وزیراعظم کے ٹیکس اکٹھا کرنے کے پروگرام کے خلاف ایف بی آر کے ملازمین ہی اُٹھ کھڑے ہوئے، ا نتہائی سنگین الزام لگادیا

وزیراعظم کے ٹیکس اکٹھا کرنے کے پروگرام کے خلاف ایف بی آر کے ملازمین ہی اُٹھ ...
وزیراعظم کے ٹیکس اکٹھا کرنے کے پروگرام کے خلاف ایف بی آر کے ملازمین ہی اُٹھ کھڑے ہوئے، ا نتہائی سنگین الزام لگادیا

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان ٹیکس اصلاحات پروگرام کے تحت موصولات کے نظام میں کڑی تبدیلیاں کر رہے ہیں اور شہریوں پر کئی طرح کے نئے ٹیکسوں کی بھرمار کی جا رہی ہے۔ پاکستانی تو اس صورتحال کے باعث مہنگائی کے طوفان سے تنگ تھے ہی، اب ایف بی آر کے ملازمین بھی اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ان اصلاحات کے حوالے سے حکومت پر سنگین الزام عائد کر دیا ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق ایف بی آر کے اعلیٰ عہدیداران کی تنظیم ’اِن لینڈ ریونیو سروس آفیسرز ایسوسی ایشن‘ (آئی آر ایس او اے)کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا ٹیکس مشینری ری سٹرکچرنگ کا پلان ناقص منصوبہ بندی سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں کئی خرابیاں موجود ہیں۔ تنظیم کی طرف سے یہ سنگین الزام بھی عائد کیا گیا ہے یہ پلان کچھ لوگوں کے ذاتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔

آئی آر ایس او اے نے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں ایک ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا اور اس اجلاد کے بعد تنظیم کی طرف سے انتہائی سخت الفاظ میں یہ پریس نوٹ جاری کیا گیا ہے جس میں وارننگ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس پلان کی منظوری سے جو عدم استحکام آیا ہے اس کے ٹیکس وصولی کے قومی اہداف تباہ ہو جائیں گے۔ ایف بی آر کے عہدیداران کا کہناتھا کہ ”ہحکومت کی طرف سے سٹریٹجک اصلاحات کا جو پلان تیار کیا گیا ہے اسے ٹیکس سسٹم کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد، تنظیمیں اور دنیا ایک نظر دیکھ کر ہی مسترد کر دیں گی۔ اس میں ایک خاص طبقے کے ذاتی مفادات کا خیال رکھا گیا ہے اور اس کی تیاری میں متعلقہ ریونیو سروسز سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔“ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 3اکتوبر کو ایف بی آر کی تنظیم نو کے پلان کی منظوری دی تھی، اس پلان کے تحت ایف بی آر کو بتدریج بدل کر ’پاکستان ریونیو اتھارٹی‘ میں تبدیل کیا جانا ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد