مہنگائی کے خلاف ہنگامہ

مہنگائی کے خلاف ہنگامہ

  

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے اگلے ہی روز بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے،نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔نئے ٹیرف کا اطلاق یکم نومبر سے کر دیا گیا ہے،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت تمام کمپنیوں کے صارفین پر ہو گا۔نئے اضافے میں گھریلو صارفین پر کمرشل صارفین سے زیادہ بوجھ ڈالا گیا ہے۔دوسری جانب اشیائے خورو نوش کی ہفتہ وار قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔کم آمدن والے افراد کے لئے مہنگائی کی شرح16.43 پر پہنچ گئی ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں 20 کلو گرام آٹے کی زیادہ سے زیادہ قیمت1500، چینی فی کلو 140 روپے رہی۔ گائے کا گوشت750 روپے، چھوٹا گوشت 1400، انڈے190 روپے درجن گھی 357 روپے فی کلو رہا۔اسی طرح دالیں سبزیاں بھی مہنگی ہوئیں۔پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے بعد پورے ملک میں مہنگائی کا ایک نہ رکنے والا طوفان آ گیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے من مانے کرائے وصول کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ایک عام پاکستانی جس کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی، اب اس طوفان میں کاغذ کی ناؤ کی طرح ہچکولے کھا رہا ہے، اس نئی لہر کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ایوان بالا اور زیریں میں اپوزیشن کی جانب سے تازہ اضافوں کے خلاف شدید احتجاج  ہوا، جس میں پی ڈی ایم جماعتوں کے علاوہ پیپلزپارٹی اور حکومت کی اتحادی ایم کیو ایم نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ اپوزیشن ارکان نے شدید نعرہ بازی کی، سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے۔ہلڑ بازی اتنی بڑھی کہ سپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔پیپلزپارٹی،ایم کیو ایم،عوامی نیشنل پارٹی اور پی ڈی ایم نے پٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔حزبِ اختلاف کی رائے میں حکومت آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی، اور اب وہ صرف اس کے مفاد کے مطابق کام کر رہی ہے۔مسلم لیگ(ن) کے قائدین کا کہنا تھا کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے تباہ کن اثرات ہوں گے،قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ بیروز گاری، مہنگائی اور معاشی تباہی صرف تقریروں سے ختم نہیں ہو گی۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے اٹک میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے باعث مہنگائی بڑھی ہے۔پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں وہ عوام کو مہنگائی سے بچانے کی پوری کوشش کر ر ہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پانچ سال بعد فیصلہ ہو گا کہ ملک میں غربت کم ہوئی ہے یا نہیں۔ (مخالفین انتظار کریں اور انہیں اپنی مدت پوری کرنے دیں)

اس میں شک نہیں کہ اس وقت پوری دنیا کو مہنگائی کا سامنا ہے اور دنیا کی مضبوط ترین معیشتیں بھی  لڑکھڑا کے رہ گئی ہیں۔پاکستان تو  خیر عرصے سے معاشی بحران کا شکار رہا ہے۔رہی سہی کسر کورونا اور آئی ایم ایف کے دباؤ نے پوری کر دی ہے۔حکمران اپنے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ پاکستان میں اِس وقت بھی پوری دنیا کی نسبت مہنگائی کم ہے،لیکن معاشی ماہرین کی طرف سے جب پوچھا جاتا ہے کہ پوری دنیا میں فی کس آمدن کیا ہے، اور فی کس آمدن کا موازنہ پاکستان سے کیوں نہیں کیا جاتا تو ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔معاشی اعشاریے آپ جتنے بھی آگے پیچھے کر لیں،کسی بھی ملک میں مہنگائی اور خوشحالی کا اندازہ اس کے عوام کی آمدنی ہی سے کیا جا سکتا ہے، جتنی معاشی ابتری،اس وقت دیکھنے میں آ رہی ہے، اس کی نظیر شاید ماضی کے بدترین ادوار میں بھی نہیں ملتی۔جو بھی وجوہات ہوں عوامی مشکلات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ”بیڈ گورننس“ بھی ہے۔بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں انتظامیہ قطعاً بے بس نظر آتی ہے۔اگر وزیراعظم عمران خان کی بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ مافیاز ان پر دباؤ ڈالتے ہیں تو  پی ٹی آئی حکومت  ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔

