہم منصوبوں میں تاخیر کی گنجائش نہیں ہو گی۔ اُنہوں نے کہاکہ 20 دنوں کے بعد دوبارہ اجلاس ہو گا جس میں آئل ریفائنری، سمینٹ پلانٹ ہری پور، چترال میں پن بجلی کے منصوبوں اور ایبٹ آباد بائی پاس روڈ پر بھی تفصیلی بریفینگ دی جائے۔

مزید : صفحہ اول