صحافت کا چوہدری 

صحافت کا چوہدری 
صحافت کا چوہدری 

  

 قدرت اللہ چوہدری نایاب ہی نہیں نواب آدمی تھے ان کی شخصیت میں ایک پراسرار قسم کی مہک تھی ایک خوشبو ان کے ارد گرد پھیلی رہتی جس سے ماحول معطر رہتا ان کے کمرے میں ایک محفل جمی رہتی ادب وصحافت کے ستارے اپنے اپنے وقت پر اپنی چمک دکھانے کیلئے چمکتے رہتے مولوی سعید اظہر مرحوم، ناصر زیدی مرحوم سعید چوہدری، خادم حسین چوہدری اور مصطفی کمال پاشا اس محفل کے مستقل ستارے تھے استاد محترم قدرت اللہ چوہدری کو میں نے بہت قریب سے دیکھا اور مجھے ہمیشہ ایسا محسوس ہوا کہ یہ اس زمانے کا آدمی نہیں ہے یہ کسی اور زمانے کا آدمی ہے جو ہمارے زمانے میں نکل آیا ہے مگر بہادر آدمی ہے زمانے کے ساتھ پوری دلیری کے ساتھ لڑ رہا ہے اپنے موقف کے ساتھ جڑ کے کھڑا ہے اور زمانے کی ہر مخالف ہوا. کے سامنے سینہ تان کے کھڑا ہے ایک عرصے سے شوگر کے مریض تھے مگر ایک لمحے کو بھی خود کو بیمار ظاہر کرنے کیلئے تیار نہیں تھے سال پہلے شوگر نے اپنا کام دکھایا تو حالت بگڑ گئی مگر کچھ عرصے بعد سنبھل گئے اورپھر سے آفس میں رونق لگ گئی میرا ان سے تعارف پشاور کے ایک اخبار کے ذریعے ہوا اور پھر یہ تعارف یا تعلق ان کے مرنے تک رہا جب وہ روزنامہ پاکستان لاہور میں گروپ ایڈیٹر کے طور آئے تو پھر روزانہ ملاقاتیں ہونے لگیں لکھنا تو مجھے نہیں آیا مگر ان کی تربیت بہت کام آئی اور انہوں مجھے الفاظ کی حرمت اور سوچ کی بلندی کی حقیقت سے آگاہ کیا نظریاتی طور پر مسلم لیگی تھے مگر بطورایڈیٹر وہ سب کے تھے ایڈیٹوریل ان کے سپرد تھا مگر انہوں نے اپنے اختیارات کو انتہائی سلیقے سے نبھایا کسی کو اپنی سوچ کے طابع لانے کی کبھی کوشش نہیں کی جس نے جو لکھا اخبار کی پالیسی کے مطابق چھاپنے سے گریز نہیں کیا پیپلز پارٹی کو پسند نہیں کرتے تھے مگر بے نظیر بھٹو جب جنرل مشرف کے دور میں واپس آئیں تو میں نے پوچھا بے نظیر بھٹو کے آنے سے کیا تبدیلی آئے گی میرا سوال سنا اور افسردہ لہجے میں کہا بے نظیر بھٹو کو واپس نہیں آنا چاہیے تھا مجھے دال میں کالانظر آتا ہے پسند نا پسند اپنی جگہ مگر بے نظیر بھٹو ایک مقبول عوامی جماعت کی رہنما ہیں ان کا منظر میں موجود رہنا پاکستان کے لیے بہت ضروری ہے ان کی زندگی کے حوالے سے مجھے خدشات ہیں اور پھر چند ماہ بعد بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا قدرت اللہ چوہدری انتہائی کرب کی حالت میں اپنے آفس کی میز پر جھکے ہوے تھے وہ جب کسی گہری سوچ میں کچھ لکھ رہے ہوتے تو میں سلام کر کے خاموشی سے بیٹھ جاتا تقریبا پندرہ منٹ بعد انہوں کاغذ اٹھایا اور مجھے کہا چاندنی نے مٹی کی چادر اوڑھ لی بے نظیر بھٹو کیلئے یہ سرخی کیسی ہے میں نے زبردست کہا تو ان کے چہرے پر ایک اداسی سی پھیل گئی اور مجھے ان کی پیشین گوئی یاد آگئی میں نے پہلی بار انہیں بے چین دیکھا......