گورنر پنجاب سے ایک ملاقات کا احوال

گورنر پنجاب سے ایک ملاقات کا احوال
گورنر پنجاب سے ایک ملاقات کا احوال

  

چودھری محمد سرور گورنر پنجاب سے میری ملاقات پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوئی۔میری ان سے یہ پہلی ملاقات نہیں تھی۔ چودھری محمد سرور بڑے ملنسار اور وضع دار انسان ہیں،خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہیں۔ چودھری محمد سرور بیرون ملک مقیم ان پاکستانیوں میں شامل ہیں، جنہوں نے دن رات محنت کر کے اپنا نام اور مقام بنایا،انہوں نے برطانیہ کی سیاست میں حصہ لینے کے بعد پاکستانی سیاست میں حصہ لیا۔چودھری محمد سرور پنجاب کی تاریخ میں پہلے گورنر ہیں،جو دوسری بار گورنر تعینات ہوئے ہیں۔ رقم الحروف بطور چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال میں بھی خدمات  سرانجام دے رہا ہے۔وفد میں میرے ہمراہ ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال بورڈ کے ایگزیکٹیو ممبر ڈاکٹر خالد رانجھا، ترجمان پنجاب حکومت ناصر سلمان اور کرنل ریٹائرڈ ارشد طاہر شامل تھے۔ہم جب گورنر ہاؤس پہنچے تو ہماری چائے، بسکٹ سے تواضع کی گئی۔حال احوال کے بعد باقاعدہ ہماری ملاقات کا آغاز ہوا۔ ترجمان پنجاب حکومت ناصر سلمان نے کہا کہ مَیں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کا وزٹ کر چکا ہوں۔ ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور شوکت ورک کی قیادت میں بہت اعلیٰ طبی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ اس کے تمام شعبہ جات اعلیٰ معیار کے ہیں۔ ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ٹرسٹ کے ڈاکٹر صاحبان نے کورونا وبا کے دوران بھی بڑی خدمات سرانجام دیں ہیں اور ہسپتال کی 500 بستروں پر مشتمل مین بلڈنگ کی تعمیر بھی بڑی تیزی سے جاری ہے۔گورنر صاحب سے کہا کہ آپ بھی ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ٹرسٹ کا فوری دورہ کریں۔

اس کے بعد مَیں نے کہا کہ ہم فروری 2015ء سے اب تک چھ لاکھ سے زائد غریب مریضوں کا علاج معالجہ کر چکے ہیں اور ہم نے مارچ 2020ء سے لے کر اب تک کورونا وبا کے خلاف جہاد کیا ہے۔ہمارے ڈاکٹر صاحبان، پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر سٹاف نے فرنٹ لائن ہیروز کا کردار ادا کیا ہے اور فرنٹ لائن سولجرز کے طور پر خدمات سرانجام دیتے ہوئے کئی ایک اس کا شکار بھی ہوئے اور ہمارا ایک قیمتی ساتھی اور  میرے بڑے بھائی بھی اس کورونا وبا سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے، لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری،اس کے باوجود کہ مَیں خود کرونا وبا کا شکا رہوا اور میرے ساتھ فلاحی خدمات سرانجام دیتے ہوئے میری بیوی عائشہ نذیر، جو  ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کی ٹرسٹی  بھی ہیں، کورونا وبا کا سامنا کر چکی ہے۔ مَیں نے گورنر پنجاب چودھری سرور کو بتایا کہ ہمارے  ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال  کے شعبہ او پی ڈی نے لاک ڈاؤن کے دنوں میں محکمہ صحت کی ایس او پیز کو مد نظر رکھتے ہوئے غریب مریضوں کا علاج کیا، خاص طور پر ڈائیلسز کے مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں دیں۔

ان دِنوں سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈی بند تھیں اور لوگ مختلف بیماریوں کا شکار تھے تو ہم نے اپنے موبائل ہیلتھ یونٹس کو گلی گلی، محلے محلے میں بھیجا اور ڈاکٹر صاحبان نے بلا خوف و خطر غریب مریضوں کا چیک اپ کیا اور ان کو مفت ادویات بھی دیں، اس کے ساتھ ساتھ ہم نے غریب لوگوں میں راشن بھی تقسیم کیا اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر لوگوں کو کورونا وبا سے متعلق آگاہی بھی دی اور شہر بھر میں بینر، ہورڈنگ اور پمفلٹ کے ذریعے سبھی لوگوں کو اس وبا سے بچنے کے متعلق بتایا۔سوشل میڈیا کے ذریعے بھی لوگوں کو آگاہ کیا۔ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے میری 20منٹ کی بریفنگ کو بڑی دلچسپی اور غور سے سنا اور کہا کہ آپ نے او ر آپ کے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے طبی عملے نے بڑی اہم ذمہ داری سرانجام دی ہے اور یہ سارا کام دیکھ کر مَیں آ پ کو سلام پیش کرتا ہوں کہ آپ نے اتنا بڑا کام سر انجام دیا ہے۔ہم جلد آپ کو، آپ کے ڈاکٹر صاحبان اور پیرامیڈیکل سٹاف کو گورنر ہاؤس بلا کر ایوارڈ اور تعریفی اسناد سے نوازیں گے۔

گورنر پنجاب کے ان االفاظ سے میرے اور میرے وفد کے اراکین کا حوصلہ مزید بلند ہوگیا۔ ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ آپ نے  ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے طبی عملے کی خدمات کو سراہا، ہمارے لئے یہ کسی ایوارڈ سے کم نہیں۔گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کی شدت کے دنوں میں ہم چین سے نہیں بیٹھے۔ جہاں ہم نے گھر بیٹھے غریب لوگوں میں راشن تقسیم کیا، وہاں پورے پنجاب میں ٹیلی میڈیکل سنٹر کھولے،جہاں تمام ڈاکٹر صاحبان نے بغیر کسی معاوضے کے طبی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے مخیر حضرات سے مل کر تقریباً 10ارب روپے کی چیریٹی کی ہے، یہ کریڈٹ مَیں نہیں لیتا،کیونکہ یہ کریڈٹ مَیں این جی اوز،بزنس مین کمیونٹی اور پاکستانی عوام کی مدد کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا تھا، ہم نے 10لاکھ راشن بیگ تقسیم کئے اور جن ہسپتالوں میں N-95 ماسک کٹس،سینی ٹائزر اور ادویات نہیں تھیں،وہاں یہ تقسیم کیں اور سرکاری ہسپتالوں کو وینٹی لیٹرز بھی لے کر دئیے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ کورونا وبا کے دِنوں میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کا کردار قابل ِ ستائش ہے اور ایسے منصوبے دوسروں کے لئے مثال ہیں۔گورنر پنجاب نے راقم الحروف کی خدمات کو  ناقابل ِ فراموش قراردیا ہے، جو میرے لئے ایک اعزاز ہے۔ ہم نے گورنر پنجاب کا شکریہ ادا کیا اورانہیں ڈاکٹراے کیو خان ہسپتال کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

مزید :

رائے -کالم -