مہنگائی ایک قومی مسئلہ ہے، چولہے پوری قوم کے ٹھنڈے ہو رہے ہیں، سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر عوام مشکلات کا شکار ہیں۔کمزور طبقہ کے لئے بہتر خوراک ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ وزیراعظم نے مہنگائی کے خلاف ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے،جو ان حالات میں اونٹ کے منہ میں زیرہ لگتا ہے۔ اس پر عمل کب ہو گا، کیسے ہو گا، کون کرے گا۔ بہت سے سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومتی وزراء ان حالات میں فقط الزامات کی ڈگڈی بجاتے نظر آتے ہیں،جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے مہنگائی، معاشی ابتری ایک قومی مسئلہ،بلکہ المیہ ہے۔اسے ایک قوم کے طور پر نمٹا اور  دیکھا جائے تو بہتر ہو گا۔مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بہت پہلے میثاق معیشت کی تجویز دی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتیں مل کر معاشی ترقی کے اہداف طے کریں،اور اتفاق رائے سے اس کی طرف پیش قدمی کے لیے تجاویز مرتب کریں لیکن ان کا مذاق اڑایا گیا، وزیراعظم اور ان کے حلقہ بگوشوں نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی۔وہ اس خواب میں ڈوبے رہے کہ ان کا ہر قدم خوشحالی کی طرف بڑھنے والا ہے اس لیے اپوزیشن کو اس میں حصہ دار کیوں بنائیں۔بعد کے واقعات نے ان کے اندازوں کو ہوا میں اڑا دیا،ہر آنے والا دن مشکلات لے کر طلوع ہوتا گیا۔خوشحالی کے وعدے اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔اب اپوزیشن کا دباؤ بڑھ رہا ہے، حکومت کے اتحادی بھی تذبذب میں مبتلا ہیں،وزیراعظم جو بھی کہیں،حالات بے قابو ہونے کا خدشہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ایک دوسرے سے دست وگریبان ہونے کے بجائے سب رہنماؤں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔ اس بڑے چیلنج کے مقابلے کے لئے ایک قومی لائحہ عمل بنانا ہو گا، سیاسی اختلافات کو پس ِ پشت ڈال کر ایک قوم کے طور پر طوفان کا سامنا کرنا ہو گا،لیکن  وزیراعظم اپوزیشن سے بات کرنا تو درکنار ہاتھ ملانے کے روادار نہیں۔ان کا فلسفہ انہیں اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے، ڈائیلاگ کرنے اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر مہنگائی اور  بین الاقوامی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک نیشنل ایکشن پلان بنانے سے روکتا ہے۔ اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لئے جائیں، وقت کی نزاکت کو سمجھا جائے، عوام میں اشتعال بڑھ رہا ہے۔ کہیں یہ اشتعال کسی سانحہ کو جنم نہ دے دے۔ حکمران اپنی انا کے خول سے باہر نکل کر اس سیلاب کے سامنے بیانات کے بجائے عملی طور پر بند باندھیں۔ حالات جتنے بھی مشکل ہوں، اگر ایک قوم کے طور پر ان کا مقابلہ کیا جائے تو ان کا رخ بدلا جا سکتا ہے۔سڑکوں پر ہنگامہ اٹھانے سے مہنگائی کم ہونے کے بجائے اور بڑھے گی کہ سیاسی عدم استحکام معیشت کو بہتر نہیں ابتر بناتا ہے۔افراتفری اور دھینگا مشتی سے نہ کوئی مسئلہ پہلے حل ہوا ہے، نہ آئندہ حل ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -