پی ڈی ایم کا صوبوں میں مہنگائی مارچ کا فیصلہ،دسمبر میں حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان،پارلیمنٹ میں نیب ترمیمی آرڈیننس سمیت دیگر 18بلز کی منظوری روکنے پر اتفاق

پی ڈی ایم کا صوبوں میں مہنگائی مارچ کا فیصلہ،دسمبر میں حکومت مخالف تحریک ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،نیو زایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت کیخلاف لانگ مارچ کا اعلان کردیا، اس سے قبل چار وں صوبوں میں ”مہنگائی مارچ“ ہونگے جبکہ لانگ مارچ کی تاریخ کا حتمی فیصلہ 11 نومبر کو پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں ہو گا۔ یہ اعلان ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کیخلاف احتجا ج کی حکمت عملی پر غور کیلئے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل جماعتو ں کے اجلاس میں کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوئے پی ڈی ایم کے ورچوئل سربراہی اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور بڑھتی مہنگائی کے مسئلے پر بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں قائدمسلم لیگ ن نوازشریف، صدر مسلم لیگ ن  شہباز شریف، نائب صدر مسلم لیگ ن نائب صدرمریم نواز، محمود اچکزئی، سردار اختر مینگل اور آفتاب شیرپاؤ شریک ہوئے۔ اجلا س میں حکومت مخالف تحریک میں تیزی لانے کیلئے اہم فیصلے کئے گئے ہیں، مہنگائی کیخلاف احتجاجی ریلیوں اور جلسوں کا سلسلہ جاری رہیگا۔لانگ مارچ کی تاریخ کا حتمی فیصلہ 11 نومبر کو پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں ہو گا۔ سربراہی اجلاس اسلام اباد میں ہو گا، جبکہ اجلاس میں بعض شرکاء نے رائے دی ”لانگ مارچ“ کی تاریخ کا اعلان لاہور جلسے کے بعد کیا جائے۔ مہنگائی مارچ مرحلہ وار صوبائی سطح پر ہوگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا 13 نومبر کو کراچی، 17 نومبر کو کوئٹہ، 20نومبر کو پشاور اور لاہور میں 29 یا 30 نومبر کو مہنگائی مارچ کئے جائینگے۔ اجلاس میں دس نومبر کو ہونیوالے پار لیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے بھی حکمت عملی پر غور کرتے ہوئے ای وی ایم، نیب ترمیمی آرڈیننس سمیت مختلف 18 بلز کی پارلیمنٹ سے منظوری رکوانے کی حکمت عملی طے کرتے ہوئے اپوزیشن کے تمام ارکان کو پیر کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی گئی۔پی ڈی ایم نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو بھی مسترد کر دیا اور کہا سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کا میکنزم تبدیل ہونا چاہئے۔11نومبرکو ہونیوالے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں انتخابی اصلاحات بلز روکنے کیلئے پیپلز پارٹی کیساتھ بھی مشترکہ حکمت عملی بنانے کی مشاورت  کی جائیگی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن نے کہا حکومت نے مہنگائج بڑھا کر عوام پر مظالم کے پہاڑ گرا دئیے ہیں، ہمیں عوام کو اور خود کو گھر و ں سے نکالنا ہو گا،حکومت کو مذید وقت دینا عوام اور ملک سے زیادتی ہو گی۔ پی ڈی ایم اجلاس کے بعد حکومت مخالف اتحاد کے سیکرٹری جنرل شاہد خاقان عباسی نے اعلامیہ جاری کیا۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، بدترین مہنگائی، نیب آرڈیننس، نام نہاد انتخابی اصلاحات اور ملک کو درپیش داخلی و خارجی امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، ملک میں بدترین مہنگائی کی شدید مذمت کی گئی، بجلی، گیس، پٹرول، چینی اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بدترین اضافہ مسترد کر دیاگیا۔ حکومت کی عوام دشمنی کیخلاف فیصلہ کن تحریک چلانے پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت صوبائی دارالحکومتوں میں بھرپور احتجاجی ریلیوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق پی ڈی ایم نے مطالبہ کیا کہ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیکر عوام کو فوری ریلیف دیا جائے، مہنگائی کی بنیادی وجہ عمران خان حکومت کی تاریخی کرپشن ہے، آئی ایم ایف سے طے پانیوالی شرائط عوام کے سامنے لائی جائیں، اعلامیہ میں کہاگیا حکومت کیخلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کی حکمت عملی طے کر لی گئی، پارلیمنٹ میں تمام جماعتوں سے مل کر حکمت عملی کی تیاری کی ذمہ داری قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو سونپ دی گئی۔ اجلاس نے ڈسکہ دھاندلی رپورٹ میں قصوروار قرار پانے والوں کیخلاف فوری قانونی کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ثابت ہوا کہ مسلط ٹولے نے ووٹ چوری کی، عملے کو اغوا کرایا، ووٹ چوروں اور اغوا کاروں کو سزائیں دی جائیں۔شاہد خاقان عباسی نے اجلاس کے بعد بتایا پی ڈی ایم نام نہاد انتخابی اصلاحات پر حکومتی اقدامات کو 2018ء کے الیکشن فراڈ سے بڑا فراڈ سمجھتا ہے، یہ ملک وقوم کے حق انتخاب کی نفی اور الیکشن چوری کرنے کی بد ترین حکومتی سازش ہے،جسے ناکام بنائیں گے۔ اب یہ تحریک عمران خان کو گھر بھجوا کر ہی ختم ہو گی، عوام مزید ایک لمحہ بھی عمران نیازی حکومت کو برداشت کرنے کو تیار نہیں،انہوں نے کہا اجلاس نے نیب ترمیمی آرڈیننس، انتخابی اصلاحات، ای وی ایم اور انٹرنیٹ ووٹنگ کو بد نیتی قرار دیا۔

