مولانا فضل الرحمن  مذہبی کارڈ استعمال کرنے سے پرہیز کریں،کریز سے باہر نکل کر ہر فل ٹاس پر چھکا نہیں لگتا:فردوس عاشق اعوان

 مولانا فضل الرحمن  مذہبی کارڈ استعمال کرنے سے پرہیز کریں،کریز سے باہر نکل ...
 مولانا فضل الرحمن  مذہبی کارڈ استعمال کرنے سے پرہیز کریں،کریز سے باہر نکل کر ہر فل ٹاس پر چھکا نہیں لگتا:فردوس عاشق اعوان

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ عوام نےتبدیلی سرکارکوگلےسڑے نظام کے لئے نہیں ، تبدیلی کیلئےووٹ دیا،مولانا فضل الرحمن  مذہبی کارڈ استعمال کرنے سے پرہیز کریں، مولانا کریس سے باہر نکل کر چھکے لگانے کی کوشش نہ کریں ہر فُل ٹاس پر  چھکا نہیں لگتا، پارلیمنٹ کا کام عوام کے حقوق کا تحفظ ہے،اپوزیشن جمہوری طریقےسےحکومت سےتعاون کرے اور پارلیمان میں بیٹھ کرمثبت کرداراداکرے،نظام کو بدلنے  کے لیےقانون کوبدلیں گے،اپوزیشن ماتم کرنے کی بجائے عوام کے حق میں قانون سازی کیلئے ہمارا ساتھ دے ، نظام کو بدلنے کے لئے قوانین میں ترمیم کریں گے ۔

نجی ٹی وی کے مطابق  اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ  مولانا کے کارکن میدان میں اور لیڈران بستر پر آرام کر رہے  میں،یہ کھلا تضاد  ہے،مولانا آپ کی سیاست انتشار اور دھرنے کی سیاست ہے،دھرنا سیرت النبی ﷺکانفرنس میں تبدیل ہوچکا ہے،عمل ظاہرکررہا ہے کہ یہ عوام کا مسئلہ نہیں بلکہ مفاد کا مسئلہ ہے۔انہوں نےکہاکہ عوام نےتبدیلی سرکارکوگلےسڑے نظام کےلئےنہیں،تبدیلی کیلئےووٹ دیا،ارکان قومی اسمبلی کو حلقوں کے لئےفنڈزکی فراہمی ایک احسن قدم ہے،حکومت معاشی محاذ  اور آئینی ادارے  عدالتی اور سیاسی ریفارمزپر کام کررہے ہیں،مولانا اداروں کو بااختیار بنانے کیلئے  تجاویز دیں،آج قانون کو بدلنے کا آغازہوگیا ہے،آج جو2اہم قانون سازیاں ہوئی ہیں،بےسہارالوگوں کواس کےتحت گھرملیں گے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھاکہ وزیراعظم پارلیمنٹ کوبااختیار،فعال اورکام کرتادیکھناچاہتےہیں،وزیراعظم چاہتےہیں،ایم این اےقانون سازی میں کلیدی کرداراداکریں،اپوزیشن عوام کے حق میں ہونیوالی قانون سازی میں ہمارا ساتھ دے ،نظام کو بدلنے کے لئے قوانین میں ترمیم کریں گے،حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے جو قدم اٹھایاہے،اس میں عام پاکستانی کو چھت فراہم کرنے کی طرف اہم پیش قدمی ہےجبکہ انگریز کے دور کا قانون بدلنے کیلئے وزیر اعظم عمران خان نےسٹیٹس کوکوچیلنج کرتے ہوئےایک مشکل تفویض کاراپنے ذمہ لی ہے،نظام کو بدلنے کے لئے قوانین میں ترمیم کریں گے،اپوزیشن سینہ کوبی کرنے کی بجائے ہوش کے ناخن لینے چاہئے اور عوامی مفاد میں ہونیوالی قانون سازی میں ساتھ دینا چاہئے،قوانین بدلنے سے عوام کے رویئے میں تبدیلی آئے گی ۔

انہوں نےکہاکہ اپوزیشن نےہٹ دھرمی کامظاہرہ کرتےہوئےسینیٹ میں پی ایم ڈی سی کابل روکا،پاکستان میں صحت کےشعبے میں پی ایم ڈی سی ہی ریگولیٹرہے،پی ایم ڈی سی بناتوصرف10میڈیکل کالجزتھے جبکہ  آج161میڈیکل کالج ہیں،ہیلتھ کوریگولیٹ کرنےوالاادارہ بااختیارنہیں ہوگاتوتبدیلی نہیں آئےگی،  ریفارمز  کےبعدڈاکٹروں کےرویوں میں تبدیلی ہی نہیں،مہارت بھی نظرآئےگی۔

مزید : قومی /اہم خبریں