صحافتی دنیا کے واقعات سناتے ہوئے وہ ایک داستان گو بن جاتے ایسے ایسے قصے سناتے کہ آدمی ماضی کے صحافیوں کے کردارپر تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوجاتا چونکہ صحافیوں کے حقوق کیلئے خود بھی ایک رہنما کردار ادا کر چکے تھے اب بھی وہ عام صحافیوں کیلئے کڑھتے رہتے تھے اکثر شخصیات کے ساتھ جب مکالمہ شروع ہوتا توان کی گفتگو علمی تاریخی حوالوں سے آگے بڑھتی شعر وادب سے ان کی خصوصی دلچسپی تھی احمد فراز کے ساتھ ان کی بہت گہری دوستی تھی ناصر زیدی مرحوم کے ساتھ بھی یارانہ تھا دونوں کے مزاج میں بہت فرق تھا مگر دوستی بہت گہری تھی کبھی کبھی دونوں کے درمیان نوک جھونک ہو جاتی تو محفل کا رنگ مزید نکھر جاتا....ان کے اندر عشق رسولؐ کا چراغ جلتا رہتا جسے انہوں نے کبھی کسی پر ظاہر نہ کیا میں جب ان سے اسلام قرآن اور رسولؐ پاک کی شخصیت کے حوالے سے کچھ پوچھتا تو جناب رسولؐ اللہ کانام لیتے ہوئے ان کے جسم میں ایک جھری جھری سی محسوس ہوتی زبان ادب سے تھم سی جاتی ان کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگتی اورکرب و مستی کی عجیب کیفیت میں ان کی گفتگو جاری رہتی ایک دن میں نے سوال کیا آپ عمرے پہ گئے کوئی ایسا واقعہ جس نے آپ کو حیران کر دیا ہوکہنے لگے عمرے کے آخری دن میرے پاس پیسے نہ ہونے کے برابر تھے ماہ رمضان کا مہینہ تھا سحری کے وقت دل چاہا کہآج لسی سے روزہ رکھا جائے مگرجیب میں پیسے بہت کم تھے اسی خیال میں باہر نکلا تو اچانک ایک شخص نے بھاگتے ہوئے گلے لگا لیا جو ایک پرانا دوست تھا پہلے تو ناراض ہوا کہ آپ نے مجھے بتایا ہی نہیں پھر اصرار کر کے سحری کیلئے دکان پر لے گیا میری پسند پوچھی تو میں نے کہا جو آپ کو پسند ہو مگر مجھے حیرت ہوئی کہ اس نے سب سے پہلے لسی کا آرڈر دیا اور کہا میں آج بطور خاص سحری میں لسی کیلئے یہاں آیا ہوں آپ کے ساتھ نے سحری کو مزید بابرکت بنا دیا ہے اور پھر مزید واقعہ سناتے ہوئے بتایا مدینہ منورہ میں ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ریاض الجنہ میں دونفل ادا کرے میں جب وہاں گیا تو بہت رش تھا کھڑے کھڑے میری ٹانگیں جواب دے گئیں تو میں نے دل ہی دل میں سوچا مزید کچھ وقت انتظار کرتا ہوں اگر موقع مل گیا تو ٹھیک ورنہ جو خدا کو منظور مجھ سے مزید کھڑے رہنا ممکن نہیں کہنے لگے اسی سوچ میں کھڑے مجھے ایسا لگا جیسے کوئی کہہ رہا ہے اس شخص کا راستہ کیوں روک رکھا ہے اسے آنے دو پیچھے پیچھے ہٹ جاؤ یہ آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی میں کیا دیکھتا ہوں جگہ خالی ہوچکی ہے میں آہستہ آہستہ آگے بڑھا پورے اطمینان کے ساتھ دونفل ادا کئے میں کبھی نماز کی جگہ کبھی روضہ رسولؐ کی طرف دیکھتا اور حیران ہوا کہ مجھ سیاہ بخت کیلئے ایسا اہتمام اللہ تعالی جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین قدرت اللہ چوہدری صاحب کے حوالے سے مزید بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے مگر کالم کا دامن تنگ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -