کرپشن کی رام کہانی، نگرانی والے مال بنانے لگے

 کرپشن کی رام کہانی، نگرانی والے مال بنانے لگے
 کرپشن کی رام کہانی، نگرانی والے مال بنانے لگے

  

برسر اقتدار جماعت تحریک انصاف کے منشور والے سب نکات ایک جگہ اور کرپشن کے خلاف بیانیہ دوسری طرف، خود وزیراعظم عمران خان جب سے برسراقتدار آئے ہیں، کرپشن کے خاتمے ہی کے لئے زور لگا رہے ہین، دنیا کا کوئی موضوع اور کیسی ہی محفل ہو، کپتان کی تان کرپشن پر ٹوٹتی ہے، میں کسی کی حمائت یا مخالفت نہیں کرتا لیکن حالات سے بھی منہ نہیں موڑا جا سکتا، عمران خان کو وزارت عظمیٰ سنبھالے تین سال سے زیادہ ہو گئے، ابھی تک یہ سلسلہ نہ تو رک سکا اور نہ ہی بقول خود لوٹی گئی رقوم واپس آئیں۔اب تو انہوں نے اپنے حالیہ خطاب میں دو اہم باتیں کہہ دی ہیں، وہ کہتے ہیں، دو خاندان جو دولت لوٹ کر بیرون ملک رکھے ہوئے ہیں، وہ آدھی آدھی بھی واپس لا دیں تو میں مہنگائی آدھی کر دوں گا،اس کے ساتھ ہی وہ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں۔ شہباز شریف ہاتھ ملاؤ، ان کے ساتھ ہاتھ ملانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی کرپشن کو تسلیم کر لیا جائے۔ محترم وزیراعظم اگر یہ مسلسل کہہ رہے ہیں تو ان کی کابینہ کے افراد کچھ اور آگے بڑھ جاتے ہیں اور دفاع میں ایسا ایسا کچھ کہتے ہیں کہ قہقہہ ضبط کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وزیراطلاعات فواد چودھری نے چینی کی بڑھتی قیمتوں کا ذکر کیا اور کہا شوگر ملیں زرداری اور شریف خاندان کی ہیں، یہ سستی کریں، فواد چودھری صاحب بھی آدھا گلاس خالی اور آدھا بھرا ہوا کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں، انہوں نے زرداری اور شریف خاندان کی شوگر ملوں کا ذکر تو کیا، مگر جہانگیر ترین اپنے وزیر بھائی کے ساتھ ساتھ ذوالفقار مرزا کی ملوں کو بھول گئے۔ یہ حضرات تو ان کی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، چیئرمین تحریک انصاف ان کو کہیں کہ قیمت کم کر دیں، ایسا ہو جائے تو مارکیٹ اصول کے مطابق از خود قیمتیں کم ہو جائیں گی، صرف دوسروں کی بات کر دینے سے افاقہ نہیں ہو گا، خود اپنی بھی چارپائی کے نیچے لاٹھی پھیر لینا چاہیے۔ فواد چودھری کی بات کو جائز اور درست قرار دے کر سوچا جائے تو بقول عمران خان ”مافیاز“ طاقتور ہونے اور ان کے لئے حزب اقتدار اور حزب اختلاف معنی نہیں رکھتیں، ان کو تو اپنے منافع سے غرض ہے، وہ جیسے بھی آئے۔

بات کرپشن سے شروع کی تو کرپشن کی رام کہانی بھی بتا دیتا ہوں، اوپر کی سطح کا ذکر تو حزب اقتدار اور حزب اختلاف والے مسلسل کرتے رہتے ہین، لیکن جو کرپشن براہ راست عوام کو متاثر اور پریشان کر رہی ہے، اس کا کوئی ذکر اور کوئی حل ہی نہیں ہے۔ عوام کو روزانہ کرپشن کے نت نئے ہتھکنڈوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ضلع کچہری اور دیگر سرکاری محکموں والا کام بھی پہیوں کے بغیر نہیں چلتا، جب تک سائل (شہری) عملے کی مٹھی گرم نہ کرے، بات آگے ہی نہیں بڑھتی اور اگر کہیں کسی سرکاری دفتر کا نظام خودکار بھی بنا دیا جائے تو درمیانی ایجنٹ از خود پیدا ہو جاتے ہیں اگر کسی نے یہ سب جاننا ہے تو موٹروہیکلز کی رجسٹریشن کے دفتر، نادرا سے شناختی کارڈ بنوانے اور پاسپورٹ آفس سے ارجنٹ فیس لگا کر بروقت پاسپورٹ کے حصول کی کوشش کر دیکھے، چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