پی ڈی ایم 

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) شہباز شریف نے سراج الحق اور محمود خان اچکزئی سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی حکمت عملی اور نیب ترمیمی آرڈیننس پر بات چیت کی۔ تینوں رہنماؤں نے مہنگائی کیخلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور ردعمل دینے پر اتفاق کیا، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بدترین مہنگائی کیخلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور ردعمل دینے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی شہباز شریف کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا نیا پاکستان مہنگا ترین پاکستان بن چکا ہے، پی ٹی آئی عوام کیلئے پریشانی، تکلیف اور انتقام بن چکی ہے۔بعدازاں  شہباز شریف نے  سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے  وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کر دیااورکہا آٹا، چینی، گھی، دوائی، بجلی، گیس، پٹرول، معیشت، مہنگائی پر بس نہیں چل رہا تو استعفیٰ دینا تو عمران خان کے بس میں ہے، لہٰذاعمران خان استعفیٰ لکھ کر عوام کو فوری ریلیف دیں، چینی کے بعد پٹرول اور اس پر بجلی کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ عوام پر مہنگائی کی بمباری ہے، ظلم کی یہ حکومت نہیں چل سکتی۔ دریں اثنا ء سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے  مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اور مسلم لیگ (ن)عوام کے احسا سا ت کی ترجمانی، ان کی تکالیف کا مداوا کرنا اور آواز بننا چاہتے ہیں۔ نااہل حکمران کا مسلط کردہ مہنگائی کا شدید عذاب، فاقہ کشی سے تنگ آئے لوگوں کی خودکشیاں، ہر شعبے میں خطے کا سب سے پسماندہ ملک بنا دینے کے بعد بھی اوپر سے نیچے تک جھوٹ کا کاروبار جاری ہے۔جب حکمران کا دل عوام کی ہمدردی اور آنکھ حیا ء سے عاری ہو جائے تو یہی ڈھٹائی دیکھنے میں آتی ہے۔ آدھی سے زیادہ آبادی غربت کے گڑھے میں داخل کر دینے کے بعد بھی گز بھر کی لمبی زبانیں ان ہی کی نکل سکتی ہیں جو غریب کا درد نہیں جانتے۔ ذرا پوچھو لوگوں سے وہ 2017 والا نواز شریف کا پاکستان چاہتے ہیں یا تمہارا غربت، مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی، دہشتگردی اور فاقہ کشی والا پاکستان؟۔مریم نواز نے عوام سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں اس سلسلے میں ہمارا سب سے موثر اور انتہائی اقدام کیا ہونا چاہیے؟۔

