راجن پور، خاتون کو تین لاکھ میں فروخت کرنیکا انکشاف

راجن پور، خاتون کو تین لاکھ میں فروخت کرنیکا انکشاف

  

راجن پور (ڈسٹرکٹ رپورٹر،تحصیل رپوٹر) حکومت کی طرف سے خواتین کے تحفظ کے لیے بنائے جانے والے قانون پر عمل درامد نہ ہونے سے متاثرین دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر(بقیہ نمبر5صفحہ6پر)

 مجبور ہوگئے۔ جنوبی پنجاب میں خواتین کی خرید وفروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ بستی میرن کی رہاشی خاتون کو خاوند اور سسر نے مل کرکے تین لاکھ میں فروخت کر دیا۔ بازار سے سودے لانے کے بہانے گاہک کے حوالہ۔ خاتون جانے سے انکار۔ تشدداور ڈنڈوں سے خواتین کو زخمی کر دیا۔ پولیس نے کوئی نہ سنی۔ تفصیل کے مطابق حکومت نے خواتین کے لیے قوانین بنائے اور پارلمنٹ سے بھی منظوری کی لیکن عمل درامد نہ ہونے سے جنوبی پنجاب کے اضلاع۔ رحیم یار خان۔ مظفرگڑھ۔ ڈیرہ۔ ٹرائیبل ایریا۔ راجن پور۔ جام پور۔ داجل اور گردنواح کے علاقوں میں عورتوں کی خرید وفرخت۔ کالی کالا۔ ونی۔ چٹی ودیگرقبیح رسمیں جاری ہیں۔ جام پور کے نواحی علاقہ بستی میرن میں فرزانہ بی بی زوجہ محمد ناصر ذات بوئڑ سکنہ بستی میرن نے ائی جی پنجاب کے نام درخواست میں الزام عائد کرتے ہوئے کہ چارسال قبل شادی ہوئی اور میرا ایک گیارہ ماہ کا بیٹا ہے۔ خاوند اور سسر محمد بخش بازار میں خریداری کے بہانے جام پور لے ائے اور جام پور بائی پاس کے قریئب خریداروں کے حوالہ کر دیا۔ تین لاکھ روپے کی رقم وصول کرنے کے بعد مجھے خریداروں کے پاس جانے   پر اصرار کرتے ہوئے تشدد کیا۔ موقع پر پولیس پکار پرکال کی۔ تھانے ائی تو موجود اے ایس ائی عبدالحمید ہانبھی نے میری کاروائی نہ کی۔تین گھنٹے تک پولیس ایک دوسرے کو کاروائی کرنے کا کہتے رہے اخری اطلاعات کے مطابق پولیس نے ار۔ پی او کے حکم پر متاثرہ خاتون کو بچہ برامد کرالیا ہے۔۔  متاثرہ خاتون   ضلع تحفظ کے دفتر میڈیم کائنات کے پاس پہنچ گئی۔  متاثرہ خاتون نے ائی جی پنجاب۔ ڈی ائی جی پنجاب سے فوری طور پر انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف پولیس نے تاحال کوئی مقدمہ درج نہ کیا ہے۔ 

کارروائی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -