مولانا کا آزادی مارچ

مولانا کا آزادی مارچ
مولانا کا آزادی مارچ

  



مولانا کے آزادی مارچ کو اگر دنیا کا انوکھا ترین مارچ کہا جائے تو کم نہ ہوگا۔ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ بیت چکا لیکن عوام تو درکنار خود دھرنے والوں کو بھی نہیں پتہ کہ ان کے مطالبات کیا ہیں ؟ وہ چاہتے ہیں کیا ہیں؟ اور نشاناتِ منزل اتنے مدھم ہیں کہ ہر چیزدھندلی دکھائی دے رہی ہے۔صحافی ہو یا سیاستدان عام عوام ہوں یا اپوزیشن جماعتیں سبھی کنفیوژن کا شکار ہیں کہ آخر اس دھرنے کا مستقبل کیا ہوگا؟ ادھر مولانا فضل الرحمن ہیں کہ تمام کارڈز کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور کسی صورت بھی اپنے پتے شو کرنے کو تیار نہیں ہیں۔بظاہر تو سرِ فہرست مطالبہ وزیرِاعظم کے استعفے کا ہے لیکن پسِ پردہ مقاصد کچھ اور معلوم ہوتے ہیں۔کیونکہ مولانا جتنے زیرک اور مدبر سیاستدان ہیں انھیں بھی معلوم ہے کہ آج تک نہ کبھی کسی وزیراعظم نے دھرنے کے دباؤ کے نتیجے میں استعفی دیا اور نہ حکومتیں گری۔حتی کہ عمران خان کے ایک سو چھبیس دن کے طویل اور تاریخی دھرنے کو بھی ناکام و نا مراد لوٹنا پڑا۔۔ہاں مگر یہ بات ضرور ہے کہ ایسے احتجاج اور دھرنے حکومت کو بارگیننگ پوزیشن میں ضرور لے آتے ہیں گو کہ دھرنے کے باعث حکومت گرتی تو نہیں مگر ادھ موئی ضرور ہو جاتی ہے۔میری ناقص رائے کے مطابق اس دھرنے کی نقد وصولی مریم نواز اور نوازشریف کی ضمانت کی صورت میں ہو چکی ہے۔چاہے آپ میری بات سے اختلاف کریں مگر اس دھرنے اب تک کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ مولانا نے ہمارے ملکی اداروں کو ڈیفینسو پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کو میڈیا پر آ کر وضاحت دینا پڑی کہ فوج ایک مکمل غیر جانبدار ادارہ ہے اس کا سیاسی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا کے دھرنے کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا حکومتی مزاکراتی کمیٹی اور چودھری برادران اس معاملے میں کوئی کردار ادا کر سکیں گے؟ حکومت کس حد تک مولانا کے مطالبات ماننے کو تیار ہوگی؟ اس کا واضح جواب خود مولانا سمیت کسی کے بھی پاس نہیں ہے۔مولانا کے دھرنے کامستقبل جو بھی ہو لیکن یقین کریں مولانا میلا لوٹ چکے ہیں۔ان پیوند لگے اور گانٹھ لگے مگر پر عزم اور ثابت قدم دیوانوں نے اس دھرنے میں جو روایات قائم کی ہیں وہ لائقِ تحسین ہیں ۔مولانا کے کارکنان نے دنیا بھر کو یہ اس دھرنے کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا کہ مزہبی جماعتوں کے کارکنان سب سے منظم اور پر امن لوگ ہیں۔مولانا کے آزادی مارچ نے سکھر سے لے کر اسلام آباد تک ہزاروں کلو میٹر کا سفر طے کیا آفرین ہے ایک گملا ٹوٹنا تو درکنار بلکہ لاہور میں دھرنے کے عین وسط میں میٹرو ٹرین بھی فراٹے بھرتے رہی۔چشمِ فلک نے وہ منظر بھی دیکھا کہ ہزاروں کے مجمع میں کس طرح لوگوں نے ایمبولینس کو راستہ دے کر خوبصورت مثال قائم کی۔اس کے مقابل وہ جماعتیں اور لوگ جو خود کو پڑھے لکھے اور سیاسی شعور کے حامل گردانے جاتے ہیں کس طرح پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ آور ہوئے۔نہیں معلوم اس دھرنے کا مستقبل کیا ہوگا مگر مورل گراؤنڈ پر یہ دھرنا اپنی دھاک بٹھا چکا ہے ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...