شہباز، مریم

اسلام آباد (نیوزایجنسیاں)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے ناکام اور عوام سے مسترد شدہ سیاسی بیروزگاروں نے سیاسی آکسیجن حاصل کرنے کیلئے ایک اور بیٹھک لگائی،بارہا انہیں سمجھایاسیاست میں اپنی جگہ بنانے کیلئے اجلاسوں کی تاریخیں نہیں، اپنے لچھن بدلیں، مولانا کی امامت میں ان کے احتجاج کا مستقبل پہلی تحریکوں سے ہرگز مختلف نہ ہوگا۔ پی ڈی ایم کے اجلاس اور اس میں کئے گئے فیصلوں اور اعلانات پر اپنے ردعمل میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری فواد نے کہا انہیں یہ بھی سمجھایا کہ عوام کے دلوں تک کا راستہ سازشوں سے نہیں اپنے کرتوتوں سے توبہ کرکے ہموار کیا جاسکتا ہے، مگر سیاسی بیروزگاروں کی انجمن کا فیصلہ ہے کہ پاکستان میں کسی اچھے کام کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وفاقی و زیر نے کہامعیشت کی تباہی کی بنیاد رکھ کر یہ جس غریب عوام پر عرصہ حیات تنگ کرکے گئے وزیراعظم مسلسل ان کے دکھوں کا مداوا کرنے میں مصروف ہیں۔ 120 ارب کے تازہ ترین ریلیف پیکیج کے سامنے آتے ہی اس گروہ کو اپنا مستقبل مستقل تاریکیوں کی نظر ہوتا دکھائی دے رہا ہے، وزیراعظم کے اعلان کردہ پیکیج سے اشیائے ضروریہ رعایتی نرخوں پر عوام کو دستیاب ہوں گی۔ وفاقی وزیر نے کہاگزشتہ روزکی بیٹھک کا دوسرا بڑا فیصلہ کہ انتخابات میں شفافیت کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، یہ گروہ چاہتا ہے انتخابات میں دھاندلی کے دروازے کھلے رہیں تاکہ ان کی بقاء کے امکانات زندہ رہیں۔انہیں انتخابی نظام کی تطہیر اور معیشت کی تعمیر میں رکاوٹ بننے دیں گے نہ اس ایجنڈے سے پیچھے ہٹیں گے، یہ بازو ہمارے آزمائے ہوئے ہیں کسی دھونس اور دھمکی سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ قومی معاملات اور آئین و قانون کی بالادستی کیلئے وکلاء برادری رہنمائی کرے، بار ایسوسی ایشنز سیاسی جماعتوں کو بڑی اصلاحات پر قریب لانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں، انتخابی اصلاحات، نیب آرڈیننس سمیت دیگر اہم قانون سازی میں وکلاء اور بار ایسوسی ایشن کے کردار کا خیر مقدم کریں گے، نیب آرڈیننس کو چیلنج کرنے کی بجائے اصلاحات تجویز کریں، بار اور بینچ کے درمیان وکلاء پل کا کردار ادا کرتے ہیں، اس کردار کو قومی معاملات میں بھی اپنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کی قیادت میں نومنتخب عہدیداران سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ معاشرے میں قانون کی بالادستی کے لئے وکلاء برادری کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے، بار ایسوسی ایشنوں کو عدلیہ میں زیر التواء مقدمات جلد نمٹانے کے لئے اپنی کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری محمد احسن بھون نے کہا کہ عدلیہ کی بقاکے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے، وکلاء برادری نے ہم پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، انشاء اللہ اس پر پورا اتریں گے، اہم عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے، حکومت اور اپوزیشن سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر بڑی اصلاحات کیلئے آگے بڑھیں۔ ملاقات کرنے والے وفد میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری محمد احسن بھون، نائب صدر (پنجاب) خاور اکرام بھٹی، سیکریٹری وسیم ممتاز ملک، چوہدری ریاست علی گوندل ایڈیشنل سیکریٹری، نائب صدر (سندھ) عزیز احمد خان، اراکن ایگزیکٹو کمیٹی (سندھ) جان علی جونیجو، ذوالفقار حیدر شاہ، اراکین ایگزیکٹو کمیٹی (پنجاب) رانا اختر علی، چوہدری طارق جاوید شامل تھے۔

فواد 

فواد چوہدری

مزید :

صفحہ اول -