سزاپرعمل تک سزائے موت کے قیدی کے بھی حقوق ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ کے جیل قوانین کی پابندی،عدالتی حکم پر عملدرآمد سے متعلق درخواست پر ریمارکس

سزاپرعمل تک سزائے موت کے قیدی کے بھی حقوق ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ کے جیل ...
سزاپرعمل تک سزائے موت کے قیدی کے بھی حقوق ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ کے جیل قوانین کی پابندی،عدالتی حکم پر عملدرآمد سے متعلق درخواست پر ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے جیل قوانین کی پابندی اورعدالتی حکم پرعملدرآمدسے متعلق درخواست پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ سزاپرعمل تک سزائے موت کے قیدی کے بھی حقوق ہیں،قیدی کوجیل سزاکیلئے بھیجاجاتاہے،ٹارچرکےلئے نہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباہائیکورٹ میں جیل قوانین کی پابندی اورعدالتی حکم پرعملدرآمدسے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی،وزارت داخلہ نے رپورٹس جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا ،عدالت کی ایک ماہ میں رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کردی،جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ قیدیوں کی صحت کے حوالے ڈیٹاتیارکیا؟عدالت نے ہدایت کی کہ تمام آئی جیز سے رپورٹ منگواکرآئندہ سماعت پرجمع کرائیں۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سزاپرعمل تک سزائے موت کے قیدی کے بھی حقوق ہیں،شدیدبیمارقیدیوں سے متعلق حکومت کے پاس ازخودنوٹس کااختیارہے،عدالت نے نوازشریف کیس میں جیل رولزپرعملدرآمد کاحکم دیاتھا ۔

عدالت نے کہا کہ قیدی کوجیل سزاکیلئے بھیجاجاتاہے،ٹارچرکےلئے نہیں،بیماری قیدی جیل میں رہنے کے قابل نہیں توباہرسے علاج ضروری ہے،عدالت نے مزید کہا کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی بھی مسائل کی وجہ ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت 3 دسمبرتک ملتوی کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد