وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا نام کس سکول ٹیچرنے رکھا اور بعد میں اس کے ساتھ کیا وعدہ کیا گیا جو پورا نہیں ہوا؟ حامد میر نے حیران کن انکشاف کر دیا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا نام کس سکول ٹیچرنے رکھا اور بعد میں اس کے ساتھ ...
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا نام کس سکول ٹیچرنے رکھا اور بعد میں اس کے ساتھ کیا وعدہ کیا گیا جو پورا نہیں ہوا؟ حامد میر نے حیران کن انکشاف کر دیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر نے ملکی سیاسی صورتحال پر ایک کالم شائع کیاہے جس میں انہوں نے اسلام آباد کی تاریخ کے بارے میں بھی روشنی ڈالتے ہوئے حیران کرنے والی چیزیں عوام کو بتا دی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق حامد میر کا اپنے کالم میں کہناتھا کہ تحریک پاکستان کے کارکن مولانا محمد اسماعیل ذبیح کی کتاب ”اسلام آباد... منزلِ مراد“ میں اس شہر کی اصل تاریخ محفوظ ہے جس کے مطابق حکومت برطانیہ کی طرف سے شائع کردہ ٹرانسفر آف پاور کی دسویں جلد میں یہ لکھا ہے کہ مسلم لیگ کی طرف سردار عبدالرب نشتر نے حکومت برطانیہ کو مئی 1947میں یہ بتا دیا تھا کہ پاکستان کا دارالحکومت راولپنڈی میں ہوگا۔

سینئر صحافی کا کہناتھا کہ کراچی کو پاکستان کا عارضی دارالحکومت بنایا گیا تھا، جب دارالحکومت کو راولپنڈی کے قریب منتقل کیا گیا تو اس کی اصل تاریخ چھپا لی گئی۔ دارالحکومت کا نام رکھنے کے لئے حکومت نے عوام سے تجاویز مانگیں۔مولانا اسماعیل ذبیح نے شہر کا نام جناح آباد تجویز کیا لیکن عارف والا کے ایک اسکول ٹیچر عبدالرحمان امرتسری نے دارالحکومت کا نام اسلام آباد تجویز کیا۔ا±ن کی تجویز قبول کر لی گئی اور حکومت پاکستان نے بطور انعام ا±نہیں اسلام آباد میں ایک پلاٹ دینے کا وعدہ کیا۔ یہ وعدہ پورا نہ ہوا اور وہ 1990ءمیں وفات پا گئے۔

ایوب خان نے اس شہر کی تاریخ چھپائی اور جب وہ یہاں آئے تو رسوا ہو کر حکومت سے نکلے۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ جو بھی اس شہر اقتدار میں حکمران بن کر آتا ہے ا±س کا مقدر رسوائیاں بنتی ہیں کیونکہ اس شہر میں ہونے والے اکثر فیصلوں سے عوام کے لئے خیر کی بجائے خرابی جنم لیتی ہے۔ اسلام کے نام پر بنائے گئے اس شہر میں ریاستِ مدینہ کا نام تو لیا جاتا ہے لیکن ریاستِ مدینہ والا کام نظر نہیں آتا۔

مزید : قومی