آج ہم تازہ ترین کرپشن کی بات کرتے ہیں، وزیراعظم کا حکم ہے اور تمام کمشنر اور ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منافع خوری اور مہنگائی کے خلاف ”جہاد“ کریں، جی! محترم یہ سب ہو رہا ہے اور یہ شعبے یا محکمے جو ذمہ دار ہیں وہ سرگرم بھی ہیں، اشیاء ضرورت کے سرکاری نرخوں کی پاسداری کے لئے مجسٹریت مقرر کر دیئے گئے ہیں اور وہ اپنے عملے کے ساتھ مارکیٹ کمیٹی کے نرخوں کے مطابق پرچون فروشوں پر نظر رکھتے اور یہ دیکھتے ہیں کہ سرکاری نرخوں کے مطابق ہی اشیاء بک رہی ہیں یا زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہے، مجسٹریٹ علاقائی ہیں لیکن شہر کے کسی حصے میں کوئی شے سرکاری نرخوں کے مطابق نہیں ملتی، ایک بڑی وجہ تو نرخوں کا تعین ہے۔ پرچون نرخ تھوک مارکیٹ کے تناسب مقرر نہیں کئے جاتے اس کی بڑی مثال بکرے اور گائے کے گوشت کی ہے، سرکاری نرخ بالترتیب 950روپے اور ساڑھے تین سو روپے فی کلو ہیں، مارکیٹ میں یہ نرخ کہیں زیادہ ہیں، ایسا ہی دوسری اشیاء کے نرخوں کا بھی حال ہے کہ سرکاری نرخ غیر حقیقی ہوتے ہیں، اصل کام یہ ہے کہ تھوک مارکیٹوں کی پڑتال ہو اور جو نرخ وہاں مقرر ہوں اس کے مطابق پرچون نرخوں کا تعین کرکے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، لیکن یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں۔ صرف کرپشن کا ایک اور نیا باب کھل گیا ہے۔ مجسٹریٹ (مہنگائی والا) کے ساتھ ایک دو بندے تو سرکاری ہوتے ہیں، لیکن ان بندوں نے از خود کچھ لوگ ساتھ رکھے ہیں کہ بھتہ خوری ہو سکے، یہ لوگ پرچون فروشوں کے پاس جاتے اور ان سے ماہانہ مانگتے ہیں جو کم از کم پانچ ہزار روپے ماہوار ہے اور جو نہ دے اس کے چالان بھی ہوتے، جرمانے کئے جاتے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کراکے گرفتار بھی کرا دیا جاتا ہے، ابھی گزشتہ روز ہی کی بات ہے، ایسا ہی ایک اہل کار مصطفےٰ ٹاؤن کے ایک سبزی فروش کی دکان پر گیا، اس نے سرکاری ریٹ لسٹ لگا رکھی تھی متعلقہ اہل کار نے پیاز کے نرخ پوچھے۔ دکاندار نے چالیس روپے فی کلو بتائے اور یہی اندراج ریٹ لسٹ میں تھا، اس کے بعد اس اہل کار نے یہ عذر کیا کہ پیاز کی کوالٹی خراب اور وزن میں کم (چھوٹا ہے) ہے۔ دکان دار نے اصرار کیا کہ وہ ریٹ لسٹ کے مطابق اشیاء فروخت کرتا ہے۔ اس سے جب بھتہ طلب کیا گیا تو وہ سٹپٹا اٹھا اور کہنے لگا، میں اشیاء صحیح نرخوں پر بیچتا ہوں تو بھتہ کیوں دوں، اس کے بعد جو ہوا وہ پولیس سٹیشن مصطفےٰ ٹاؤن سے دریافت کیا جا سکتا ہے کہ مجسٹریٹ محترم کے ہرکار سے دکان دار کو تھانے لے گئے تھے، یہ سلسلہ یہیں نہیں ہے، بلکہ ایک قصاب (بکرے کا گوشت فروخت کرنے والا) تو دو تین جگہ سے اپنا کاروبار اٹھانے پر مجبور ہوا کہ یہ ہر کارے اس سے دو کلو گوشت روزانہ اور پانچ ہزار روپے ماہانہ چاہتے تھے۔وہ اتنا دے نہیں سکتا تھا کہ دو کلو روز کے گوشت کی قیمت2800روپے بنتی ہے۔ پانچ ہزار روپے ماہوار اور گوشت 30دن کا گوشت 78400روپے کا بنتا ہے۔ میری اس بات پر یقین نہ ہو اور ترجمان صاحبان تردید کرنا چاہیں تو میری عرض ہو گی کہ برسراقتدار جماعت کے یوتھ پروگرام والے یا ٹائیگر فورس کے چنیدہ چنیدہ نوجوانوں سے تحقیق کرا لیں تو سب روشن ہو جائے گا اور حکومت کے سربراہ محترم وزیراعظم عمران خان بھی جان جائیں گے۔

میں نے جو دیکھا اور تحقیق کی وہ لکھ دیا ہے۔ یہ عمومی بات ہے، یہاں تو بھتہ لے کر دوائی کی جگہ زہر اور مشروبات کی جگہ گندہ پانی بیچنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ فوڈ اتھارٹی نے بہت شہرت کمائی، کیا لاہور کے سبھی دکان دار نرخ کے مطابق گاہکوں کو معیاری دودھ مہیا کر رہے ہیں؟ اور کیا یہ کرپشن نہیں کہ یوٹیلٹی سروسز کے بل تاریخ گزر جانے کے بعد پھینکے جائیں اور لوگ جرمانہ ادا کرنے پر مجبور ہوں، یہ تھوڑا لکھا ہے بہت جانیں اور کرپشن دور کریں۔

مزید :

رائے -کالم -