داعش کے 55عسکریت پسندوں کا ہتھیار ڈال کر طالبان کی حمایت کا اعلان

داعش کے 55عسکریت پسندوں کا ہتھیار ڈال کر طالبان کی حمایت کا اعلان

  

     کابل، مزارشریف(نیوز ایجنسیاں)افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے شورش زدہ مشرقی صوبہ ننگرہار میں داعش کے پچاس سے زائد عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈا ل کر طالبان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پاک افغان سرحد پر واقع افغان صوبہ ننگرہار کے صدر مقام جلال آباد میں طالبان کے انٹیلی جنس ہیڈکوا ر ٹر کے دفتر سے جاری سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشتگرد گروپ داعش سے وابستہ 55جنگجووں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ ننگرہار میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی ڈاکٹر بشیر نے قبائلی عمائدین کی ثالثی کے ذریعے ان سابق جنگجوؤں کو مشروط معافی دی جو کوٹ، اسپن گھر اور اچین اضلاع میں دہشتگرد سرگرمیاں انجام دے رہے تھے،بیان میں مزید کہا گیا کہ ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں نے اپنے ماضی کے اعمال پر افسوس کا اظہار کیا اور امارت اسلامیہ کے تحت پرامن طریقے سے رہنے کا عزم کیا۔ادھر افغانستان کے شما لی صوبہ مزار شریف میں مبینہ طور پر چار خواتین ورکروں کو ورغلا کر قتل کردیا گیا جن کی لاشیں ایک گھر کے اندر سے برآمد ہوئیں۔ ابتدائی طور پر ان خواتین کو ہلاک کرنے کے شبہ میں دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن سے تفتیش جاری ہے۔ فوری طور پر مقتول خواتین کی شناخت نہیں ہوسکی تاہم ایک خاتون کا تعلق انسانی حقوق کی تنظیم سے بتایا جاتا ہے، لیکن اس خاتون کے اہل خانہ میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی نے ایک ویڈیو بیان میں واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہفتہ کے روز مزار شریف شہر کے پانچویں ضلع میں ایک گھر سے چار نامعلوم خواتین کی لاشیں ملیں جن کے قتل میں ملوث ہونے کے شبہ میں دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے، زیر حراست افراد نے ابتدائی پوچھ گچھ میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ان خواتین کو گھر میں مدعو کیا تھا۔ ترجمان کے مطابق کیس عدالت میں بھیج دیا گیا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق چاروں خواتین آپس میں دوست اور ساتھی تھیں جنہوں نے ملک سے باہر پرواز کیلئے مزار شریف ایئرپورٹ جانے کی خواہش ظاہر کی تھی، جبکہ انسانی حقوق تنظیم کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر غیر ملکی میڈیا کو بتایا ان خواتین کو ایک کال موصول ہوئی جس میں مبینہ طور پر انہیں ملک سے باہر جانے کی پرواز میں شامل ہونے کی بات کی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق چاروں خواتین کو ایک کار میں بٹھا کر گھر لایا گیا تاہم بعد میں انہیں مردہ پایا گیا۔

افغان طالبان

مزید :

صفحہ اول -