سندھ میں جنگل کا قانون رائج ہے،اسد اللہ بھٹی

  سندھ میں جنگل کا قانون رائج ہے،اسد اللہ بھٹی

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)نائب امیر جماعت اسلامی وسابق ایم این اے اسداللہ بھٹو نے کہا ہے کہ دادو، قمبر اور اب ملیر میں حکومتی ایم پی اے کی دہشتگردی کا شکار ہونے والے نوجوان ناظم جوکھیو کے قتل سے محسوس ہوتا ہے کہ سندھ میں جنگل کا قانون رائج ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ لواحقین کے پاس جانے کی بجائے انہیں انصاف دلانے کے لیے اپنے ایم پی اے کے خلاف بھرپور کاروائی کریں۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملیر میں پیپلزپارٹی کے ایم پی اے سردار جام اویس بجار کی دہشتگردی کا شکار ہونے والے نوجوان ناظم جوکھیو کے بہیمانہ قتل پر ان کے بھائی افضل جوکھیو ودیگر لواحقین سے تعزیت کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ جے آئی یوتھ سندھ کے نائب صدر ڈاکٹر امتیاز پالاری، ضلعی امیر الطاف ملاح، مولانا عطاالرحمن بلوچ ودیگر بھی موجود تھے۔

اسداللہ بھٹو نے کہا کہ سندھ کے عوام نے شہدا کے نام پر پیپلزپارٹی کو ووٹ دے کر ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچایا، لیکن حکمران جماعت سندھ کے لوگوں کو بنیادی انسانی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکامی کے بعد اب ان کے جان، مال اور عزت وآبرو کا تحفظ کرنے بھی ناکام ثابت ہوچکی ہے۔ اْم رباب کے والد، بھائی اور چچا کے قتل کا مقدمہ، ایم پی اے سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو کیخلاف عدالتوں میں موجود ہیں۔ کچھ دن قبل قمبر میں پی پی ایم پی اے گھنور اسران کے والد اور پولیس موبائل کی موجودگی میں خاتون فہمیدہ سیال کو قتل کردیا گیا اور اب جام اویس بجار کے ڈیرے پر نوجوان کو بیدردی سے قتل کرکے سندھ کے عوام کو پیغام دیا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی کی نظروں میں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس موقع پر مرکزی امیر سراج الحق نے ناظم جوکھیو کے بھائی افضل جوکھیو سے ٹیلیفون پر تعزیت کی اور کہا کہ پیپلزپارٹی ایم پی اے کے تشدد سے نوجوان ناظم جوکھیو کی ہلاکت، سندھ کے حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ پی ٹی آئی کے گورنر اور پیپلزپارٹی کے وزیراعلیٰ مظلوم لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوچکے ہیں۔ اس بہیمانہ واقعے میں ملوث بااثر افراد کیخلاف اعلیٰ سطحی جے آئی ٹی بنائی جائے، جس میں رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران بھی شامل ہوں۔ سندھ پولیس کی جانبداری سے لواحقین کو انصاف ملنا مشکل ہے۔ جماعت اسلامی متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کیلئے سینیٹ، قومی اسمبلی میں بھی آواز اٹھائے گی۔ سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اس واقعہ کا نوٹس لے کر مظلوم خاندان کو انصاف دلانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -