خواجہ غلام فرید ؒ کا عرس گیارہ نومبر سے شروع،تقریبات محدود

خواجہ غلام فرید ؒ کا عرس گیارہ نومبر سے شروع،تقریبات محدود

  

   راجن پور،مٹھن کوٹ،جام پور (نمائندہ خصوصی،نامہ نگار،نمائندہ پاکستان،ڈسٹرکٹ رپورٹر)11نومبر سے شروع ہونے والے مٹھن کوٹ میں عظیم صوفی شاعر وروحانی (بقیہ نمبر33صفحہ6پر)

بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید کے عرس کو محدود کرنے اور اس پر ثقافتی اور تجارتی پابندیوں کو ہر گز قبول نہیں کیا جاسکتا اس سلسلہ میں ضلعی ایڈمنسٹریشن کی دوہری پالیسی کی بھرپور مزمت کرتے ہیں ایک ہی ضلع میں میلہ جام پور،میلہ نوتک،میلہ حسین شاہ لگ سکتا ہے تو پھر خواجہ فرید کے عرس پر پابندی کیوں اگر انتظامیہ نے دوہری پالیسی ختم نہ کی تو 9 نومبر کوکچہری چوک راجن پور پر بھوک ہڑتالی کیمپ لگائیں گے ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی اتحاد کے سربراہ خواجہ غلام فرید کوریجہ نے جھوک فرید پر  سرائیکستان قومی اتحاد کے زیر اہتمام منعقدہ تحفظ عرس خواجہ فرید  و استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا.انہوں نے کہا کہ ہم شدت پسند سوچ کے خلاف ہیں لیکن بدقسمتی سے انتظامیہ میں اسی سوچ کو پروان چڑھایا جارہا ہے  جوکہ انتہائی افسوسناک ہے حضرت خواجہ غلام فرید کا عرس جوکہ  سرائیکی وسیب کی بہت بڑی روحانی،ثقافتی وتجارتی سرگرمی ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اس قسم کے اقدامات سے سرائیکی وسیب کے لوگوں میں احساس محرومی کا پایا جانا فطری عمل ہے جو کہ فیڈریشن کو کمزور کرسکتا ہے جو  کہ ملک کی بقاء اور استحکام کے لیے خطرناک ہے کانفرنس سے دیگر مقررین قاری محمود قاسمی،علامہ خورشید رضآ،راو غلام اکبر،جام فیض اللہ وغیرہ نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عظیم صوفی شاعر وروحانی بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید کے عرس کی تقریبات کو محدود کرنے کی بجائے عرس پر میلہ لگانے کی اجازت دی جائے جس سے شہریوں کا سال بھر کا روزگار وابستہ ہے اس موقع پر متفقہ طور پر ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں شدت پسندانہ سوچ،دہشت گردی اور عرس پر لگائی جانیوالی پابندیوں کے خلاف شرکا نے کثیر تعداد  میں کھڑے ہو کر اس قراداد کی حمایت کی اس موقع پر جلیل الرحمان صدیقی سابق چئیرمین امن مصالحاتی کمیٹی راجن پور،ضلعی امیر اہلسنت قاری خورشید احمد رضا،جام زاہد گھلیجہ،جام فیض اللہ،مظہر قادری،راو غلام اکبر،غلام شبیر کھوکھر رانا ریاض قیوم،رانا ارشد،رانا افضل،محمد خسین گوپانگ،سید فرخ شاہ،بھٹو خان گوپانگ،جام اسلم کے علاوہ سیاسی سماجی شخصیات کی کثیر تعداد شریک تھی۔

غلام فرید

مزید :

ملتان صفحہ آخر -