حکومت سبسڈی نہیں استعفیٰ دے

حکومت سبسڈی نہیں استعفیٰ دے
حکومت سبسڈی نہیں استعفیٰ دے

  

عمران خان کی وہی باتیں جو کبھی لوگوں کو لبھاتی تھیں اور وہ جوق در جوق ان کے انتخابی جلسوں کی رونق بڑھانے کے لئے پہنچ جاتے تھے، اب ان کے دل دکھانے لگی ہیں، کیونکہ خان صاحب نے جو کچھ کہا تھا، وہ کچھ کرکے دکھانہیں پا رہے ہیں۔ ان کے قول و فعل کے تضاد نے ان کی عوامی مقبولیت کو گہنا دیا ہے اور ہر جگہ پر ان پر تنقید کی ڈونگرے برسائے جانے لگے ہیں جبکہ ان کے حامی دیواروں میں منہ چھپائے پھرتے ہیں۔

یہ عجیب سی بات ہے کہ جب سے ڈونلڈ ٹرمپ رخصت ہوئے ہیں،خان صاحب کی مقبولیت بھی ہوا ہونے لگی ہے۔ تب تو محمد بن سلمان بھی ان پر واری صدقے جارہے تھے اور خود خان صاحب کو سعودی عرب جا کر وہ کچھ مانگنا پڑا ہے،جو اس سے قبل آئی ایم ایف سے لینے کی سعی ہو رہی تھی۔ باتیں تو یہ بھی ہو رہی ہیں کہ امریکہ بہادر کے کہنے پر ہی سعودی عرب نے یہ مہربانی کی ہے۔جب سے جو بائیڈن امریکہ کے صدر بنے ہیں تب سے صورت حال ہی بدلی بدلی نظر آنے لگی ہے اورمسلم لیگ(ن)کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے تو ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کے بعد ہی بیان داغ دیا تھا کہ اب دنیا میں ہر جگہ سے ٹرمپ جیسے لوگ اقتدار سے رخصت ہوں گے۔شائد اسی لئے ہمارے ہاں بھی اگلے سال کو انتخابی سال قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب سے امریکہ میں بائیڈ ن انتظامیہ آئی ہے، پی ٹی آئی کی بے توقیری میں اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی آنکھیں دکھانا شروع کردی ہیں اور فیٹف نے بھی بلیک لسٹ سے نکالنے کے لئے نئی شرائط رکھ دی ہیں۔ 

یہی نہیں،بلکہ پاکستانی میڈیا پر بھی اب پی ٹی آئی کی اتنے شدومد سے وکالت نہیں کی جاتی جو ہمارے ہاں اکثر ٹاک شوز کا خاصہ بن چکا تھا۔ یہی حال اس ایک پیج کا ہے، جس کا دعویٰ جناب فواد چودھری اور شیخ رشید دن رات کیا کرتے تھے۔ لگتا ہے کہ وہ ایک پیج بھی ہوا کے تھپیڑے کھا کھا کر پھٹ چکا ہے یا پھٹنے کے قریب ہے۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کے اقتدار میں تین سال مکمل ہونے تک عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسلم لیگ(ن) بھی ڈٹ کر اپنے خلاف ہونے والے پراپیگنڈے کا جواب دیتے ہیں تو عوام اس جواب کو سنتے ہیں۔ اسی طرح شہباز شریف کی نواز شریف سے بے وفائی کا خواب دیکھنے والے بھی بے خوابی کا شکار ہو چکے ہیں۔اس محاذ پر بھی شیخ رشید اور فواد چودھری بہت سرگرم رہے تھے، مگر بھرپور پراپیگنڈے کے باوجود نون سے شین نکلی نہ میم، الٹا پی ٹی آئی کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ باقی کی رہی سہی کسر اب شیخ رشید اور فواد چودھری مل کر پوری کریں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ لوگ پی ٹی آئی قیادت کی خالی باتوں سے تنگ آچکے ہیں، حتیٰ کہ اب تو سرکاری دفاتر میں بھی لوگ کھل کر باتیں بناتے پائے جاتے ہیں اور حکومت کی عوام دشمن پالیسی پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ لوگ خان صاحب کی باتوں اور دعووں سے تنگ آچکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت یا تو ڈیلیور کرے یا پھر جگہ خالی کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی حالت اس گرتی ہوئی دیوار کی مانند ہے جسے ایک دھکا کافی ہے، کیونکہ عوام میں حکومت کی حمائت کم ہوگئی ہے،جبکہ پٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے کے اضافے سے حکومت کا ریلیف پیکیج بھی برابر ہو گیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اس اضافے سے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی لاگت اس قدر اوپر چلی جائے گی کہ ریلیف کی مد میں ملنے والے ہزار روپے کی ویلیو ایک سو کے برابر ہو جائے گی۔ وہ دن دور نہیں جب عوام وزیرا عظم سے سبسڈی نہیں استعفیٰ مانگیں گے۔

حیرت تو اس بات کی ہے کہ اگر حکومت کو اس بات کا علم ہے کہ کورونا کی وجہ سے عالمی سطح پر مہنگائی ہوئی ہے تواس مہنگائی کو روکنے کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا۔ریلیف پیکیج کو اس قدر تاخیر سے کیوں اناؤنس کیا گیا اور اب اس پر عملدرآمد پر ایک اور مہینہ کیوں لگے گا؟ اس سے بھی بڑھ کر ستم ظریفی یہ ہے کہ معاشرے کے جن طبقات کے لئے اس کا اعلان کیا گیا ہے وہ موبائل فون تو استعمال کرتے ہیں، مگر اس سے بڑھ کرٹیکنالوجی کے استعمال میں وہ نابلد ہیں اور احساس پروگرام کے تحت ملنے والی رقوم کی طرح اس ریلیف پیکیج کے تحت ملنے والی رقوم کے ساتھ بھی ویسے ہی غبن ہوں گے جیسے پہلے ہوئے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ دیسی لوگوں پرولائتی لوگ حکومت کر رہے ہیں،جو یقینی طور پر سوچتے ہوں گے کہ اگر روٹی مہنگی ہے تو لوگ ڈبل روٹی کیوں نہیں کھاتے۔ 

آج اگرپی ٹی آئی کی فلم کوپیچھے گھما کردیکھا جائے تومعلوم ہوگاکہ کس کس طرح عوام کو بے وقوف بنایا گیا تھا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عمران خان نے بطور اپوزیشن لیڈ ر جو جو کچھ کیا تھا، آج قدرت وہی کچھ انہیں دکھا رہی ہے،جبکہ مسلم لیگ (ن) کا اس میں ذرہ برابر بھی ہاتھ نہیں ہے۔ گویا کہ قدرت اس بات کی محتاج نہیں ہے کہ مخالف فریق سے ہی حکومت کی درگت بنوائے،بلکہ وہ کہ جن پر جناب عمران خان اور شیخ رشید کل جان چھڑکتے تھے اور جنھیں جلادو، گرادو کاسبق پڑھاتے تھے، وہی آج تن کر ان کے سامنے کھڑے ہیں اور ان سے کوئی بات نہیں بن پارہی ہے۔ یہ مکافات عمل نہیں تو اورکیاہے!

مزید :

رائے -کالم -